اعتدال پسندی”

 

ناصرہ نواز (سرگودھا)

بہت سی اصطلاحات اپنی اصلی مفاہم سے دور ہو چکی ہیں بلکہ یوں کہنا زیادہ مناسب ہے لوگوں میں ان کے اصلی مفاہم ناپید ہو چکے ہیں۔لوگوں کے مطابق بُرائی کو بُرائی،اور بُرے کو بُرا مت کہیں بس خود اچھائی کرتے جائیں۔حقیت تو یہ ہے کہ اعتدال پسندی قرآن و سنت کا آسمانی حکم ہے۔ یہ نئی اصطلاح ہر گز نہیں ہے۔

ہمارا دین اسلام افراط و تفریط سے پاک ہے اوران لوگوں کی پر زورمذمت کرتا ہے جو اپنی طرف سے دین میں بگاڑ پیدا کرتا ہے۔حقیقت تو یہ ہے کہ انسان اپنے معاملات خواہ وہ دینی ہوں یا دنیوی ان میں غفلت نہ برتے یعنی اللّه تعالیٰ کی مقرر کردہ حدود سے تجاوز نہ کیا جاۓ اور نہ کمی کی جاۓ۔اسی طرح نبیﷺ کی سیرتِ مبارکہ پر بھی کسی زیادتی یا کمی کے بغیر مضبوطی سے عمل پیرا رہیں۔اسلام وہ واحدمذہب ہے جس کا پورا نظام معتدل ہے۔ہمارے اعتقادات میں اعتدال ہے کہ توحید و رسالت یعنی اللہ کو ذات و صفات میں لا شریک اور یکتا سمجھنا،رسول ﷺ کو بشر سمجھتے ہوۓ عام انسانوں سے افضل و برتر اور آعلیٰ معیاررکھنا۔عبادات میں اعمال میں اعتدال رکھنا یعنی نہ عیسائیوں کی طرح غُلو ہو اور نہ یہودیوں کی طرح تقصیر ہو۔

نبی کریمﷺنے صحابہ کرامؓ کو منع فرمایا جب اُن میں سے کسی ایک نے کہا میں رات بھر قیام کروں گا۔دوسرے نے کہا کہ میں ہمیشہ روزے رکھوں گا۔تیسرے نے کہا کہ میں کبھی شادی نہیں کروں گا تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا

"تم لوگ یہ باتیں کرتے ہو اور میں تم سب سے زیادہ رب سے ڈرنے والا ہوں اور اللہ کی ناراضگی سے بچنے کے لیے محنت کرنے والا ہوں اور میں راتوں کو سوتا بھی ہوں،نماز بھی پڑھتا ہوں،میں روزے رکھتا بھی ہوں اور کبھی نہیں بھی رکھتا،میں شادیاں بھی کرتا ہوں۔لہٰذا جس نے میری سنت سے منہ پھیرا وہ مجھ میں سے نہیں۔کیوں کہ تم پر تمہاری آنکھ کا بھی حق ہے،تمہاری جان کا بھی اور تمہاری بیوی کا بھی۔”صحیح البخاری حدیث نمبر 4776۔

معاملات اور تعلقات میں اعتدال کا ہونا بہت لازمی بات ہے۔ ترمذی شریف حدیث مبارکہ ہے کہ:”اپنے دشمن سے بغض و دشمنی بھی دائرہ میں رہ کر کرو ممکن ہے وہ کسی روز تمہارا دوست بن جاۓ۔”کیوں کہ ہم وہ جذباتی لوگ ہیں کسی سے دوستی کرنے پر آئیں تو جان بھی قربان کر دیں اور جب توڑنے پر آئیں تو اُس کی اچھائیاں بھی بھُول جاتے ہیں۔گفتگو میں بھی اعتدال کا ہونا بہت ضروری ہے۔گفتگو میں اچھی اور ضروری بات تک محدود رہا جاۓ اور بلا ضرورت گفتگو سے اجتناب کرنا چاہیے۔آپﷺ نے لوگوں کواونچی آواز سے منع فرمایا۔گفتار و کردار میں اعتدال اور میانہ روی کا درس دیا۔ارشاد نبویﷺ ہے "جو خاموش رہا اس نے نجات پائی۔”

