جامع مسجدمولانا کمال، دھارکی زیارت (3)

 

بقلم: مفتی محمد اشرف قاسمی
(مہدپور،اجین، ایم پی)

روضہ قطب کمال الدین ؒ پر لکھی ہوئی تحریریں

ہم اس مسجد سے باہر آئے اور پھر مولانا کمال الدین چشتیؒ کے مزار کے دروازے پر لگے فارسی کتبہ کا فوٹو لیا۔ اس کے دوا شعار ذیل میں نقل کیے جاتے ہیں۔ع
این روضۂ رضواں چنیں زیب کہ جمال
دین قبۂ پُر نورچنیں قطب کمال

ترجمہ:
"قطب زماں کمال الدینؒ صاحب کاجنت جیسا روضہ نہایت حسین و خوبصورت ہے، اور یہ قبہ نہایت نور سے معمور بھراہوا ہے۔”

درعہد ہمایوں خود آں شاہجہاں
محمود شۂ خلجی خورشید مثال
درہشتصد وستین ویک آ راستہ زسر
آراستہ بادقصرعمرش ہمہ سال

ترجمہ:
"دنیا کے باد شاہ محمود خلجی جو کہ سورج کے مانند ہے اپنے زمانے میں،
861ھ ازسرنو تعمیر کیا، اللہ تعالی اس طرح ان کی عمرکے محل کوتمام عمرآ راستہ وپیراستہ رکھے۔”
دروزاے پر پتھر پر نصب کتبہ کے بعد ایک ستون سے لگے ہوئے فلیکس پر اردو میں مندرجہ ذیل عبارت لکھی ہوئی تھی اس کا بھی فوٹو موبائل میں قید کیا۔

(قارئین! یادرکھیں کہ نوری نستعلیق سے یونیکوڈ اور یونیکوڈ سے نوری نستعلیق میں بذریعہ کمپوٹر تبدیلی کے لیے ابتدا میں اور آئندہ نقل ہونے والی تمام تحریروں میں گنتیوں (Digit) کو اردو کے بجائے انگریزی میں لکھنے کا اہتمام کیاگیا ہے۔)

عکس عبارت ذیل میں ملاحظہ کریں۔
”سوانح حیات: حضرت خواجہ مولانا قطب کمال الدین چشتی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

حضرت خواجہ مولانا قطب کمال الدین چشتی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ شیخ بایزید بن حضرت شیخ نصیر الدین بن بابا شیخ فرید چشتی گنج شکر رحمۃ اللہ علیہ بن حضرت شیخ سلمان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ بن قاضی شعیب بن حضرت احمد بن یوسف بن حضرت شہاب الدین بن فاروق کابلی چشتی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ،
آپ کا سلسلہ نسب خلیفۂ دوم حضرت امیر المؤمنین فاروق اعظم رضی اللہ عنہ سے ملتا ہے۔ آپ کے چھٹے سلسلے کے دادا حضرت شیخ یوسف چنگیزی عہد میں ہندوستان تشریف لائے اور قصبہ کوتوال، نزد ملتان (پنجاب) میں قیام فرمایا، حضرت خواجہ نظام الدین اولیا محبوب الہی دہلویؒ نے 690ھ بمطابق1291ء میں حضرت خواجہ مولانا قطب کمال الدین چشتی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو خلعت وخلافت عطا فرمایا کر ملک مالوہ کی رہنمائی کے لیے روانہ فرمایا۔
آپ دہلی سے اُجین ہوتے ہوئے پیران دھار تشریف لائے اور یہاں پر 41/سال درس وتدریس کا سلسلہ جاری رکھا۔ راجہ پرنمل گورنر مالوہ نے آپ سے اسلام قبول کیا، سلطان محمود شاہ خلجی نے 861ھ بمطابق1457ء میں حضرت خواجہ مولانا قطب کمال الدین چشتی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا مقبرہ وخانقاہ بنوائی۔ 4/ذی الحج 731ھ بمطابق18/ستمبر1331ء بروز پیر کو آپ نے وصال فرمایا۔ ماخوذ: تواریخ مالوہ“

