وزیراعظم مودی کی غلط بیانی –
محمد صابر حسین ندوی
Mshusainnadwi@gmail.com
7987972043
وزیراعظم نریندر مودی خواہ کتنی لچھیدار باتیں کرلیں، کتنا ہی مسحور کردیں، مدمقابل کو مبہوت کردیں؛ لیکن یہ طے ہے کہ ان کی باتوں میں جھوٹ کا عنصر ٩٠ فیصد سے زیادہ ہوگا، بلکہ تجزیہ نگار تو اس مزید وسعت کے قائل ہیں، اگر صریح جھوٹ نہ بھی ہو تب بھی تلبیسات سے انکار نہیں انکار کیا جاسکتا، اپنا ایک خاص مصنوعی عاجزانہ انداز میں وہ سب کچھ یوں کہہ جاتے ہیں کہ سننے والا سچ کے سوا کچھ نہ سمجھے؛ بہرحال گزشتہ کل انہوں نے لوک سبھا میں کسان بِل کے متعلق متنازع سوال کہ کس نے مانگا ہے جو آپ نے قانون بنایا؟ اس پر بات کرتے ہوئے بہت سے سابقہ اصلاحی کاوشوں کو شمار کروایا، ان کا کہنا تھا کہ وے قوانین کسی نے مانگے نہیں تھے مگر ایک ترقی پذیر ملک کیلئے درکار تھے؛ لہذا یہ کرنا پڑا، ان میں ایک شادی کیلئے عمر کی تعیین کا مسئلہ تھا، انہیں شاید معلوم نہیں کہ اس کیلئے بڑی جد وجہد کی گئی تھی، بَال وِواہ، بچپن کی شادی کا مسئلہ ہمیشہ سے بڑا سنگین رہا ہے؛ بالخصوص ہندوستان کی ثقافت میں اسے ایک لعنت کی طرح استعمال کیا گیا، چنانچہ بیسویں صدی کی شروعات میں ہی اَکھِل بھارتی مہیلا سَمّیلن، مہیلا بھارتی سنگھ اور بھارت میں مہیلا سنگھ کی مختلف اعلی شخصیات نے آواز اٹھائی تھی، گویا برطانوی حکومت کے دوران ہی ایک زبردست تحریک چلی تھی، پہلے ١٩٢٧ کو اسے زیر بحث لایا گیا اور پھر٢٨/ ستمبر ١٩٢٩ میں Child Marriage Restraint Act, 1929 کے نام سے ایک قانون پاس کیا گیا، مگر اسے روبہ عمل یکم اپریل ١٩٣٠ کو لایا گیا تھا، جس کے مطابق شادی کی عمر لڑکیوں کیلئے ١٤/ سال اور لڑکوں کیلئے ١٨/ سال رکھی گئی، پھر ١٩٧٨ میں اسی دفعہ میں ترمیم کرتے ہوئے لڑکی کی عمر ١٨/ اور لڑکے کیلئے ٢١/ سال کردی گئی، یہ قانون شاردا ایکٹ کے نام سے مشہور ہے، کیونکہ اس میں مرکزیت ہَربی لال شاردا کو حاصل تھی، جنہوں نے اس مسودہ کو پیش کیا تھا، اس قانون کو بنانے کیلئے برطانوی سرکار پر اتنا زیادہ دباؤ تھا کہ دائرہ معارف کے مطابق انہیں ہندو مسلم سپورٹ کے کھونے اور بغاوت کا اندیشہ ہو چلا تھا، تب کہیں جا کر ملک کو ایک نیا قانون اور قدیم تہذیب سے چھٹکارا ملا تھا، اسی طرح تعلیمی حق Right to education (جس کو RTE بھی کہتے ہیں) کا جو قانون بنا ہے، یہ بھی بہت زیادہ مشقتوں کے بعد بنایا گیا ہے، بھارتی گیان وِگّیان سمیتی کے مضبوط ستون پروفیسر ونود رَینا اور ان کے بہت سے ساتھیوں کی انتھک محنت اور کوششوں کے بعد ٢٠١١ میں تعلیمی حق کا قانون بنا تھا، جس کی بنیاد پر آج ہر ایک کو یہ حق دیا جاتا ہے کہ وہ تعلیم حاصل کرے، بچہ مزدوری سے سماج محفوظ رہ سکے اور علم کی فضا ہموار ہو، نیز مودی جی نے جہیز کی بات تھی، مگر انہیں معلوم ہونا چاہئے کہ یہ رواج بھی قدیم ہندوستان میں دیمک کی طرح تھا، جس کا آج بھی دور ہے، بلکہ ہمارے سماج کی عظیم ترین برائی ہے جس کو سبھی ناجائز سمجھتے ہوئے بھی کرتے ہیں، اس پہلو پر کام کی ضرورت ہے، سب سے زیادہ عملی اقدام کی حاجت ہے، ١٩٦١ میں اس کے خلاف قانون پاس کیا گیا تھا، اس کو Dowry Prohibition Act, 1961 کہتے ہیں ،جو ٢٨/ ویں دفعہ کے تحت آتا ہے، اور انڈین پینل کورٹ دفعہ 304B اور 498A کے تحت جرم تصور کیا جاتا ہے.
