مودی جی جیسا کوئی نہیں – واہ مودی جی واہ __!
محمد صابر حسین ندوی
Mshusainnadwi@gmail.com
7987972043
وزیراعظم نریندر مودی سے لاکھ اختلاف سہی لیکن ان کی سمجھ بوجھ، عقلمندی، سیاسی سوچ، فکری صلابت، ہندی زبان کی مہارت، بہترین ادائیگی، اچھوتا انداز، اور دل لبھا لینے والا بیان، لمحہ لمحہ چہرہ بدل لینے والی صلاحیت، وقت کی نزاکت کو سمجھ کر جواب دینے اور مدمقابل کو مبہوت کردینے کی قابلیت اور اپنا مقصود و کام کو سونا بنا کر خواہ وہ غلاظت ہی کیوں نہ ہو پیش کرنے کا ہنر بہت ہی انوکھا اور نادر نہیں تو کمیاب ضرور ہے، جسے ہر حال میں ماننا ہی پڑے گا، اگر منصف مزاج ہیں تو بلاشبہ اپنے وزیر اعظم کی بلندی قبول کرنی پڑے گی، تاویلات کہ دنیا کیسی ہوتی ہے، باتوں کو خلط ملط کرنے اور لوگوں کو مدعی میں الجھا دینے کی کوشش کیا ہوتی ہے اور کس طرح انہیں آنسو اور بھاشن کا معجون دیا جاتا ہے وہ مودی جی سے بہتر کوئی نہیں جانتا، اس شخص نے گجرات سے شروعات کر کے ہندو مسلم اور آر ایس ایس کی چڈی پہن کر آج دنیا کو ننگا کرنے کی Capability پائی ہے، آکسفورڈ کا پڑھا ہوا، کیمبرج کا فلسفی اور برطانیہ کا ماہر بھی اس کے سامنے پانی مانگتا ہے، دراصل یہ ضابطہ ہے کہ پارلیمنٹ کا سیشن دونوں ایوانوں کے مشترکہ اجلاس سے شروع ہوتا ہے، اور صدر جمہوریہ کے ذریعے اس میں حکومت کی کارکردگی اور مستقبل کی پالیسیوں کا ذکر ہوتا ہے، اصول یہی ہے کہ ایوان میں لمبے مباحثے کے بعد حکومت اس پر شکریہ کی تحریک پیش کرتی ہے جس کی کامیابی حکومت کے استحکام کا ثبوت بنتی ہے، لوک سبھا میں آج وہ مرحلہ تھا، اور وزیراعظم کو مباحثوں کا جواب دینا تھا، مودی جی کا خطاب شروع ہوتے ہی کانگریس پارٹی نے اجلاس کا بائیکاٹ کیا، اور اس کے ممبران ایوان سے اٹھ کر باہر چلے گئے، پھر بھی انہوں نے بلا کسی ہچکچاہٹ اور تردد و تکلف کے ہی اپنی بات شروع کی، پورے اعتماد اور خاص انداز میں اپنی بات رکھی، دوٹوک جواب دیا، مودی جی نے بحث کے دوران اٹھنے والے ممبران کے اشکلات کو رفع کرنے کیلئے لمبی تقریر کی، صدر جمہوریہ نے جن مدعی کو اٹھایا تھا ان کی تشریح کی تھی، خاص طور پر کسان بِل پر مہر لگا چکے صدر کے دو جملے پر مزید روشنی ڈالی، اگرچہ پوری تقریر سننے کے قابل ہے؛ لیکن کم از کم وہ حصہ تو ضرور سننا چاہیے جس میں کسان بل کے متعلق جواب دیا گیا ہے، اپنی سرکار اور اس کی کارکردگی کے متعلق بیانیہ پیش کیا گیا، اگر کسی نے سنی ہے تو وہ گواہی دے گا، اور اٹھ اٹھ کر یہی کہے گا کہ مودی جی سے زیادہ صاحب عقل دنیا میں کوئی دوسرا نہیں ہے، انہوں نے بڑی خوبی کے ساتھ بتایا کہ یہ ضروری نہیں کہ کوئی قانون کی مانگ کرے، لوگوں کی طرف سے کوئی تحریک اٹھے؛ بلکہ ترقی پذیر ممالک کیلئے یہ ضروری ہوتا ہے کہ وقت بہ وقت نئے قانون بنایے، پچھلے قوانین کی سدھار کرے، پھر اس کے بعد مودی جی نے معاشی اصلاحات اور سماجی اصلاحات کو ایک ہی دھاگے میں پِرو کر پورے ایوان کو ہی سکتہ میں ڈال دیا، قدیم قوانین جیسے جہیز کے متعلق کسی نے کہا نہیں تھا کہ قانون بنایا جائے، شادی کی عمر طے کرنے، لڑکی کو میراث دینے اور خواتین کو ورک فورس میں شامل کرنے کیلئے جو بھی قوانین بنے اس کے متعلق یہ کبھی نہیں کہا گیا کہ وہ بنیں، عظیم سماجی مصلح راجا رام موہن رائے اور امبیڈکر جی جیسے عقلمندوں سے کسی نے نہیں کہا تھا کہ وہ معاشرتی اصلاحی کام کریں؛ لیکن سماج کی ضرورت اور ترقی کیلئے جو لازم ہوتا ہے وہ کرنا پڑتا ہے، پھر مودی جی نے اپنی سرکار کے اہم فیصلے بھی شمار کروائے، جیسے آیوشمان یوجنا کیلئے کسی نے کہا نہیں تھا کہ لوگوں کی صحت کا خیال کرتے ہوئے ان کیلئے پالسی لائی جائے مگر پھر بھی ہم لیکر آئے.
