بچوں کی تربیت کیسے کریں؟
انیلا بتول اعوان (سیالکوٹ)
دورِ حاضر میں یقیناً بچوں کی تربیت ایک اہم مسئلہ ہے. جس کے ذمہ بھی یہ (تربیت) کی ذمہ داری ہے ہر اس شخص سے سوال کیا جائے گا. جیسا کہ والدین اپنی اولاد کی تربیت کس طرح کر رہے ہیں، اساتذہ اپنے شاگردوں کی تربیت کیسی کر رہے ہیں. یہ کہا جا سکتا ہے کہ تربیت ایک ایسا عمل ہے جس سے بچوں کی شخصیت میں نکھار پیداکیا جاتا ہے. یہ تربیت ہی ہے جس کے ذریعے کسی کے خاندان اور نصب کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ایا اس کی تربیت کس نے کی ہو گی. اپنے کیے گئے کام کے بارے میں ہر کسی نے جواب دہ ہونا ہے اسی طرح تربیت کرنے والوں سے بھی اس کے بارے میں پوچھا جائے گا. ہر ذمہ دار شخص پر اپنے ماتحتوں کی تربیت کا فریضہ عائد ہوتا ہے. والدین پر اپنی اولاد کی، اساتذہ پر اپنے شاگردوں کی، نفسیات کا لحاظ رکھ کر صحیح تربیت کرنا لازم اور ضروری ہے رسول اکرم کا فرمان ہے کہ ” مسلمانو! تم میں سے ہر ایک حکمران ہے اور ہر ایک سے اس کی رعیت کی نسبت سوال کیا جائے گا.”
بچپن میں بچوں کے دل کی تختی بڑی صاف و شفاف ہوتی ہے. اس کو جس بھی طرف ڈالو گے تو وہ اسی کی جانب مائل ہوتا چلا جائے گا. بچوں کی نشوونما جیسے ماحول میں ہوتی ہے ویسے ہی اثرات اس کے دل و دماغ پر نقش ہو جاتے ہیں اور اسی پر اس کی آئندہ زندگی کی تعمیر ہوتی ہے. بچوں کی تربیت کے معاملے میں ضروری ہے کہ بچے کے لیے خوش گوار ماحول مہیا کیا جائے، زندگی میں نھی کوئی نامناسب بات یا غیر مہذب حرکات و سکنات نہ کی جائیں جن سے ان پر منفی اثرات مرتب ہوں ایسی تمام باتوں سے پرہیز کرنا چاہیے کیونکہ بچوں کے سامنے جو پیش کیا جاتا ہے بعد میں وہ وہی کرنے کی کوشش کرتے ہیں. ایک مسئلہ یہ ہے کہ جس طرح سے بچوں کا احترام کرنا چاہئے نہیں کیا جاتا ہے. والدین کو لگتا ہے کہ اگر بچوں سے زیادہ پیار اور محبت کا اظہار کیا جائے تو بچے بگڑ جائیں گے اور وہ ان کا احترام نہیں کریں گے. اولاد کی تربیت ایک اہم فریضہ ہے. والدین کی خواہش ہوتی کہ ان کا بچہ ایک اچھا، قابل، ہونہار انسان ثابت ہو تاکہ وہ ایک بہتر انسان بن سکے. مگر بعض والدین سمجھتے ہیں کہ بچوں کو دبا کر رکھا جائے اور ان پر سختی کی جائے تو بہتر ہے کیونکہ کی بچے زیادہ پیار سے بگڑ جاتے ہیں. ایسے والدین بچوں کو صاحب عزت بنانے کی بجائے ان کی عزت نفس کو مار دیتے ہیں. جیسے جیسے بچہ بڑا ہوتا ہے اس کی یہ عادت پختہ ہوتی چلی جاتی ہے. جب ان پر سختی کر کےاور ان کی دھلائی کرتے ہیں تو یہ چیز ان کی شخصیت پر منفی تاثر پیدا کرتی ہے. اس کی وجہ سے ان کو کوئی کچھ بھی کہے وہ لچھ بھی محسوس نہیں کرتے، ان پر کوئی اثر نہیں ہوتا کیونکہ ان کی عزت نفس مر چکی ہوتی ہے اور اس عادت کو اپناتے ہوئے پروان چڑھنے لگتے ہیں. اس لیے بچوں کے ساتھ پیار اور شفقت سے پیش آنا چاہیے. ان کو عزت سے بلایا جائے تاکہ وہ بھی دوسروں کو عزت سے مخاطب کریں. جب بچے کو عزت کی جاتی ہے تو بھی دوسروں سے عزت کی امید رکھتا ہے اور دوسروں کی عزت بھی کرتا ہے.. پھر وقت کے ساتھ ساتھ ان کی یہ عادت مزید نکھرتی جائے گی. اس سے بچے کی شخصیت پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے.
مار بچے میں آپ کا ڈر پیدا کر سکتی ہے لیکن عزت نہیں. اگر دیکھا جائے تو بچے فطرت اسلام پر پیدا ہوتے ہیں. رسول اللہ نے فرمایا کہ "ہر بچہ فطرت سلیمہ پر پیدا ہوتا ہے اس کے والدین اسے یہودی، نصرانی، مجوسی بناتے ہیں. اصلی فطرت تو وہی ہے جس پر اللہ انسانوں کو پیدا فرماتا ہے.”
