” ہجوم ایسا کہ راہیں نظر نہیں آتیں "

 

از _شیبا کوثر (آرہ )۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

تاریخ میں محروم طبقے نا انصافی کے خلاف مزاحمت کرتے رہے ہیں ،غلاموں کا طبقہ اگرچہ بڑا بے بس ہوتا ہے مگر وہ بھی اپنی آزادی کے لئے بغاوتیں کرتے رہتے تھے ۔تاریخ میں کسانوں کی بغاوتیں بھی مشہور ہیں ۔ان بغاوتوں اور مزاحمتوں سے ثابت ہوتا ہے کہ استحصال کی وجہ سے ان میں سیاسی شعور اور نا انصافیوں کے خلاف آگاہی آ جاتی ہے ۔صنعتی انقلاب کے بعد مزدور کا طبقہ ابھرا تو انہوں نے اپنے حقوق کے لئے ٹریڈ یونین کی بنیاد ڈالی اور انہوں نے سرمایہ داروں پر زور ڈالنے کیلئے فیکٹری کی مشینوں کو توڑا اور ہڑتالیں بھی کیں ۔ٹریڈ یونین کی وجہ سے ان کو اپنی طاقت کا احساس ہو گیا تھا ۔اسی وجہ سے کار ل مارکس( d.1883)کسانوں کے مقابلے میں مزدوروں کے انقلابی ہونے پر یقین رکھتا تھا ۔

لیکن کسانوں نے مزدوروں کے مقابلے میں ایسے لوگوں کا ہجوم تھا ،جنہیں نہ تو تعلیم ہی مل سکی تھی نہ ہی وہ کسی ہنر سے واقف تھے ۔یہ مفلس اور غریب لوگ تھے ۔جو سیاسی شعور سے بھی نا بلد تھے ،کیونکہ ان کی کوئی منظم جماعت تھی نہ ان کا کوئی رہنما تھا ۔اپنے حقوق کیلئے جد و جہد اور مزاحمت کو بھی اختیار نہیں کرتے تھے اس لئے جمہوری دور میں سیاسی جماعتیں بھی ان پر کوئی توجہ نہیں دیتی تھیں اور نہ ان کی دلچسپی تھی کہ ان کی سیاسی تربیت کریں اور انہیں با شعور بنا ئیں ۔

جدید دور میں مذہبی اور نظریاتی جما عتوں نے اس ہجوم کو اپنے مقا صد کیلئے ضرور استعمال کیا ۔جب کبھی مذہبی اور نظریاتی حکومتوں کو اپنے مخالفین کو ختم کرانے کی ضرورت ہوتی تھی تو یہ فتنہ فساد کے ذریعہ اس ہجوم کو کبھی مذہب کبھی وطن پرستی اور کبھی کسی نظریے کے نام پر مشتعل کر کے سڑکوں پر لے آتے تھے ۔جہاں انہیں فتنہ و فساد کی پوری آزادی مل جاتی تھی ۔لوٹ مار ،عمارتو ں کی توڑ پھوڑ اور جلاؤ گھیراؤ پر فساد ات اس ہجوم کو اس کی محرومیوں سے نکال کر اسے طاقت کا احساس دیتے تھے اور وہ اس پر فخر کرتے تھے کہ انہوں نے کس قدر تباہی کی ۔یہاں تک کہ بعض حالات میں مخالفین کو قتل کرنے اور عورتوں کی عصمت دری سے بھی بعض نہ آئے ۔تاریخ میں خاص طور سے روس میں یہودیوں کے خلاف ہجوم کے یہ فسادات ہوتے رہتے تھے ۔ترکی میں بھی آرمیوں کے خلاف اسی ہجوم نے قتل و غارت گری کر کے انہیں ہجرت کرنے پر مجبور کیا ۔

ہٹلر (d.1945) کی ناری حکومت کے دوران خصوصًا اس ہجوم کو یہودیوں کے خلاف مشتعل کیا گیا۔

