اورنگ آباد کی شان’ پَن چکّی اور بزرگانِ دین

عبد الرحیم ندوی

قلمی نام ✍: – تابش سحر

مبارز الدین رفعت صاحب کہتے ہیں اور بجا کہتے ہیں "اورنگ آباد میں دیکھنے کے قابل مقامات میں بی بی کا مقبرہ اور پن چکّی ردیف قافیہ کی حیثیت رکھتے ہیں یہ ناممکن ہے کہ کوئی اورنگ آباد آئے اور پن چکّی کے فردوسی مناظر سے لطف اندوز ہوے بغیر یہاں سے چلے جائے۔” پن چکّی کے مشرقی جانب سے لگ کر کھام ندی گزرتی ہے یہ الگ بات ہے کہ اب’ آب و تاب سے نہیں بہتی، ندی کے اس پار خستہ حال شہرپناہ {فصیل}ہے، درمیان میں "محمود دروازہ” گزرے ہوے زمانہ کی داستان بیان کرتا ہے، جس کے سامنے مسجد جمیل بیگ فنِّ تعمیر کا جیتا جاگتا ثبوت پیش کررہی ہے، قریب ہی شاہی محلّات کے کھنڈرات ہیں جو "نوکھنڈ” کہلاتے ہیں۔ پن چکّی دراصل بابا شاہ سعید پلنگ پوشؒ اور ان کے مرید بابا شاہ محمد عاشور مسافر شاہؒ کی آخری آرام گاہ ہیں، بابا شاہ سعید پلنگ پوش علمی دینی اور مالدار گھرانے سے تعلق رکھتے تھے، عمر محض ۷ سال تھی، تحصیلِ علم میں لگے ہوے تھے کہ ایک دن انہیں درویشوں کا گروہ گزرتا نظر آیا، جس کے سرخیل بابا قل احمدؒ تھے، انہیں دیکھ کر بابا شاہ سعید پلنگ پوش متاثر ہوے، ان کی خدمت میں حاضری دینے لگے، اقوالِ عارفانہ سے مستفید ہونے لگے اور ایک دن بیعت کی درخواست بھی کی جسے بابا قل احمد نے یہ کہتے مسترد کردیا کہ "درویشی’ کار دشوار است” مگر پھر ان کی لگن، جستجو اور تڑپ دیکھتے ہوے آخرکار اپنے حلقہ میں شامل کر ہی لیا، کئی سال ان پر مجذوبانہ کیفیت طاری رہی، کہا جاتا ہے اپنے شیخ کے حکم پر وہ گیارہویں صدی کے اخیر میں ہندوستان تشریف لائے، کابل میں قیام کیا، پھر کشمیر میں اقامت اختیار کی، حج کے لیے گئے اور واپسی میں دہلی کو اپنا مستقر بنالیا بعد ازاں اورنگ آباد تشریف لائے اور یہیں کے ہو کر رہ گئے، یہ اورنگ زیبؒ کا زمانہ تھا اور ان کے بیٹے شہزادہ معظم اورنگ آباد کے گورنر تھے۔ محمد عاشور بابا شاہ مسافرؒ کی زندگی بھی اپنے شیخ کے مثل رہی، وہ علم کے حصول میں سرگرداں تھے کہ شیخ سے ملاقات ہوگئی اور انہوں نے شیخ کو اپنا سب کچھ تسلیم کرلیا البتہ علمِ ظاہری کی تکمیل میں لگے رہے، تکمیل کے بعد شیخ کی تلاش میں نکل پڑے جس شہر میں پہنچتے تو یہ خبر ملتی کہ شیخ’ فلاں شہر کی جانب نکل پڑے ہیں یہاں تک کہ پشاور میں ملاقات ہوی، شیخ کی تلاش میں کیا گیا سفر اتنا مقبول ہوا کہ لوگ انہیں "بابا شاہ مسافر” کے نام سے یاد کرنے لگے، بابا شاہ مسافر کی عظمت و منزلت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ جب وہ اورنگ آباد آئے تو شیخ نے اپنی کلاہ اتار کر ان کے سر پر رکھ دی اور فرمایا "آئندہ سے بابا شاہ مسافر کو ہم سے بڑھ کر جانیں۔” فقر کے بارے میں مسافر شاہ کا قول ہے ف سے فاقہ، ق سے قناعت اور ر سے ریاضت جس انسان میں یہ تین اوصاف ہوں وہی فقیر کہلانے کا مستحق ہیں۔ آپ کے خلیفہ بابا محمود شاہؒ تھے جن کی عجز و انکساری بےمثال تھی، فن تعمیر کا بھی ذوق رکھتے تھے چنانچہ خانقاہ کی اکثر عمارات انہیں کی نگرانی میں تعمیر ہویں، اور اسی سبب پن چکی کا باب الداخلہ "محمود دروازہ” کہلایا۔

پن چکّی کا حسن، رعنائی اور دلکشی نہرِ پن چکّی کی مرہون منت ہے، جس طرح ایک چمن’ بلبل کی چہک اور گُل کی مہک سے پہچانا جاتا ہے اسی طرح یہ مقام’ نہرِ پن چکّی کے سبب یاد کیا جاتا ہے، نہر کی ابتدا ہرسول میں واقع اس جگہ سے ہوتی ہے جہاں ایک نالہ کھام ندی سے ملتا ہے اسی مقام پر ندی کی سطح کے نیچے نہر کا آب گیر بنایا ہوا ہے اور پھر فنی مہارت کے ساتھ طولِ مسافت کے باوجود اسے مذکورہ مقام سے جوڑ دیا گیا ہے، ایک زمانہ بیت گیا مگر آج تک یہ نہر آب و تاب کے ساتھ جاری ہے اور اس کا پانی پن چکّی کے حوض میں جھرنے کی طرح گِرتا ہے۔ حوض کے ایک جانب چھوٹا سا کمرہ ہے جس میں وہ مشہور زمانہ چکّی ہے جس کے نام پر علاقے کو "پَن چکّی” کہا گیا، دراصل چکّی کے پاٹ’ نیچے لکڑی کے پنکھے سے جڑے ہوے تھے، نہر کا پانی پنکھوں پر قوت کے ساتھ گِرتا، پنکھے گھومنے لگتے جس کی بدولت چکّی کے پاٹ بھی گردش کرتے، کہتے ہیں اس چکّی پر سارے محلّہ کا آٹا پِسا کرتا تھا، مرورِ زمانہ کے سبب لکڑی کے پنکھے ٹوٹ گئے اب اس کی جگہ پر آہنی پنکھے لگادیے گئے ہیں، حوض کے جنوبی سمت برگد کا قدیم درخت ہے جس کے متعق مشہور ہے کہ اس کے نیچے بابا مسافر شاہ نے پہلی بار قیام فرمایا تھا، برگد کے درخت کے عقبی جانب قدیم خوبصورت مسجد ہے جو مسافر شاہ سے قبل خس پوش تھی بعد ازاں پختہ بنوائی گئی، مسجد کے سامنے طویل حوض ہے، مغربی سمت بزرگوں کی آرام گاہ اور خانقاہ کی عمارتیں ہیں، پرفضا مقام ہے جہاں جا کر قلوب تسکین پاتے ہیں۔

نوٹ: -شکیل بدایونی پن چکی کے معلق کہتے ہیں "اس قدر دلکش مقام ہے کہ جس کی کشش مجھے دوبارہ یہاں کھینچ لائی۔

Comments are closed.