"درد اور دوا”

 

ماہ مریم

کبھی کبھی لکھنے کے لیے لفظوں کی نہیں اس احساس کی ضرورت ہوتی ہے جو پڑھنے والا محسوس کر سکے.قہقہہ لگانے کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ آپ کو تکلیف نہیں ہوتی.کبھی کبھی قہقہہ کرب کی اس انتہا پر لگایا جاتا ہے جہاں ہم بے بس ہوتے ہیں . اتنے بے بس کہ ہم اپنے من کو ہلکا کرنے کے لیے رو نہیں سکتے کیونکہ رونے کے لیے بھی ہمیں کوئ کندھا چاہیے ہوتا ہے مگر ہمارے کرب کو سمجھنے والا کوئ نہیں ہوتا. ہم بہت بے بس ہوتے ہیں رشتوں کے معاملے میں.جب سب ساتھ ہوتے ہیں تو لگتا ہے یہی ہماری دنیا ہے.ان کے بنا ہم کچھ بھی نہیں ہیں.

مگر وقت بہت بڑا طمانچہ ہے یہ ہمیں وہ سب کچھ دکھاتا ہے جو ہمارے وہم و گمان میں بھی نہیں ہوتا.اور ہمارا خلوص! وہ طمانچہ جو ہمارے خلوص کے بدلے میں پڑتا ہے ہماری بنیادیں ہلا کر رکھ دیتا ہے.ہم اس وقت بالکل اکیلے ہو جاتے ہیں .یہ بھیڑ, یہ ہجوم بھی ہماری اذیت کو کم نہیں کرتا جو ہم محسوس کر رہے ہوتے ہیں.اپنوں کے دیے گئے گھاؤ ہمیں توڑ دیتے ہیں.اور ایسے میں ہماری ذات ایسے ہوتی ہے جیسے گھنے بادلوں کے پیچھے تنہا چاند. ہمیں لگتا ہے کہ اس ہجوم میں کوئ تو ایسا ہو گا جو ہمارے اس کرب کو سمجھے گا مگر یہ تو دنیا ہے یہاں سب اپنے لیے جیتے ہیں.ہم کسی کی زندگ میں کوئ اہمیت نہیں رکھتے.جب ہم دنیا کے اس جھمیلوں سے تھک جاتے ہیں اور کوئ راستہ نظر نہیں آتا.. ایسے وقت میں ہمارا وجود ایک بے کار شے لگتا ہے. ہمیں لگتا ہے کہ یہ کرب ہماری جان لے لے گا. ہمارے گھاؤ ہمیں اندر سے ختم کر دیتے ہیں. ہمارا جسم باہر سے جی رہا ہوتا ہے مگر روح اندر سے مر جاتی ہے. اس قدر بے بسی پر دل چاہتا ہے کہ کن پٹیوں ہا تھ رکھ کر زور سے دبا یا جاۓ تا کہ اس خون کے ساتھ بے بسی بھی بہہ جاۓ مگر ایسا کرنا بھی ہمارے بس میں نہیں ہوتا. تب ہمارا دل چاہتا ہے کہ اُڑ کر کہیں ایسی بستی میں چلے جائیں جہاں کوئ بھی نہ ہو. ہم بالکل اکیلے ہو جاتے ہیں سب ساتھ چھوڑ جاتے ہیں .ہم ہوتے ہیں یا پھر ہماری ذات . تب ہمارے اندر سے کہی آواز آتی ہے کہ”میں ہوں نہ”.. اس مقا م پر ہمیں محسوس ہوتا ہے کہ ہمارے ساتھ کوئ نہیں ہے مگر وہ ذات ہے جس کے ہوتے ہوۓ ہمیں ان عارضی سہاروں کی ضرورت نہیں تھی. ہمیں جس کی ضرورت ہے وہ تو یہی ذات ہے یا ہمارا صبر. ان عارضی رشتوں کی طرح یہ گھاؤ بھی عارضی ہیں. یہ ذات ہمارے تمام گھاؤ بھر دے گی. ہمارا صبر ہی ہمارے لیے مرہم ہے.کیونکہ صبر کرنے والے یا تو سیکھ جاتے ہیں یا پھر جیت جاتے ہیں .وہ ذات جب ہمارے ساتھ ہے تو ہم اس بات کو جان لیتے ہیں کہ ہم رشتوں, لوگوں, محبتوں حتیٰ کہ دنیا کی ہر شے کے بغیر رہ سکتے ہیں.مگر ہم اللہّٰ کے بغیر نہیں رہ سکتے..♥️?

 

 

Comments are closed.