ویلنٹائن ڈے کی حقیقت اور اس کےحیا سوز اثرات
شرف الدین عظیم قاسمی الاعظمی
دنیا میں موجود تمام مذاہب میں اسلام کو یہ امتیاز حاصل ہے کہ وہ زندگی کے تمام شعبوں اور تمام امکانی جہتوں کی رہنمائی کرتا ہے’وہ چند رسوم و رواج کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک جامع نظام،کامل دستور اور انفرادی واجتماعی حیات کا مکمل اور معتدل سسٹم اور قانون ہے۔ جس میں فرد سے لیکر خاندان اور قبیلے سے لیکر معاشرہ اور رعایا سے لیکر حکومت وقیادت تک ہدایات موجود ہیں، اہل اسلام کے لئے زندگی کے کسی بھی مرحلے میں دوسری اقوام کے خود ساختہ قوانین کو مستعار لینے کی ضرورت نہیں ہے، عقائد ہو یا نظریات،
اخلاقیات ہو یا معاشیات،عمرانیات ہو یا معاشرت، سیاست ہو یا حکومت، کوئی شعبہ ارتقاء آشنا ہدایات اور مستحکم نظام سے خالی نہیں ہے،
اسلام کی اس قدر روشن تعلیمات کے بعد پیروان اسلام کے لئے قطعا اس بات کی گنجائش نہیں رہتی ہے کہ وہ دوسری اقوام سے سامنے تہذیبی،تمدنی، معاشرتی اور ثقافتی سرمایہ کے لئے کاسہ گدائی لے کر دست بستہ کھڑے ہوں، لیکن یہ امر واقعہ ہے کہ مجموعی طور سے امت مسلمہ اس وقت اسی راہ پر کھڑی ہے۔اس نے آنکھیں بند کر کے یورپ کو طرز معاشرت میں اپنا رہنما بنا یا ہے اور بےتحاشہ اس کے تمدن اور اس کی تہذیب کے پیچھے بھاگ رہی ہے، اور دیوانہ وار اس کے تمدن پر فریفتہ ہے۔
اس بات میں شک نہیں کہ دنیا میں فاتح قوموں کے تہذیبی و تمدنی اثرات خطوں اور مفتوحہ قوموں پر غیر شعوری طور پر پڑتے ہیں،اور ملتیں غیر محسوس طریقے پر ان کی ذہنی غلامی کا شکار ہوتی ہیں،ان کی تقلید میں ارتقاء کا راستہ تلاش کرتی ہیں ان کی اتباع میں اپنی زندگی اور اپنے ملک کا روشن مستقبل تصور کرتی ہیں نتیجتاً مجموعی طور سے اپنے امتیازات کھو کر وہ غلامی کی تاریکیوں میں گم ہوجاتی ہیں ،اس کی بنیادی وجہ یہ ھے کہ وہ اقوام کسی معتدل قانون اور منصفانہ ضابطہ حیات کے سرمایہ سے محروم ہوتی ہیں ،ان کے پاس کوئی عالم گیر سسٹم نہیں ہوتا نظریات وعقائد کے سلسلے میں وہ کشمکش کا شکار ہوتی ہیں مذہب کے بارے میں ان کی زندگیاں شکوک وشبہات کے دشت میں سرگرداں رہتی ہیں ان کا اپنا کوئی قابل اعتماد کلچر نہیں ہوتا ہے،تمدنی تاریخ سے ان کا دامن خالی ہوتا ہے۔
اس کے برخلاف اہل اسلام کی پشت پرایک ناقابل تردید آفاقی پیغام ہے،جامع نظام ہے اور زندگی کو ترقی وخوشحالی کی راہوں پر گامزن کرنے والا معتدل دستور ہے،اب اگراس کے باوجود اس کی اکثریت غیروں کی طرز معاشرت اور طرز حیات اور ان کی مذہبی وتمدنی علامتوں اور شعائر کو اختیار کرنے میں ذرا بھی جھجک محسوس نہ کرے بلکہ اس طرز زندگی اور اس کی تقلید پر فخر کرے تو اس سے بڑی حماقت اور اس سے بڑا المیہ اور اس سے زیادہ افسوسناک صورتحال اس روئے زمین پر شاید نہ ہو۔۔