اسی طرح عوام کے پیسوں کی حفاظت اور سرکاری اسکیموں سے استفادہ کیلئے بینک کھاتا کھلوانے کی جو مہم چلائی گئی اس کے بارے میں بھی عوام نے کوئی میمورنڈم نہیں دیا تھا، بلکہ ہم نے خود کیا، اور سُوَچھ بھارت کی تحریک کیلئے کسی نے بھی نہیں کہا تھا مگر پھر بھی ہم نے کیا، بیت الخلاء بنوانے کی تحریک چھیڑنے کیلئے کسی نے مجبور نہیں کیا تھا، مگر پھر بھی ہم. نے دس کروڑ بیت الخلاء بنوائے، غرض یہ کہ ملک کو ترقی دینے کیلئے کچھ کام کرنے پڑتے ہیں، ذمہ داری لینی پڑتی ہے، جو ہم نے لی ہے اور ہم کر رہے ہیں، نیز ابھی کسان بل کے متعلق یہ باتیں کہی جارہی ہیں کہ ہم نے نہیں مانگا تو کیوں دیا؟ بالکل ہم نے دیا؛ لیکن ہم نے تھوپا نہیں، اس فرق کو سمجھئے! جو قانون پہلے تھا وہ اب بھی باقی ہے، چونکہ ہمارا ملک بہت بڑا ہے، تو ہوسکتا ہے کہ اس قانون کا فائدہ ہو اور کہیں نہ ہو؛ لیکن اگر کوئی اس ضابطہ میں کام نہ کرنا چاہے تو نہ کرے، پھر اس بات پر بہت زور دیتے ہوئے کہا کہ ہم کوئی دانویر سائی نہیں ہیں جو ہم سے کوئی مانگے گا تو ہم دیں گے، وہ دن گئے، وہ سرکار بھی گئی جس نے لوگوں کو مانگنے پر مجبور کیا، اب سرکار ہماری ہے، عوام کی ہے، ان کی بھلائی کیلئے جو مناسب ہوگا وہ کیا جائے گا، مودی نے پھر اپوزیشن کو آندولن جیوی کہا کہ یہ لوگ بَس آندولن کو بھڑکاتے ہیں اور دیش میں بدامنی پھیلاتے ہیں، انہیں پر ان کی سیاست ٹِکی ہوئی ہے، چنانچہ جو کام ہم نے کیا ہی نہیں اس کے بارے میں سوچ سوچ کر تشویش پیدا کرتے ہیں، ابھی سپریم کورٹ کا کوئی فیصلہ آجائے تو اس پر آئندہ کے شوشے چھوڑے لگتے ہیں، اس میں ایک خاص بات اور تھی وہ یہ کہ انہوں نے طلاق قانون کو بھی کہا کہ کسی نے مانگا نہیں؛ لیکن سماجی اصلاح کیلئے ہم لیکر آئے، یہ ایک اہم نکتہ ہوسکتا ہے کہ کس طرح سرکار اپنے مفادات کیلئے قوانین بناتی ہے، صرف اسی ایک جزو کو لے لیا جائے تو سمجھ میں آجائے گا کہ مودی نے اوپر جتنی باتیں کہیں وہ سب صرف فلسفیانہ انداز میں کسی کو مبہوت کرنے کیلئے ہیں، وہ کام جو بھی کرتے ہیں اس میں اعلی سطح کا جھول ہوتا ہے، یہ تو سچ ہے کہ عموماً جن سماجی اصلاحات کا وہ حوالہ دے رہے ہیں ان سب سے بہتری پیدا ہویی ہے؛ لیکن یہ تو جگ ظاہر ہے کہ مودی جی کے ذریعے پیدا کئے گئے تمام اصلاحی کاوشیں کرپشن اور جھول پر مبنی ہیں، بینک کھاتا ہو، سوچھ بھارت ہو یا پھر طلاق قانون سبھی نے سماج میں زبردست کشمکش پیدا کی ہے، ساتھ ہی بابا امبیڈکر کی وہ بات انہیں بتانی چاہیے کہ سماجی اصلاحات الگ ہوتی ہیں اور معاشی اصلاحات الگ ہوتی ہیں، جب ان میں ٹکراؤ ہو تو برتری سماجی فوائد کو دیا جاتا ہے، یہ ایک سادہ سی بات ہے، مگر پھر بھی واہ مودی جی واہ____ کیا خوب انداز ہے، آپ کا حق ہے کہ دیش کی سب سے اعلی کرسی اور طاقت آپ کے پاس ہو اور آپ یونہی اپنی اعلی صلاحیت سے اصلاحات کریں اور سب کو فکر فن کی مہارتیں دکھاتے رہیں !!!!
Comments are closed.