جامع مسجد مولانا کمال ؒ، دھار کی زیارت (قسط 1) 

 

 

بقلم: مفتی محمد اشرف قاسمی

(مہدپور ضلع اجین، ایم پی)

 

چمن کے تخت پر جس دم شہ گل کا تجمل تھا

ہزاروں بُلبلیں تھیں، باغ میں اک شور تھا غُل تھا

کھلی جب آنکھ نرگس کی، نہ تھا جُزخاک کچھ باقی

بتایا باغباں رورو، یہاں غنچہ، یہاں گل تھا

 

مؤرخہ7/فروری2021ء کو دھار (مدھیہ پردیش) میں ”تعلیمی بیداری پروگرام“ (Education Awarness programme) کے لیے جانا تھا۔ وہاں قریب میں واقع علاقہ مانڈو (شادی آباد، دولت آباد، دارالاسلام) اور مضافات میں ایسے ایسے عظیم اسلامی آثار بکثرت موجود ہیں جو ماضی میں مسلمانوں کے عروج و اقبال کی کہانی بیان کرتے ہیں۔ اس لیے میرے بچوں کی خواہش تھی کہ وہاں کے اسلامی آثار کی زیارت کرکے اپنے اذعان و ایقان کو تازہ ومضبوط کریں۔ چونکہ گاڑی خالی تھی، اس لیے بچوں کی خواہش کی رعایت کرتے ہوئے ہم نے جامع مسجد مہدپور کے امام مولانا اشفاق احمد صاحب ندوی (جو کہ سسرالی رشتہ سے میری اہلیہ کے رشتہ میں آتے ہیں) کو بھی ان کی فیملی کے ساتھ سفر کے لیے تیار ہونے کے لیے کہہ دیا۔اور موصوف بھی اپنے بچوں کے ساتھ تیار ہوگئے۔ رفقائے سفر میں ابو الحسن ناگوری، محمد عاصم ناگوری، راقم الحروف کی بیوی اور بچے صفیہ بی، محمد انس، محمد اسجد، آسیہ بی، مولانا محمد اشفاق ندوی اور مولانا کی زوجہ وبچے محمد اویس، حمیرہ، زھیرہ(شیرخوار) اور مولانا کا بھتیجا محمد عاقب تھے۔

 

مولانا کمال ؒ، اجین اور دھار

زیر مطالعہ تحریر کی شہ سرخی کے ابتدائی الفاظ ”جامع مسجد مولانا کمالؒ“ ہے۔ جن بزرگ کے نام سے یہ مسجد منسوب ہے یہاں ان کے وردو مسعود کے بارے میں مختصر تذکرہ کردینا مناسب معلوم ہوتا ہے۔ مولانا کمال الدین چشتی ؒ حضرت بایزید کھوتوال(پنجاب) سے ترک وطن کر کے اولاً دہلی تشریف لائے اور وہاں اپنے دادا "بابا فرید ؒ کے خلیفہ محبوب الہی حضرت نظام الدین اولیاءؒ کی خدمت میں قیام فرمایا۔ حضرت محبوب الہیؒ نے انہیں خرقۂ خلافت عطا فرمانے کے بعد مالوہ کے لوگوں کی رہنمائی کے لیے روانہ فرمادیا۔ مالوہ میں محبوب الہیؒ کے دوخلفاء پہلے سے موجود تھے۔ ایک مولانامغیث الدین موجؔؒ، دوسرے ان کے بھائی مولانا غیاث الدینؒ۔ اول الذکر اُجین میں شپرا ندی کے کنارے مقیم تھے اور دوسرے دھار میں۔ مولانا کمال الدین چشتیؒ دھار پہونچنے سے پہلے اُجین میں مولانا مغیث الدین موجؔؒ کے پاس رُکے اور یہاں ایک عرصہ رہ کر چلہ کشی کی اور پھر دھار کی طرف روانہ ہوئے۔