لیکن یہ امر واقعہ ہے کہ کیا عرب اور کیا عجم،کیا دیار غیر اور کیا دیار اسلام؟ ہر مقام اور ہر جگہ انگریزی کلچر اور فرنگی تہذیب کی حکمرانی نظر آتی ہے، انگریزی دنیا میں برتھ ڈے کی تقریب رونما ہوئی تو مسلمانوں نے بھی اسے اپنا لیا بلکہ حد یہ ہے اسی پر قیاس کرکے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس کی بھی سالگرہ منانے کی بدعت جاری کردی گئی، انھوں نے اپنے کپڑے چھوٹے کئے تو برصغیر میں بھی کپڑوں کو کاٹ دیا گیا گیا، انھوں بالوں کی تراش خراش میں حیوانات کی مشابہت کی تو ادھر بھی اس کی عکس بندی ہوگئی، اور لباس خوردونوش میں مکمل انہیں کا طرز عمل اختیار کرلیا گیا۔
ویلنٹائن ڈے اور اس کی مخصوص چودہ فروری کی تاریخ میں بے ہنگم تقریبات اور اس کا اہتمام بھی انہیں بہت سے انگریزی رسوم ورواج اور مذہبی و ثقافتی پروگراموں میں سے ہے جسے مستقبل سے لاپروا اور دنیا وآخرت میں انجام سے بے خبر قوم مسلم کی نئی نسلوں نے پوری شان سے اختیار کرکے اپنی ذہنی غلامی،اسلام بیزاری کا ثبوت پیش کیا ہے، اصل یہ ہے کہ جب انسان احساس کمتری کا شکار ہوتا ہے، اپنی تہذیب وثقافت اسے فرسودہ محسوس ہوتی ہے،اپناکلچر اور اپنا تمدن اور اپنی زبان وطرز زندگی تمام تر جمالیاتی صورتوں کے باوجود بے کیف محسوس ہونے لگتی ہے’تو وہ دوسرے طریقوں کی طرف اسی طرح سرپٹ بھاگتا ہے، جیسے صحرا میں پیاسا مسافر چمکتی ریت کو پانی سمجھ کر اس کی طرف تیز رفتاری سے قدم بڑھاتا ہے،مگرجب قریب ہوتا ہے تب یہ راز کھلتا ھے کہ اس کی حقیقت سراب سے زیادہ نہیں ہے،ٹھیک یہی صورت حال ہمارے یہاں ویلنٹائن دے کے معاملے میں بھی ہے کہ فحاشی وعریانیت اور بدکرداری وبے حیائی کو فروغ دینے والے اس یوم عاشقاں،، کے پردے میں جی بھر کر عیاشیاں کی جاتی ہیں،ہوس رانیوں کا بازار گرم ہوتا ہے، اسلامی تعلیمات کے ساتھ ساتھ مشرقی اقدار حیاباختہ کرداروں کے ذریعے پامال کیا جاتا ہے، اظہار محبت کے نام پر جنسی آرزؤں کی تکمیل ہوتی ہے، اور مستقبل میں اس کے لئے راہیں ہموار کی جاتی ہیں، اسکول،کالج اور دیگر تعلیم گاہیں اس وقت فحاشیوں اور بے حیائیوں کی آماجگاہ بن جاتی ہیں اور یہ سب کچھ اس زعم میں کیا جاتا ہے’کہ ترقی یافتہ دور میں یہ وقت کا تقاضا ہے،جدیدیت کی آواز ہے اور فیشن پرستی کے عہد میں ماڈرن کلچر کی صدا ہے۔