مسجد و مقبرہ کی تعمیر

یہ بلبلوں کاصبامشہدِ مقدس ہے
قدم سنبھال کر رکھیو یہ تیرا باغ نہیں
”690ھ بمطابق1291ء آپ (مولانا قطب کمال الدین چشتی) مالوہ تشریف لائے، پہلے آپ مولانا مغیث الدینؒ عرف مولاکمال خلیفہ حضرت محبوب الہی جو شہر اُجین میں دریائے شپرا کے کنارے پر مقیم تھے، کے یہاں قیام فرمایا، کچھ عرصہ اُجین میں چلی کشی کے بعد آپ دھار تشریف لائے۔ اس زمانہ میں راجہ پورنمل مالوہ کا راجہ تھا، جو مولانا کی تعلیمات سے بہت متاثر ہوا اور آپ کے حلقہ بگوش میں داخل ہوگیا۔… جلال الدین خلجی بادشاہ دہلی بھی آپ کے عقیدت مندوں میں تھا۔ اس کا لڑکا محمود خلجی دہلی سے دھار آ کر مولانا کی خانقاہ میں مقیم ہو گیا،یہاں کچھ عرصہ بعد اس کا انتقال ہو گیا، محمودخلجی کا مزار اسی احاطہ میں مولانا کے پائتیں مسجد کے دروازے پر جنوبی گوشہ میں واقع ہے۔ جس پر گنبد بنا ہوا ہے۔
دھار میں مولانا کی آمد کے پندرہ سال بعد 704ھ بمطابق 1305ء میں علاؤالدین خلجی کے سپہ سالار ملک کافور نے دھار کو فتح کرلیا۔.. علاؤ الدین خلجی بادشاہ دہلی حضرت کے عقیدت مندوں میں تھا، اس نے فتح کی خوشی میں جامع مسجد دھار کا کام شروع کیا جو دوسال کی قلیل مدت1307ء میں تکمیل کو پہونچی۔ (چوں کہ مسجد کی تعمیر بہت عجلت میں ہوئی تھی؛ اس لیے ایک صدی ہی میں اس کی حالت خستہ ہوگئی) مسجد سے متصل حضرت کے لیے حجرہ، دالان، احاطہ دار عقل کنواں تعمیر کرایا۔
دلاور خاں غوری نے 804ھ مطابق1401ء و1402ء میں مالوہ میں خود مختار سلطنت کی بنیاد ڈالی اور دھار کو اپنا پایہ تخت بنایا اس وقت جامع مسجد دھار (مسجد کمال مولا) کی حالت خستہ ہو گئی تھی۔ تعمیر کے ستانوے (97) سال بعد ہی 807ھ مطابق1403ء میں اس کی ازسرنو تعمیر کروائی….
حضرت مولانا کمال الدین ؒ کے انتقال کے ایک سو تیس سال بعد861ھ میں سلطان محمود خلجی اول نے مزار پرگنبد اور عقل کنواں کے قریب دوسرا مقبرہ، حجرہ اور احاطہ کی تعمیر کی۔ حضرت مولانا کا مقبرہ جامع مسجد مولانا کمال کے مشرقی دروازے کے باہر شمالی گوشہ میں واقع ہے۔ اسی گنبد میں مزار کے بائیں جانب مولانا کے چھوٹے بھائی مولانا نورالدین چشتی عرف شاہ عالم چشتی کا مزار ہے۔ اور سرہانے مولانا صاحب کے دوصاحبزادوں مولانا جمال الدین اور مولانا انوارالدین چشتی کے مزارات ہیں۔ اسی گنبد سے متصل دوسرا گنبد ہے جس میں سلطان دلاور خان غوری اور ان کے شیخ طریقت اور مخدوم ناصر الدین شاہ ابدال اور بہت سے بزرگوں کی قبریں ہیں۔ مسجد کے بیرونی دروازے کے جنوبی گوشہ میں سلطان جلال الدین کے فرزند محمود خلجی کا گنبد ہے۔ اسی احاطہ میں مولانا حسام الدین صاحب اور بہت سے بزرگ مع شاہی خاندان کے افراد دفن ہیں۔“
(مالوہ کی کہانی تاریخ کی زبانی،صفحات220/ تا922/قاضی عبدالقدوس فاروقی، پاریکھ آفیسٹ ندوہ روڈ، لکھنؤ،1416ھ مطابق1995ء)

مقدر ہو تو خاک سے پوچھو کہ اے لئیم!
تو نے وہ گنجہائے گراں مایہ کیا کیے؟

جاری۔۔۔۔۔

Comments are closed.