پورنیہ تاریخ کے آئینے میں /آج ہی کے دن ۱۴ فروری ۱۷۷۰ میں پورنیہ آغا محمد کے ہاتھوں سے نکل کر انگریزوں کے پنجہ استبداد میں آگیا

پورنیہ/ ٢٥١ سالگِرہ

سلیم شوق پورنوی

پورنیہ ریاست بہار کے صدر مقام پٹنہ سے ۳۰۰ کیلو میٹر دور کوہ ہمالیہ کے وادی میں واقع ہرے بھرے جنگلات،بل کھاتی ندیوں،اتراتے تالابوں ، سرسبز میدانوں اور خوش نما پہاڑوں سے مالا مال ایک قدیم ترین ضلع ہے، ہندوؤں کی مذہبی کتابوں سے پتا چلتا ہے ستیوگ کے زمانے سے یہ ضلع آباد ہے، اس کو بہت سی مذہبی ،تاریخی ،سیاسی اور سماجی شخصیات کی قدم بوسی اور میزبانی کا شرف حاصل ہے، پانڈووں کو بن باسی کے زمانے میں یہیں پناہ ملی تھی، یہاں کے کھنڈرات ،قلعے،آثار قدیمہ اور مقامات پر لگے کتبوں سے بھی اس کے قدیم ترین ہونے کا پتا چلتا ہے۔
مہاتما گوتم بودھ بھی یہاں چھ مہینے تک رہ کر اپنے مذہب کی تبلیغ و ترویج کا کام انجام دیا ہے۔
یہاں تقریبا ہرمذہب کے مذہبی پیشواؤں کی پرانی یادگاریں بہ کثرت ملتی ہیں۔
۹ویں صدی عیسوی میں یہ علاقہ مسلمانوں کے قبضے میں آگیا تھا،یہ کہنا بیجا نہیں ہوگا ،کہ دلی سلطنت کے قیام سے صدیوں پہلے یہاں مسلمانوں کا تسلط قائم ہوگیا تھا، پھر یہ دلی کے حکمرانوں کے زیرنگیں ہوا، اور
سلطان غیاث الدین بلبن کے بیٹے بغرا خان نے اس کی ذمہ داری سنبھالی ، بغرا خان کے دربار میں مشہور زمانہ مورخ ضیاء الدین برنی تاریخ لکھنے پر مامور تھے۔
بغراخان کے بیٹے کیقباد دلی سلطنت کے فرماں روا ہوئے ،تو کسی بات پر باپ بیٹے میں ٹھن گئی، اور معاملہ جنگ تک پہنچ گیا، اور کیقباد اپنے باپ بغرا خان کے خلاف جنگ کے ارادے سے دہلی سے یہاں آئے اور کئی مہینوں تک گنگا کے کنارے مقیم رہے، بالآخر دونوں طرف کے لوگوں کے صلح و مشورے سے جنگ ٹل گئی اور باپ بیٹے میں افہام و تفہیم کی راہ نکلی، امیر خسرو بھی کیقباد کے ساتھ دلی سے اس جنگی قافلے میں یہاں آئے تھے، ان کی مشہور و معروف کتاب ” قران السعدین” جو کہ باپ بیٹے کی ملاقات پر مبنی قصیدہ ہے ،خسرو نے یہیں ترتیب دیا، اس اعتبار سے یہ بھی ماننا درست ہوگا کہ امیر خسرو کی میزبانی کا شرف اس کو بھی حاصل ہوچکا ہے۔
جب کہ حافظ شیرازی کو یہاں آنے کی دعوت دی گئی تھی، اور وہ یہاں آنے کے ارادے سے نکل بھی چکے تھے، مگر سفر کی صعوبت اور ندیوں کی طغیانیوں سے گھبرا کر وہ راستے سے واپس ہوگئے ۔
آج ہی کے دن ۱۴ فروری ۱۷۷۰ میں پورنیہ آغا محمد کے ہاتھوں سے نکل کر انگریزوں کے پنجہ استبداد میں آگیا ۔
انگریزوں کے تسلط کے بعد یہاں کے زمینداروں سے زمینیں چھین کر بچولیوں بہ الفاظ دیگر دلالوں کے حوالے کردی ، پھر جبری نظام کا اک سلسلہ چل پڑا۔۔۔ بہ ہر کیف ۔۔

