ویلنٹائن ڈے کیا ہے اور کہا سے شروع ہوا۔
نیر الاسلام ندوی سہسپوری
تیسری صدی عیسوی میں ایک رومی پادری تھا اسکا نام ہی ویلنٹائن تھا اسکو ایک خوبصورت راہبہ،(Nun)کی زلف گیر ہوگیا اور دونوں الفت کی لبادہ سے لبریز ہوگئے۔ کیونکہ مسیحیت میں راہب اور راہبہ کے لئے نکاحِ ممنوع تھا۔اس لئے ایک دن ویلنٹائن صاحب نے اپنی جمیل راہبہ سے بتایا کہ میں خواب میں دیکھا ہوں کہ اگر کوئی راہب اور راہبہ 14فروری کوصنفی ملاپ کرلیں تو کوئی گناہ نہیں سمجھا جائے گا اور راہبہ نے ان پر یقین کرلیا اور جوش عشق میں سب کچھ کر گزرے۔کلیسا کی روایات کو دھجیاں اڑانے پر انھیں قتل کر دیا اس کے بعد کچھ لوگوں نے ویلنٹائن صاحب کو۔۔شھید محبت ۔۔کے نتیجہ میں ویلنٹائن ڈے منانے لگا۔
مختلف ممالک میں ممانعت
ہندوستان۔ ہندوستان میں ہندو مہاسبھا تنظیم نے یہ اعلان کیا کہ کھلےعام آئی لو یو کہنے والے جوڑوں کی زبر دستی شادی کروائی جائےگی ایک اور تنظیم بجرنگ دل نے کہا تھا ویلنٹائن ڈے منانے والوں کو سنگین نتائج سے گزرنا پڑے گا۔
انڈونیشیا۔2020ءمین انڈونیشیا میں پابندی عائد کر دی گئی
پاکستان 2017ء میں اسلام باد ہائی کورٹ نے عوامی مقامات پر ویلنٹائن ڈے منانے پر پابندی لگادی
سعودی عرب 2002ء میں سعودی پولیس نے ویلنٹائن کے کسی بھی چیز کے فروخت پر پابندی لگادی تھی 2012ء میں مزہبی پولیس نے 140مسلمانوںکو یہ تہوار
منانے پر گرفتار کیا تھا سعودی عرب میں یہ تہوار مسلمان نہیں مناسکتے جبکہ غیر مسلم اپنے گھروں میں اس کو مناسکتے ہیں اور 2020ء میں کھل کر ویلنٹائن ڈے منایا گیا۔
ویلنٹائن ڈے کا اسلام میں کیا حکم ہے۔
ویلنٹائن ڈے کا اسلام میں کوئی گنجائش نہیں ہے کیونکہ اسلام میں لڑکی کی آواز کوبھی پردہ قرار دیا ہے تو اس سے بات کرنا اور I love you کہنا کیسے جائیز ہو سکتاہے۔
ویلنٹائن ڈے کا ہمارے معاشرے پر اثر۔
من تشبه بقوم فهو منك. یعنی جس قوم نے جس قوم کی کلچر کو اختیار کیا تو قیامت کے دن اسکو اسی قوم کے ساتھ اٹھایا جائے گا آج ہمارے معاشرے کے نوجوان لڑکے اور لڑکیاں ویلنٹائن ڈے کے کلچر کو اپنانا چاہتے ہیں اور اسے اپنے الفاظ میں بے گناہ ثابت کرتے ہیں لیکن ایسا ہے نہیں اگر اس کلچر کو اپنالیا تو ہمارہ معاشرہ بے حیائی اور عصمت دری کا شکار ہو جائے گا اسلئے ھم لوگوں کو اس سے بچنا چاہیے خدا کھتا ہے کہ ہم نے تم کو ایک بہترین معاشرہ دیا ہے وہ ہے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا معاشرہ اسلئے خدا سے گو ہو کہ ہمیں مغربی کلچر سے بچائے اور رسول کی کلچر کو اپنانے والا بنائے۔آمین۔
بقلم۔ نیرالاسلام بن نورالاسلام ندوی۔ سھسپور ۔ جالے۔ دربھنگہ۔
طالب علم۔دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ یوپی
Comments are closed.