وہ ایک رات بہت مشہور ہے جب اس ہجوم نے یہودیوں کی دکانوں کو لوٹا اور توڑ پھوڑ کر کے ان کی تجارت کا تقریباً خاتمہ کر دیا ۔چنانچہ ہم ہر فاشٹ حکومت میں اس ہجوم کو قتل و غارت گری میں ملوث پاتے ہیں ۔بر صغیر میں بھی سیاسی جماعتوں اور حکومتوں نے اس ہجوم کے ذریعےفسادات کرا کے اپنےسیاسی مفادات کو حاصل کیا۔ گجرات میں کیا ہوا اس سے سبھی واقف ہیں ۔

کس طرح بڑے فخر سے ٹی وی چینلز کو انٹرویو دیتے ہوئے اپنے کار نامے بیان کئے گئے اور جب سے بی جے پی بر سر اقتدار آئ ہے انہوں نے اس ہجوم کو مکمّل طور پر اپنے مخالفین کے خاتمے کیلئے استعمال کرنا شروع کر دیا ہے ۔اس ہجوم میں مذہبی جوش و جذبہ پیدا کرنے کے لئے ایڈوانی کی رتھ یاترا اور بابری مسجد کو شہید کرنا شامل ہے ۔گائے کے نام پر بھی ہجوم کو اس قدر جذباتی بنا دیا ہے کہ ذرا سے شبے پر کچھ افراد کو قتل کر دیا گیا کہ انہوں نے گائے کا گوشت کھایا ہے ۔موجودہ حکومت اس ہجوم کو اپنے مخالفوں کے خلاف بھی استعمال کر رہی ہے ۔اگر ایک بار یہ ہجوم مشتعل ہو جائے تو پھر اس کو روکنے والا کوئی نہیں ہوگآ ۔یہاں تک کہ قانون نافذ کرنے والے ادار ے بھی ان کے سامنے بے بس ہو جاتے ہیں ۔

یو رپی ملکوں میں جہاں فلاحی ریاستیں قائم ہوئیں اور ریاست نے لوگوں کی تعلیم ،صحت،روزگار اور رہائش کی ذمہ داری لی وہاں سے ایسے ہجوموں کی کاروائیاں ختم ہو گئیں ۔امریکہ میں جہاں ریاست کی کوئی ذمہ داری نہیں ،وہاں امریکی آفریقیؤں اور سفید فام غریب لوگوں میں جن میں دوسرے ملکوں سے آنے والے مہا جرین بھی شامل ہیں ۔وہاں یہ ہجوم موجود ہے ۔سوال یہ ہے کہ سیاست دانوں اور دانشوروں نے اس ہجوم کو منظم کر نے کی کوشش کیوں نہیں کی۔ (1960ء)کی دہا ئی میں پروفیسر ماکیوزے نے اس بات کی کوشش کی کہ اس ہجوم کو منظم کرکے سیاسی اور سماجی انقلاب لایا جائے ۔اس سلسلے میں اس نے کئی کانفرنیس بھی کیں ۔لیکن جب ان کو سیاسی طور پر متحرک نہ کر سکا تو پھر اس نے طلبا ء میں انقلابی تحر یک چلائ، یہ با ئیں بازو کی جماعتوں اور دانشوروں کی غلطی ہے کہ انہوں نے اس ہجوم کو سیاسی طور پر با شعور بنانے کے لیے کوئ جد و جہد نہیں کی اور دائیں بازو والی جما عتوں کے حوالے کر دیا ۔اس لئے جب تک اس ہجوم کو سیاسی طور پر منظم نہیں کیا جائے گا ،معاشرے میں فتنے اور فساد پیدا ہوتے رہینگے اور سماج ذہنی طور پر پسماندہ رہی ہیں کہ اب ۔۔۔

 

ہجوم ایسا کہ راہیں نظر نہیں آتیں۔۔۔۔

 

نصیب ایسا کہ اب تک تو قافلہ نہ ہوا ۔!!

Comments are closed.