اسی طرح تین طلاق کے سلسلہ میں بھی یہ بات قبول کی گئی کہ اسے کسی نے مانگا نہیں تھا، ہمارا تو ہمیشہ سے یہی کہنا ہے کہ اس بِل کو سرکار نے اپنی مسلم دشمنی اور سماجی سدھار کے نام پر مسلم مردوں پر گرفت بنانے اور ان کے معاشرتی ڈھانچہ کو دق کرنے کیلئے لایا گیا تھا، مگر اس بیان کے بعد بہت سی خواتین جماعتوں نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے باقاعدہ اس قانون کیلئے آندولن چلایا تھا، بعض نچلی عدالتوں کے فیصلے بھی اس پر گواہ ہیں، ٢٠١٧ میں فرق صرف یہ تھا کہ اسے مجرمانہ ایکٹ تصور کیا گیا تھا، ویسے بھی مذکورہ سماجی سدھاروں کیلئے کسی ایک سرکار کو ذمہ دار قرار دینا یا ان کا ذمہ لے لینا بددیانتی کی بات ہے، سبھی کو معلوم ہے کہ ان تمام سماجی اصلاحات کیلئے کہیں نہ کہیں اور کبھی نہ کبھی ایک طویل ترین لڑائی لڑی گئی ہے، مگر چونکہ سرکار ایک طرف ایسے مصلحین کو آندولن جِیوی کہہ کر ان کی بے عزتی کرنا چاہتی ہے اور یہ ثابت کرنا چاہتی ہے کہ ملک میں ایک طبقہ صرف آندولن اٹھا کر اپنی سیاسی سیج سجانے میں مصروف ہیں؛ ایسے میں انہیں یہ قبول کرنا بھاری پڑ رہا ہے کہ اصلاحات دراصل جہد مسلسل ہی چاہتی ہیں، ایسا بہت کم ہوتا ہے کہ سرکار یا اتھارٹی اپنے اعتبار سے کوئی ایسا قانون پاس کرے جس سے سماج میں اتھل پتھل ہوجائے اور ان کا ووٹ بینک کَٹ جائے، نیز معاشی اصلاحات کے بارے میں مودی جی نے بات ہی نہیں کی، بہتر تو یہ ہوتا کہ اس سلسلہ میں جو قوانین بنائے گئے ان پر بات کی جاتی اور باہم موازنہ کر کے بتلایا جاتا ہے، مثلاً آپ ہی نے زرعی زمین کی خرید و فروخت کو شتر بے مہار چھوڑ دیا، آخر کیا ہوا، یہ اصلاح مصیبت بن گئی، آج کسانوں کی زرعی زمینیں کوئی بھی اونے پونے دام میں خرید لیتا ہے، سماجی اصلاح کیلئے سی اے اے لیکر آئے؛ مگر اب خموشی ہے اور صحیح بات تو یہی ہے کہ آئندہ اس کی راہیں ممکن نہیں دکھتی، کیونکہ وہ بھی جانتے ہیں کہ اس کی بنیادیں اصلاح پر نہیں بلکہ فساد پر رکھی گئی ہیں، پھر کس تجدید کی بات کرتے ہیں، اگر موجودہ زرعی قوانین بھی اصلاح کیلئے بنائے گئے اور آندولن چل رہا ہے تو پھر انہیں ہٹا لئے جانے میں کیا دقت ہے، سماج کی اصلاح کا مطلب یہی تو ہے کہ جو ان کیلئے آسانی پیدا کرے، قانون اور ملکی مفاد میں مناسب ہو، مگر دراصل نیت میں کھوٹ نظر آتی ہے، صاف محسوس ہوتا ہے کہ عوام کو ایک دائرہ میں قید کرنے اور انہیں ریوڑ بنا کر من مانی گلہ بانی کرنے کی منشا ہے، جمہوریت اور ڈیموکریسی کے گلے میں پٹہ ڈالنے کی فکر ہے، اگر ایسا ہے تو سمجھ لیجئے کہ جمہوریت میں ہی آندولن ہوتے ہیں اور ملک کی اصلاح کا صحیح رخ انہیں سے طے ہوتا ہے سرکاروں سے نہیں.
Comments are closed.