محبت اور ویلنٹائن ڈے دو متضاد پہلو:

ازقلم :اقصی نسیم (سیالاکوٹ)

”محبت” ایک ایسا لفظ ہے جو معاشرے میں بیشتر پڑھنے اور سننے کو ملتا ہے۔ اس طرح معاشرے میں ہر فرد اس کا متلاشی نظر آتا ہے اگرچہ ہر متلاشی کی سوچ اور محبت کے پیمانے جدا جدا ہوتے ہیں

جب ہم اسلامی تعلیمات کا مطالعہ کرتے ہیں تو یہ بات چڑھتے سورج کی مانند واضح ہوتی ہے کہ اسلام محبت اور اخوت کا دین ہے ۔اسلام یہ چاہتا ہے کہ تمام لوگ محبت، پیار اور اخوت کے ساتھ زندگی بسر کریں ۔مگر قابل افسوس بات یہ ہےکہ ہمارے معاشرے میں محبت کو غلط رنگ دے دیا گیاہے ۔اگر یوں کہا جائے تو مبالغہ نہ ہو گا کہ محبت کے لفظ کو بدنام کر دیا گیاہے ۔صورت حال اس حد تک بگڑ چکی ہے کہ اگر کوئی شخص کسی سے حقیقی محبت کا اظہار کرنا چاہے تو وہ بھی تذبذب کا شکار رہتا ہے

جبکہ اسلامی تعلیمات یہ ہیں کہ جس سے محبت ہو اس سے محبت کا اظہار بھی کیا جائے ۔

(سنن ابیی داود:5124 )

جہاں محبت کے لفظ کو بدنام کر دیا گیا ہے وہیں ہمارے معاشرے میں محبت کی بہت ساری غلط صورتیں بھی پیدا ہو چکی ہیں ۔اس کی ایک مثال عالمی سطح پر ”ویلنٹائن ڈے” کا منایا جانا ہے ۔ہر سال 14 فروری کو یہ دن منایا جاتا ہے ۔

ویلنٹائن ڈے کے حوالے سے گفتگو کرنے سے پہلے ہم "محبت "کے بارے میں اسلامی نقطہ نظر بیان کرتے ہیں

اللہ تعالی سے محبت :

?✒”اہل ایمان اللہ کے ساتھ محبت کرنے میں بہت سخت ہیں۔”

(البقراء 2:165 )

? رسول اللہ کا فرمان ہے :

"تین چیزیں جس شخص میں پائی جائیں وہ ایمان کی مٹھاس محسوس کرنے لگتاہے ایک یہ کہ اللہ اور اس کا رسول اسے ہر چیز سے زیادہ محبوب ہو ۔”(صحیح البخاری:16 )

?رسول اللہ سے محبت :

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے :”اس زات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اس وقت تک کوئی شخص مومن نہیں ہو سکتا جب تک میں اس کو اس کے والدین اور اولاد سے زیادہ محبوب نہ ہو جاوں۔”(صحیح البخاری :14 )

✒ابو سفیان رضی اللہ عنہ نے قبول اسلام سے پہلے صحابہ کی نبی سے محبت کا اعتراف یوں کیا تھا ۔

?میں نے کسی کو کسی دوسرے سے ایسی محبت کرتے نہیں دیکھا جیسی محبت محمد کے ساتھی اور شاگردوں سے کرتے ہیں "(تاریخ الطبری:216/2 )

اسی طرح صحابہ اکرام سے محبت بھی ایمان کا حصہ ہے۔

Comments are closed.