یہاں تیمنا و تفائلا ہم بتادیں کہ ہمارا سفر بھی اجین سے دھار کی طرف ہو رہا تھا۔ میں نے لاک ڈاؤن کے موقع پر سیکڑوں کتابوں کا مطالعہ کیا اور کافی ضخیم نوٹ تیار کیا۔ یہ مطالعہ اولاً ”خانقاہ نعیمیہ بہرائچ یوپی“ کے نقشبندیہ سلسلے کے بزرگوں کی حیات وخدما ت کو تصنیفی شکل میں جمع کرنے کے لیے شروع ہوا، جس کی ابتدا نزھۃ الخواطر سے کی، بعد میں دوسری کتابیں بھی مطالعہ میں آتی گئیں (جن میں سے متعدد کتب پر میں نےاپنی”یاد داشت لاک ڈاؤن“ میں تبصرہ اور نوٹ بھی لکھا ہے۔) جس میں خانقاہ نعیمیہ بہرائچ (یوپی) کے بزرگوں کے علاوہ جونپور، دلی، مانڈو، برہان پور، بھوپال، گجرات، ناگور، اجمیر اور دوسرے علاقوں کے علماء کے بارے میں کافی معلومات حاصل ہوئیں۔

 

بڑے بڑے انقلابات اور اُجین

 

چوں کہ کبھی مانڈو اور برہان پور، ریاست اجین کا حصے تھے، اس لیے مطالعہ میں بار بار اُجین کا نام بھی آیا۔ اسی لیے دوران مطالعہ ہم نے صوبہ مدھیہ پردیش کے علماء وفضلاء کی حیات وخدما ت پر بھی مواد جمع کیا۔ اس مطالعہ سے یہ بات واضح ہو کر ہمارے سامنے آئی کہ غیر منقسمہ بھارت میں اچھے بُرے جتنے بھی بڑے بڑے انقلابات آئے ہیں ان سب کا مجال ومیدان بنیادی طور پر اُجین رہا ہے۔ یہ ایسی جگہ ہے کہ جہاں منوسمرتی کے آخری ابواب لکھے گئے۔ والمیکی رامائین (اردوصفحہ630/مترجم ہنومان پرساد،گیتا پریس، گوبند بھون گورکھپور،سمبت2039،) اور را م چرت مانس (اردوصفحہ604/) میں اجین کا تذکرہ آیا ہے۔

مہابھارت جیسی رزمیہ شاعری کا تعلق بھی اجین سے ہے۔ مشہور کوی (شاعر) کالی داس نے اپنی رومانی ومشتہات اورمنعظ و مہیج ادبی کارنامہ کو تحریری شکل میں یہیں مرتب کیا۔ اقبال کے پسندیدہ شاعر بھرتری ہری نے یہیں اپنے کلام میں مہابھارت کی داستان کو پیش کرتے ہوئے بھارت کے اصل باشندوں اور شکست خوردہ اقوام کی ذلت ناک شکست، زوال و ادبار اور فاتحین کی عزت و افتخار کو فکری طور پر استحکام دینے میں کامیابی حاصل کی۔

انسانوں کی طبقاتی تقسیم کے خلاف مہاتما گوتم بدھ ہمالیہ کی جڑ ترائی میں لمبینی (گونڈہ، بہرائچ، شراوستی) کے علاقہ سے ہجرت کرکے اجین آئے اور پھر یہیں سے اپنی تحریک کو آگے بڑھایا، بعد میں بدھ ازم کے کم وبیش85 /ہزار مراکز کو طبقاتی تقسیم کے حامیوں نے منہدم کرکے بدھ ازم کو بھارت سے ہجرت کرنے پر مجبور کردیا۔ سب سے پہلے مجاہدین اسلام نے محمد بن قاسم کی سرکردگی میں جب 91ھ میں سندھ کی سرزمین پر قدم رکھا، تو فورا ہی حبیب ابن مرہ کی قیادت میں محمد بن قاسم نے اپنی اگلی فوج کو قلبِ ہند میں داخل کردی۔ حبیب بن مرہ 92ھ میں اجین کو فتح کرکے صلح وظفر کے بعد واپس ہوگئے اور پھر مسلمانوں کے قافلے پُر امن طریقے سے ہند میں آمد و رفت کرنے لگے۔