ویلنٹائن ڈے کی تاریخ یہ بتاتی ہے کہ اس کا تعلق سراسر عیسائی مذہب سے ہے یہ اور بات ہے کہ مختلف داستانوں کے باعث اس کی بنیادیں تلاش کرنا بہت مشکل ہے مگر اس میں شک نہیں کہ اب یہ ان کا مذہبی شعار ہے کیتھولک چرچ کی تاریخ میں تین افراد ویلنٹائن کے نام سے مشہور ہیں اور تینوں نے اپنے خود ساختہ نظریات کے لئے جان دی ہے۔
ان تینوں میں سے کس کی یاد میں اس قدر اہتمام کیا جاتا ہے اس کا بھی تعین دشوار ہے،ایک داستان یہ ہے کہ تیسری صدی عیسوی میں جب رومی بادشاہ کلاودیوس کو جنگ کے لئے لشکر تیار کرنے میں مشکل ہوئی تو اس نے اس کی وجوہات کا پتہ لگایا۔بادشاہ کو معلوم ہوا کہ شادی شدہ لوگ
اپنے اہل وعیال اور گھر بار چھوڑ کر جنگ میں چلنے کے لئے تیار نہیں ہیں تو اس نے شادی پر پابندی لگا دی لیکن ویلنٹائن پادری نے اس شاہی حکم نامے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے نہ صرف خود خفیہ شادی رچالی،بلکہ اور لوگوں کی شادیاں بھی کرانے لگا جب بادشاہ کو معلوم ہؤا تو اس نے ویلنٹائن کو گرفتار کیا اور 14/فروری کو اسے پھانسی دے دی، ایک واقعہ یہ بھی ذکر کیا جاتا ہے کہ،،سترھویں صدی عیسوی میں روم میں ویلنٹائن نام کا ایک پادری ایک راہبہ کی محبت میں مبتلا ہوگیا
چونکہ عیسائیت میں راہبوں اور راہبات کے لئے نکاح ممنوع تھا اس لیے ایک دن ویلنٹائن نےاپنی معشوقہ کی تشفی کے لئے اسے بتایا کہ اسے خواب میں یہ بتایا گیا ہے کہ 14/فروری کا دن ایسا ہے کہ اس میں اگر کوئی راہب یا راہبہ جسمانی تعلقات بھی قائم کرلیں تو اسے گناہ نہیں سمجھا جائے گا،راہبہ نے اس پر یقین کرلیا اور دونوں سب کچھ کرگذرے ،کلیسا کی روایات کی یوں دھجیاں اڑانے پران کا حشر وہی ہواجو عموماً ہوا کرتا ہے یعنی ان دونوں کو قتل کر دیا گیا کچھ عرصہ بعد چند لوگوں نے اپنی محبت کا شہید جان کر عقیدت کا اظہار کیا اور ان کی یاد میں یہ دن منانا شروع کردیا(ویلنٹائن ڈے ص 7/بحوالہ برقی میڈیا صادق حسین )
یوں تو یورپ کا پورا سماجی ڈھانچہ اخلاق باختہ اور حیاسوز ستونوں پر کھڑا ہے’اس کا پورا کلچر فکری آزادی،جنسی بے راہ روی ،نفس پرستی اور شہوت پرستی کے دلدل میں ڈوبا ہوا ہے، معاشرتی لحاظ سے اس کی ترقی کی معراج یہ ہے’کہ سرعام ہوس رانیاں رقص کریں،عریانیت وفحاشی اور جنسی آوارگی کا ماحول ہمہ وقت شباب آشنا ہو،یہی وجہ ہے کہ جنسی آوارگی وہاں اس قدر عام ہے’کہ حیوانیت بھی اس طرز عمل پر شرمسار ہے’ایسی صورت میں 14/فروری کی مخصوص تاریخ جو اظہار عشق کے نام پر بے حیائی اور بدکرداری کا بدترین مظہر ہے انسانیت کے دامن کو داغدار کرنے میں،اور اسلامی لباس کو تار تار کرنے میں کس قدر اثر انداز ہوسکتی ہے’اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے، ماحول میں اس قدر تعفن کے باوجود اور فکری آزادی کے نام پر عزت وعفت سے کھلواڑ اور بدترین نیلامی کے باوجود اگر نوجوانان امت مسلمہ اسے تہوار سمجھ کر یا مسرت کی گھڑی سمجھ کر اس کا اہتمام کرتے ہیں اور اس کے تمام یا اکثر لوازمات کو اختیار کرتے ہیں تو یقیناً یہ قوم کے لئے سنگین المیہ اور لمحۂ فکریہ ہے۔
