اختلاط

 

سحر نصیر

اختلاط کا مطلب دوستی ہے۔ہماری زندگیوں میں اکثر اوقات ایسے لوگ آتے ہیں جن کو ہم جانتے تک نہیں لیکن ان لوگوں سے الفت کا اک عظیم رشتہ قائم ہوتا ہے جسے ہم لوگ اختلاط مطلب دوستی کہتے ہیں۔اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہماری زندگی میں جو بھی لوگ آتے ہیں ان سے ہماری دوستی ہو جاتی ہے۔کچھ لوگوں کی شخصیات بھی ہم کو متاثر کرتی ہیں لیکن ان سے ہماری دوستی نہیں ہوتی۔کیونکہ دوستی کسی سے متاثر ہو کر نہیں کی جاتی اور نہ کسی خاص انسان سے کی جاتی ہے بلکہ جس سے دوستی ہو جاتی ہے وہی خاص ہوتا ہے۔دوستی اللّٰہ تعالیٰ کی طرف سے اک عظیم نعمت ہے۔جس کا کوئی نعم و بدل نہیں ہے اور نہ ہی ہو سکتا ہے۔جس نعمت کا ہم جتنا بھی شکر ادا کریں کم ہو گا۔اللہ نے یہ سب رشتے انسان کی رہنمائی کے لیے بنائے ہیں ۔لیکن جس انسان کے پاس یہ سب رشتے موجود ہیں اس انسان کو ان کی قدر نہیں ہوتی قدر تو اس انسان کو ہوتی ہے جس کے پاس یہ انمول رشتے موجود نہیں ہیں ۔اس دنیا میں لوگ اس انسان کو غریب قرار دیتے ہیں جس کے پاس دولت نہیں ہے۔حالانکہ غریب تو وہ ہے جس کے پاس دوست نہیں ہے۔اور جس انسان کے پاس مخلص اور سچا دوست ہے وہ ساری دنیا سے زیادہ امیر ہے۔دوستی وہ خوب صورت رشتہ ہے جو غیروں کو بھی اپنا بنا دیتا ہے۔اگر یہ انمول رشتہ نہ ہوتا تو کوئی بھی کسی پر اعتماد نہ کرتا۔دوستی اللّٰہ تعالیٰ کا انمول تحفہ ہے جس کی وجہ سے لوگ ایک دوسرے پر اعتماد کرتے ہیں۔ایک دوسرے کا خیال رکھتے ہیں۔دوستی کا رشتہ اک خوبصورت باغ کی مانند ہے جس میں ایک بھی پھول مرجھا جاۓ تو سارے کے سارے پھولوں کی زعم میں کمی واقع ہو جاتی ہے۔دوستی کا رشتہ جس قدر مضبوط اور طاقتور ہوتا ہے اس قدر کمزور بھی ہوتا ہے جس میں اک چھوٹی سی غلط فہمی اک دوست کو دوسرے سے دور کر دیتی ہے ۔ہر رشتے کی بنیاد اعتماد پر ہوتی ہے۔جس رشتے میں اعتماد اور بھروسہ نہیں وہ رشتہ زیادہ نہیں چل سکتا۔سچا اور مخلص دوست وہی ہے جو اپنے دوست کی ہر بات پر یقین کرے لیکن اپنی عقل کو بھی استعمال کرے۔یہ دنیا مطلبی ہے تو یقیناً اس دنیا میں آپ کو مطلبی دوست بھی ملیں گے۔دوستی سوچ سمجھ کر نہیں کی جاتی لیکن جب آپ کو پتہ چل جائے کہ یہ انسان میرے اعتماد اور بھروسے کے قابل نہیں تو اس سے دوستی جیسے عظیم رشتے کو قائم رکھ کر اس عظیم نعمت کی نا شکری نہ کریں ۔سچی دوستی کبھی ختم نہیں ہوتی اگر کسی غلطی فہمی کی وجہ سے دو دوست ایک دوسرے سے دور بھی ہو جائیں تو پھر بھی وہ چاہت الفت اور احساس کبھی ختم نہیں ہو سکتا جو ان کے دل میں ہے۔دوست ایک دوسرے کا آئینہ ہوتے ہیں ایک سچا دوست اپنے دوست کی غلطیوں کو دیکھتاہے اور ان کو دور کرنے میں اپنے دوست کی رہنمائی کرتا ہے۔دوست تو قرب مسلسل کے ساتھی ہوتے ہیں۔دوست تو جنت کے ساتھی ہوتے ہیں۔دوست کی تکلیف کا احساس ایک دوست ہی کر سکتا ہے۔دوست تو ہمیشہ ایک دوسرے کے لیے دعاگو رہتے ہیں۔

دوستی وہ عظیم اور انمول تحفہ ہے جس کی قدرو قیمت سے ہر انسان واقف نہیں ہے۔دوستی وہ رشتہ ہے جو ہم اپنے اللّٰہ تعالیٰ سے بھی قائم کر سکتے ہیں ۔اور جو لوگ دوست بنانا پسند کرتے ہیں اور دوستوں کے ساتھ مخلص ہوتے ہیں ۔تو ایسے لوگوں کو اللّٰہ تعالیٰ اپنا دوست بنانا پسند کرتے ہیں ۔اور جس انسان کو اللّٰہ تعالیٰ اپنا دوست بناتے ہیں اس سے زیادہ خوش قسمت انسان کون ہو سکتا ہے ؟اس کے علاؤہ ہمارے پیارے نبی حضرت محمدﷺ نے بھی دوستی کرنے کا حکم دیا ہے۔سچے اور مخلص دوست کے لیے اللّٰہ تعالیٰ کے پاس انعام ہے۔دوستی کا نام ہی پیار محبت چاہت اور اعتماد ہے اور جس انسان میں یہ سب جذبات پائے جاتے ہیں اللّٰہ تعالیٰ ایسے انسان سے راضی ہو جاتا ہے۔اور ایسے انسان کو اللّٰہ تعالیٰ ایک مخلص انسان ضرور عطا کرتاہے۔

اختلاط ہی وہ محبت بھرا رشتہ ہے جس کو ہم جانِ ادا کہیں تو غلط نہیں ہو گا۔دوستی اک پارسا رشتہ ہے۔دوست ایک دوسرے کے وصل کے قیاس میں رہنا پسند کرتے ہیں۔دوستوں کے ساتھ گزارے ہوئے لمحات ہی خوبصورت ہوتے ہیں۔دوست ایک دوسرے کے جان ادا فیضانِ نظر ہوتے ہیں ایک دوسرے کے شناسائی ایک دوسرے سے محبت کرنےوالےایک دوسرے کو تغافل سے نکالنے والے ہوتے ہیں۔دوست ایک دوسرے کی بخت کی دعا کرنے والے ہوتے ہیں۔

جب کوئی دوست اپنے دوست پر شک کرتا ہے اپنے دوست کو اپنے یقین کے قابل نہیں سمجھتا تو ایسا دوست دوستی کے قابل ہی نہیں۔اللہ ہر اک کو اچھا مخلص دوست دے۔اور جو دوست مخلص نہیں ان کو ہم سب کی زندگیوں سے نکال دے۔ہم سب کو بھی اس انمول رشتے کا بھرم رکھنے کی ہمت دے۔

آمین ثم آمین

Comments are closed.