پورنیہ کی وجہ تسمیہ کے بارے میں مختلف آرائیں ملتی ہیں ،بعض لوگوں کی رائے یہ ہے کہ راجا پورن سنگھ نے اس کو آباد کرکے اپنے نام پر پورنیہ رکھا، جب کہ بعض لوگوں کا گمان یہ ہے کہ یہاں کے ندیوں اور تالابوں میں پورین نامی پھول( کنول lotus ) بہ کثرت پایا جاتا ہے،جس کی مناسبت سے اس کا نام پورینیہ پڑا ، کچھ مورخین کا خیال یہ ہے کہ یہ علاقہ جنگل و جھاڑ سے بھرا ہوا ہے، اس لئے اس کا نام پورا ارنیا رکھا گیا اور پھر کثرت استعمال سے پورنیہ ہوگیا ، اور کچھ لوگ کہتے ہیں، یہ علاقہ شروع سے خوش حال اور خود کفیل رہا ہے ، اسی مناسبت سے اس کا نام पूर्ण قرار پایا ، پھر چلتے چلتے یہ بگڑ کر پورنیہ ہوگیا ۔

پرانے دستاویزوں اور نقشوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ قدیم پورنیہ مغربی بنگال یعنی موجودہ بنگلہ دیش، مالدہ، دیناجپور، اسلامپور، مونگیر کے بعض حصوں ،مدھے پورہ،ارریہ ، کٹیہار، کشن گنج پر مشتمل تھا، بکانن کے مطابق ۶۳۴۰ مربع میل پر محیط تھا اب جب کٹنے چھٹنے اور گھٹنے کے بعد ۹۳۰۰ مربع کیلو میٹر پر سمٹ کر رہ گیا ہے، ۔

پورنیہ شروع سے علم و ادب ، تہذیب و ثقافت اور سیاسی محل وقوع کے اعتبار سے بہت اہم رہا ہے، چونکہ یہ بنگلہ دیش اور نیپال کی سرحدوں پر واقع ہے، جب کہ اس کے دامن میں کوسی، گنگا، مہانندہ جیسی ندیاں آباد ہیں ۔

علم و ادب کے حوالے سے یہ حاشیائی علاقہ مرکز کی حیثیت رکھتا ہے، یہاں کے لوگ محنتی و جفاکش ہونے کے ساتھ فنون لطیفہ کے شوقین ہوتے ہیں، یہاں کے بہت سے کھلاڑیوں نے عالمی شہرت حاصل کی ہے، عبدالصمد اور عبداللطيف تو کئی کھیلوں کے ماہر تھے۔اس ضلع نے علم و ادب، تہذیب و ثقافت، سائنس و ٹیکنالوجی ، تجارت و زراعت، سیاست و سیادت کے ہر شعبہ میں قائدانہ رول ادا کیا ہے۔
آج بھی یہاں کی کئی شخصیات عالمی منظر نامے پر چمک دمک رہے ہیں، اس ضلع کی اردو، فارسی، ہندی، بنگلہ، میتھلی اور بنگلہ کی نامور شخصیات کے نام ہزار طرح کی گردش زمانہ کے باوصف گرہن سے محفوظ ہیں، کئی تو پدم شری ایوارڈ سے بھی نوازا گئے ، ۔
آج بھی یہاں علم و ادب کا کام انتہائی خوش دلی اور نیک نیتی کے ساتھ ہورہا ہے۔

ہمارے فخر کے لیے پروین شاکر کی زبان میں اتنی ہی بات کافی ہے کہ
"یہ ہی کیا کم ہے کہ نسبت مجھے اس خاک سے ہے” ۔
امن و شانتی اور گنگا تہذیب کے لیے یہ ضلع مشہور ہے۔ مہمان نوازی، دال ،سرسوں، دھان ، گیہوں، مکئی،اور سن پاٹ کی کھیتی لیے بھی جانا جاتا ہے،۔
آج اس کی ۲۵۱ویں سالگرہ ہے،۔ اس لیے یہاں کے فعال و متحرک کارکنان اس کو اپ راجدھانی بنانے کی مانگ کو لے کر ٹویٹرٹرینڈ چلا رہے ہیں۔
آج بھی پورنیہ حکومتی توجہات کا منتظر ہے،سیاسی لیڈروں نے ہمیشہ فقط بیان بازی اور لن ترانی سے کام چلایا ہے ،یہاں ہوائی اڈہ کا عدہ کیا گیا، وہ پورا نہیں ہوا،۔
تعلیم اور بنیادی سہولتوں کا فقدان ہے، بعض بعض گاؤں کے لوگوں کا شہر آنا آج بھی خواب سا ہے، ۔

Comments are closed.