اسلام نے جہاں اور چیزوں کی رہنمائی کی ہے،عفت وعصمت کی حفاظت اور شرم وحیاء کی بھی ٹھوس اور صحت مند تعلیم سے نوازا ہے، اس آفاقی تعلیمات میں تو یہاں تک تاکید کی گئی ہے کہ بلا ضرورت عورتیں گھروں سے نہ نکلیں اور غیروں کے لئے تزئین وآرائش سے اجتناب کریں،وقرن فی بیوتکن ولا تبرجن تبرج الجاہلیۃ الاولی(الاحزاب 33) اور قرار پکڑو اپنے گھروں میں اور دکھلاتی نہ پھروجیسا کہ دکھانا دستور تھا جہالت کے وقت میں (ترجمہ شیخ الہند)
محسن انسانیت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے،،حیا ایمان کا ایک شعبہ ہے(عن ابی ہریرۃ مسلم)ایک جگہ ارشاد ہے،، جب تم میں حیا کا سرمایہ نہ رہے تو جو چاہے کرو( صحیح بخاری) بظاہر یہ ایک مختصر سا جملہ ہے’مگر معاشرے اور سماجی ارتقاء کا ایک جہان اس میں پوشیدہ ہے، حیا اور شرم ہی ہے جو جرائم کا نہ صرف احساس بلکہ اس کی طرف بڑھتے ہوئے قدموں کو بھی روک دیتی ہے،یہی وہ شئے ہے جو اخلاقی برائیوں سے باز رکھتی ہے’اور یہی وہ عنصر ہے’جو معاشرے کو گندی نظر،پراگندہ فکر اور جنسی انارکی اور نفس کی آوارگی سے محفوظ رکھتا ہے،اور انسانیت کی یہی قیمتی چیز جب انسان سے کھو جاتی ہے’تو انسان انسانیت کے دائرے سے نکل کر حیوانیت کے حصار میں داخل ہوجاتا ہے، اس کی فکر بے مہار اور اس کی ذہنی سطح انتہائی پست ہو جاتی ہے، اخلاقی قدریں اس کی نظروں میں بے حیثیت اور اسلامی تعلیمات بے معنی ہوجاتی ہیں، اس کی زندگی نفس امارہ کا شکار اور خواہشوں کی غلام بن جایا کرتی ہے،
اسلام کی مذکورہ تعلیمات کی روشنی میں اور فطرت کے چراغ کی روشنی میں ویلنٹائن ڈے اور اس کی حیوانیت زدہ تقریبات کی قباحت،اس کے حیا سوز کردار،اس کے اخلاق باختہ طرز عمل،اور اسلامی تعلیمات ومشرقی اقدار کو پامال کرنے والی اس کی جنسی آوارگی، اور ہوس کی تکمیل کے سامانوں کے ذریعے انسانیت کو تار تار کرنے والے اس کے کردار وعمل اور گھر،خاندان کی پاکیزہ فضا کی بربادی،ویرانی اور نکاح جیسے مقدس رشتے کی پامالی کی صورت میں اس کے تباہ کن اثرات اور ہلاکت خیز نتائج سورج کی طرح عیاں ہوچکے ہیں،