ایک جگہ حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا کہ "سب سے گھٹیا انسان وہ ہے جو دوسرے کی توہین کرے.” یہ تمام باتیں وہ ہیں جن پر عمل کر کے بچوں کی تربیت بہتر طریقے سے کی جا سکتی ہے. لیکن افسوس کی بات ہے کہ والدین بچوں میں ایسی عادات پیدا کر رہے ہیں جس نے ان میں خود غرضی پیدا ہو رہی ہے. بچوں کو ایک دوسرے کے ساتھ بانٹنا سکھانے کی بجائے ان کو منع کیا جاتا ہے اپنی چیز کسی کو نہیں دینی. یہاں تک کہ جب والدین اگر بچے سے کچھ دینے کا کہہ دیں تو بچے ان کو بھی نہیں دیتے یہی عادات وقت کے ساتھ پختہ ہو جاتی ہیں. جو ان کی شخصیت پر غلط انداز میں تاثر دیتے ہیں. اس کے علاوہ والدین بچوں کو بہتر مستقبل دینے کے لیے دن رات محنت کرتے ہیں تاکہ ان کی تمام ضروریات کو پورا کیا جا سکے لیکن والدین بچوں کو آرام و آسائش فراہم کرنے کے چکر میں ان کی تربیت پر زور نہیں دیتے. جو وقت والدین کو بچوں کو دینا چاہیے وہ نہیں دے پاتے جس کے باعث وہ والدین سے دور ہوتے چلے جاتے ہیں. وہ انہی باتوں کے زیر سایہ پروان چڑھتا ہے پھر ایک وقت ایسا آتا ہے کہ ان کے پاس سب کچھ ہونے کے باوجود بھی محرومی کا شکار رہتے ہیں. ان میں خود اعتمادی پیدا نہیں ہوتی. وہ دوسرے سے ملنے سے بھی گھبراہٹ محسوس کرتے ہیں. جس کی وجہ سے وہ غلط راستوں کا انتخاب کر لیتے ہیں جو ان کی شخصیت کو بری طرح متاثر کرتے ہیں. والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچو کو ان کی سطح پر آ کر سمجھائے تا کہ ان کو غلط راستے پر جانے سے روکا جا سکے. ان میں موجود خود غرضی، انا، بے ادبی کی جگہ ہمدردی، محبت، بانٹنے کی صلاحیتوں کو پیدا کریں. بعض والدین بچوں کو سمجھانے کی بجائے ڈانٹے اور باتیں سناتے ہیں جو کہ ان کو بری کی جانب مائل کرتا ہے. بچے ان باتوں کو ذہن میں رہ پر بڑے ہوتے ہیں. بڑے ہو کر وہ وہ تمام چیزیں ان کی شخصیت کا حصہ بن جاتا ہے جس کی وجہ سے لوگ اس کو اچھا نہیں سمجھتے. بچوں کی تربیت کرتے وقت صرف ان کی ضروریات کو پورا کرنا، ان کو یر آسائش فراہم کرنا، جو چیز وہ مانگ رہے ہیں وہ دلا دینا کافی نہیں ہے بلکہ ضرورت امر کی ہوتی ہے کہ آیا بچہ کیا سوچا رہا ہے؟ وہ کیا محسوس کرتا ہے؟ اس کی پسند نا پسند کو جاننا، اس کی نفسیات کو سمجھنا اور وقت دینا ہے تا کہ وہ ایک بہتر انسان بن سکے. ہر چیز کی بنیاد دین اسلام پر ہی ہے. لہٰذا والدین کو چاہیے کہ اپنے گھر کے ماحول میں دین اسلام کی فضا رکھیں. دین اسلام کے اصولوں نے مطابق بچوں کی تربیت کریں. کیوں کہ کہا جاتا ہے کہ ” صحیح تربیت کر دینا کروڑوں کی ملکیت سے بہتر ہے.” والدین کو چاہیے کہ وہ دین اسلام کے ساتھ ساتھ حالات حاضرہ کے تقاضوں کو بھی مدنظر رکھیں. جیسا کہ حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں کہ
” اپنے بچوں کی تربیت اپنے اخلاق و حالات کے مطابق نہ کرو کیونکہ انہیں ایسے زمانے میں پیدا کیا گیا ہے. جو تمہارے زمانے سے مختلف ہے.”
لہذا جو والدین اپنے بچوں پر اپنی سوچ مسلط کرتے ہیں ان بچوں کی شخصیت کو ماند پڑ جاتی ہے. جو ٹھیک نہیں ہے. اولاد کی شخصیت کو نکھارنے میں گھر کلیدی حیثیت رکھتے ہیں. چونکہ بچہ اپنے ابتدائی اوقات اپنے گھر والوں، والدین اور دیگر افراد خانہ کے ساتھ گزارتا ہے. اس لیے ان کے افعال و کردار بچے کی تربیت میں اہمیت کے حامل ہوتے ہیں. اگر کھر والوں کا کردار اچھا نہیں تو بچہ بھی انہی افراد کے کردار کے مطابق پروان چڑھے گا. بچوں کی تربیت میں والدین کا کردار بنیادی حیثیت رکھتا ہے. لہٰذا والدین کو چاہیے کہ وہ مناسب اور درست روش اختیار کریں اور بچوں کی تربیت دین کے اصولوں کے مطابق کریں تاکہ معاشرے میں ایک باوقار شہری کے طور پر اپنا کردار ادا کر سکے.
Comments are closed.