ہمارے نبیﷺ کی ساری زندگی اعتدال کا محور نظر آۓ گی۔ہمارے خالق نے کیسے متوازن اور اعتدال سے اِس کائنات کو تخلیق کیا ہے جس کی وجہ سے پوری کائنات ایک خاص نظام کے ساتھ رواں دواں ہے۔اعتدال کائنات کی ہر چیز میں بقا کی ضمانت ہے۔اور اُس کا انسانی زندگی پر گہرا اثر پڑتا ہے۔افراط وتفریط کے بارے میں انسان کو عِلم ہونا چاہیے کہ یہ زندگی کے ہر شعبے میں مُضر ہے۔عام الفاظ میں اعتدال میں خیر ہی خیر ہے شر نہیں۔اعتدال اور تربیت بھی اہمیت کی حامل ہے اسلام میں تربیت کا مقصد انسان کےلیے ایسے راستے کا انتخاب ہے جس میں اسے دنیوی اور اخروی فائدہ ہو۔تربیت بالخصوص نو جوانوں میں بقیہ تمام اصناف کی نسبت زیادہ ہوتی ہے کیوں کہ نو جوانوں کا دل ایک خالی زمین کی مانند ہوتا ہے جس میں جو ڈال دیا جاۓ وہی قبول کر لیتا ہے۔اس لیے ہمیں اپنے نوجوانوں کو بھی وصیت کرنی چاہیے کہ سنجیدہ فکر کے ساتھ اس امر کو قبول کر لیں جس کی تلاش اور جس کے تجربے کی زحمت سے تمہیں تجربہ کار لوگوں نے بچا لیا ہے۔مشکلات کا مقابلہ بھی اچھی تربیت کے زریعہ ممکن ہے اور با تربیت انسان ہی ہر قسم کی مشکلات کا مقابلہ کر سکتا ہے اور راہِ حق پر چل سکتا ہے۔ایک عقل مند انسان اعتدال کو کبھی نہیں چھوڑتا اور زندگی کے ہر مرحلے میں اس کا خیال رکھتا ہے۔افراط و تفریط کا نتیجہ ندامت اور نقصان ہے جب کہ اعتدال پسندی کا انجام کامیابی،سکون قلب اور اطمینان ہے۔یہ اعتدال ہی ہے کہ ایک انسان غیر ضروری افسوس کا اظہار نہ کرے اور نعمت کے ملنے پر مغرور نہ ہوں۔

بخاری شریف کی حدیث مبارکہ ہے کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا”سب سے بڑا گناہ اللّه تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک کرنا ہے،اس کے بعد سب سے بڑا گناہ کسی ایسے شخص کا قتل ہے جسے قتل کرنا سے الله تعالیٰ نے منع فرمایا ہے،اور اس کے بعد بڑا گناہ والدین کے ساتھ بُرا سلوک ہے۔اس کے بعد آپﷺ نے فرمایا،کیا میں تمہیں بڑے گناہوں میں سے ایک بڑے گناہ کے بارے میں نہ بتاؤں؟اور وہ ہے "جھوٹی گواہی دینا۔”

قرآن مجید میں مسلمانوں کو امت وسط قرار دیا گیا ہے

فکر ،عمل اور کردار میں وہ درمیانی راہ اختیار کرنے والی امت ہے۔ہمیں اس بات کی ازحد ضرورت ہے کہ ہم اپنی تہذیب،تمدن اور اصولوں پر قائم رہیں اور مغرب کی چمک دمک اور اصولوں کو نہ اپنائیں۔اللہ تعالیٰ کا قرآن کریم میں فرمانا ہے کہ "اللہ تمہیں عدل کا حکم دیتا ہے۔عدل کی روح اعتدال ہے اور اعتدال سے ہٹ جانا ہی ظلم کا راستہ ہے۔”

رب تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمیں ہماری زندگی میں صحیح روش پر عمل کر کے ہدایت یافتہ افراد میں شامل ہونے کی توفیق عطاء فرماۓ۔آئیں سچے دل سے عہد کریں کہ اپنے ہر عمل میں اپنے کھانے پینے،پڑھنے سونے،خرچ کرنے،دوڑنے بھاگنے،ہنسنے بولنے ہر کام میں اعتدال سے کام لیں۔اللّه ہم سب کو راہ اعتدال پر چلنے کی توفیق دے۔آمین

Comments are closed.