ویلنٹائن ڈے کے اہتمام کے نتیجے میں معاشرے نے جن تباہیوں کا سامنا کیا ہے،اور اس کی فضا جس طریقے سے مسموم اور زہر آلود ہوئی ہے،ماحول میں جس قدر تناؤ،کشیدگی اور قتل وخون ریزی کے واقعات رونما ہوئے ہیں،ذیل میں وقت کے اخبارات وجرائد کی وہ سرخیاں جو انسانیت سوز واردات کی عکاس ہیں ان کی ایک جھلک ویلینٹائن دے کی نحوست اور اس کی اخلاق سوزی کا اندازہ لگانے کے لئے کافی ہے،،
ویلنٹائن ڈے نے پاکیزہ معاشرہ کو بڑی بے دردی کے ساتھ بدامن اور داغ دار کیا ہے، اخلاقی قدروں کو تہس نہس کیا ہے ،رشتوں، تعلقات اور احترام انسانیت تمام چیزوں کوپامال کیا ہے، لال گلاب اور سرخ رنگ اس کی خاص علامت ہے ،پھول کی تقسیم اور اس موقع پر ویلنٹائن کارڈ کا تبادلہ بھی اظہارِ محبت کی علامت سمجھا جاتا ہے، بڑے پیمانے پر اس کی تجارت ہوتی ہے اور ہوس پرست اس کو منھ بولے دام میں خریدتے ہیں۔ منچلوں کے لیے ایک مستقل تفریح کا سامان بن گیا۔ ویلنٹائن کی جھوٹی محبت کا انجام کیا ہوتا ہے اس کو مختصر جملوں میں بیان کیا ہے : عشق کا بھوت نفرت میں بدل گیا ، محبت کی شادی کا درد ناک انجام، خاوند کے ہاتھوں محبوبہ کا قتل ۔ عشق کی خاطر بہن نے بھائی کا قتل کر دیا۔ محبوب سمیت حوالات میں بند۔ محبت کی ناکامی پر دو بھائیوں نے خود کشی کر لی۔ محبت کی ناکامی …نوجوان ٹرین کے آگے کود گیا، جسم کے دو ٹکڑے۔ ناکام عاشق نے لڑکی کو والدین، چچا او رایک بچی سمیت قتل کر ڈالا۔ یہ وہ اخباری سرخیاں ہیں جو نام نہاد محبت کی بنا پر معاشرتی المیہ بنیں،اور آئے روز اخبارات کی زینت بنتی جارہی ہیں(ویلنٹائن ڈے تاریخی حقائق اسلام کی نظر میں 119)
معاشرے میں امن و سکون اور اسے مسرتوں کا گہوارہ بنانے کیلئے،خاندانی نظام اور فیملی سسٹم کے استحکام کےلئے،اخلاقیات کی کرنوں سے آراستہ صحت مند سماج کی تشکیل کے لئے ضروری ہے’کہ یورپ کی تقلید سے قوم کے نوجوانوں کو باز رکھا جائے، انہیں اسلامی تعلیمات سے روشناس کرایا جائے،اسلام کی جامعیت اور اس کے آفاقی پیغام سے انہیں آشنا کرایا جائے تاکہ اپنے مذہب،اپنے نظریات اور اپنے افکار وخیالات کے سلسلے میں ان کے اندر خود اعتمادی پیدا ہو،اسلامی نظام،اسلامی دستور وضوابط، اور اخلاق وکردار کی بلندی سے انہیں واقف کرایا جائے،تاکہ اپنی اقدار وروایات سے متعلق وہ پست احساس سے نکل کر فخر واعتماد کی کھلی اور روشن فضا میں سانسیں لے سکیں اور اس کے نتیجے میں ان کے اندر اسلامی تعلیمات،اسلامی اقدار وروایات کی عظمت پیدا ہو
ان کو اپنانے کا داعیہ پیدا ہو،ان پر عمل کرنے کا وہ جذبہ پیدا ہو جو انہیں اسلامی تہذیب سے قریب اور حیا باختہ یورپی تہذیب وثقافت سے ہمیشہ کے لیے بیزار کردے۔
شرف الدین عظیم قاسمی الاعظمی
مسجد انوار گوونڈی ممبئی
8767438283
Comments are closed.