ہماری بے حس پولس (سانحہ اسلام آباد)

 

از قلم: زبیر ملک/پاکستان

آج ہر آنکھ اشکبار اور دل مغموم ہیں۔ کون سا ایسا روز ہے جب اس ملک میں دل دہلا دینے والے واقعات وقوع پذیر نا ہوتے ہوں؟ ملک پاکستان میں تو بے گناہ لوگوں کے قتل عام کا سارا ٹھیکہ شاید ہماری پولیس نے ہی اٹھا رکھا ہے۔ لگتا تو یہی ہے کہ ہمارے محافظ ہی اب درندے بن چکے ہیں۔ روح کو چھلنی کرنے والے یہ تمام سانحے ہم لکھاری لوگوں کی زندگی پر بھی بڑا گہرا اثر ڈالتے ہیں کیوں کہ ہم منفرد لوگ معاشرے میں ہونے والی ہر اچھائی اور برائی کو بہت قریب سے محسوس کرتے ہوئے اپنے دُکھ کو اپنے قلم کے ذریعے دنیا کے سامنے پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اور اس واقعے نے تو ہر لکھاری کے سینے پر ایسی کاری ضرب لگائی ہے کہ رنج کو کورے کاغذ پر اُتارتے ہوئے اشکوں کا ایک نا ختم ہونے والا سلسلہ حرف آخر کو قلم بند کرنے تک جاری رہا۔ ہمارے پیارے ملک پاکستان کا امن خراب کرنے میں جب پولیس ہی سر فہرست ہو تو دہشتگردی کا کیا رونا! کیوں نہیں سزائیں سنائی جاتی ان ریاستی اداروں بے حس انسانوں کو؟ سانحہ ماڈل ٹاؤن اور سانحہ ساہیوال جیسے دل خراش واقعات میں تو کوئی دہشتگرد ملوث نہیں تھا، پھر کیوں زمہ داروں کا تعین کر کے انہیں سزائیں نہیں سنائی گئی؟ ہاں! اگر ایسا ہوتا تو چند روز پہلے اس معصوم بائیس سالہ نوجوان اسامہ کو سینے میں بائیس گولیاں مار کر بے دردی سے قتل نا کیا جاتا۔ کیا سی-ٹی-ڈی پولیس کو لگام ڈالنے والا کوئی نہیں ہے؟؟؟ سانحہ ساہیوال بھی ان کے کرتوتوں کے کارناموں میں سے ایک تھا، اور اب یہ نوجوان بھی۔ کیا گاڑی کے صرف شیسے کالے ہونے ہر یا چیک پوسٹ پر نا رکنے کی وجہ سے آپ ایک طالبعلم کو اس طرح بے دردی سے قتل کر دیں گے؟؟؟ وہ جو ٹیکسی چلا کر اپنے تعلیمی اخراجات پورے کرنے کی غرض میں تھا، تم نے تو اس کی زندگی ہی تمام کردی۔ کہاں گئی تمہاری وہ ٹریننگ جو سکھائی جاتی ہے کہ ایسی صورتحال میں ایک خاص زاویے سے گاڑی کے ٹائر میں فائر کرو؟؟ اب تو پولیس کے اہلکار بھی تسلیم کر رہے ہیں کہ مقتول بے قصور تھا۔ مگر جا کر پوچھو اُس ماں سے جس نے اسے جوان کرنے میں اپنی زندگی کے بائیس سال صرف کیے ہیں۔ تم نے اس نوجوان کو نہیں، اُس ماں کے سینے میں بائیس گولیاں ماری ہیں جسے اب تم نے لاچار اور ہے بس کردیا ہے۔ تمہاری بندوق سے نکلنے والی ہر ایک گولی نے اُس ماں کی ممتا کا خون کیا ہے۔ اور یہ تمہارے بائیس فائر، اُس ماں کے دل پر بائیس ایٹم بمبز کی طرح گرے ہیں۔ ان کا حساب تو دینا ہی ہو گا۔ ریاست اور اس کے ادارے اس دنیا میں تو شاید تمہیں بچا لیں مگر روز قیامت تمہیں اس کا جواب دینا ہی ہوگا۔

Comments are closed.