اکبر کے دور میں جب الحادی کوششیں شروع ہوئیں تو شیخ احمد سرہندی مجدد الف ثانیؒ کھڑے ہوئے، حکومت وقت نے جب انہیں اپنے الحادی منصوبوں کی تکمیل میں مزاحم پایا تو اُجین ریاست کے ایک شہر گوالیار کی جیل میں انہیں قید کردیا۔ بعض رواتیں ملتی ہیں کہ اُجین کے جیل میں بھی انہیں رکھا گیا۔ جیل میں رہ کر انہوں نے اتنا عظیم کارنامہ انجام دیا کہ الحادی فتنے فرو ہوگئے اور ہوا کا رُخ بدل گیا۔ (آج بھی اجین ومضافات میں سنت یوسفی کی سعادتوں سے بہرہ مند ہونے والے مظلوم و باکردار نوجوان جس طرح دینی تعلیم وتعلم میں پس دیوار زنداں مصروف رہتے ہیں وہ قابل رشک ہے)۔ جس طرح شیخ احمد سرہندی مجدد الف ثانیؒ کی کوششوں کے نتیجے میں اورنگ زیب ؒجیسا دیندار حکمراں اہل ہند کو ملا۔ (ہم نے تیمنا شیخ احمد سرہندی ؒ کی طرف منسوب کرکے اپنی اکیڈمی کا نام ”مجدد الف ثانی اکیڈمی“ رکھا ہے)۔ اورنگ زیبؒ کو اکھاڑ پھینکنے کے لیے بڑے پیمانے پر شورش اُجین میں برپاکی گئی۔ اور دار شکوہ و اورنگ زیبؒ کی بڑی خونریز لڑائی اجین ہی کے مضافات میں ہوئی۔

گذ شتہ سال 6/ فروری 2020ء کو جمعیۃ علماء ہند کی طرف سے اجین میں شپرا ندی کے کنارے این آرسی کے خلاف ”قومی یکجہتی کانفرنس“ منعقد ہوئی۔ جس میں تمام خطبا صرف چار پانچ قوموں کے درمیاں اتحاد ومرافقت کی باتیں کرتے رہے۔ میرے بغل میں بیٹھے ایڈوکیٹ سوریہ ونشی جی نے مجھ سے کہا کہ:

”ہم 11/کروڑ لنگایت، 10/کروڑ آدیواسیوں اور دیگر قوموں کا تو نام ہی نہیں لیا جارہا ہے، اگر صرف چار پانچ قوموں کا اتحاد ہوگا توہم سب غلام ہی رہ جائیں گے۔ اس سلسلے میں آپ کچھ لکھیں۔“

میں نے وعدہ کیا کہ میں آپ کی بات کو اردو میں لکھ کر مسلم امہ کو جگانے کی کوشش کروں گا۔ لیکن سال ختم ہوگیا، میں اس موضوع پر کچھ نہیں لکھ سکا۔ خیال تھا کہ راستہ میں گاڑی میں اس موضوع پر کچھ لکھوں گا۔ لیکن بچوں کی وجہ سے گاڑی میں لکھنے پڑھنے کے لیے ہاتھ تک ہلانا و گھمانا دشوار ہورہا تھا، اس لیے خواہی نہ خواہی ہم نے واہی تباہی باتیں شروع کردیں۔

نامعلوم کس راستے سے گاڑی ایک گاؤں میں پہونچی تو محترم ابوالحسن ناگوری نے کہا کہ: یہ "جہانگیرپور“ ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں اورنگزیب ؒ اور داراشکوہ کے درمیان خونریز جنگ ہوئی تھی۔“ میں فوراً اپنے مطالعہ کی روشنی میں سونچنے میں مصروف ہوگیا۔ ۔۔۔۔۔۔

باقی آئندہ

Comments are closed.