ملک کی تشویشناک صورتحال

 

 

محمد صابر حسین ندوی

Mshusainnadwi@gmail.com

7987972043

 

 

ملک میں ہر محاذ کشمکش اور پش و پیش کے ساتھ ساتھ افراط و تفریط سے دوچار ہے، عوامی زندگی کوفت سے بھری جارہی ہے، اعلی عہدیداروں نے اپنی تجوریاں بھرنی شروع کردی ہیں، سرکاری جائدادیں خرید کر اپنے آبائی ورثہ میں شامل کر رہے ہیں، جبکہ متوسط طبقہ گھر کی پائی پائی خرچ کرنے پر مجبور ہے، پیٹرول کی قیمت سو روپے سے متجاوز ہوچکی ہے، گیس کا بھاؤ بھی چھیاسی روپے سے زائد ہے، سبزیاں گوشت سے زیادہ مہنگی ہورہی ہیں، مسالے کے بِنا سالن کا مزہ پھیکا ہوا جارہا ہے، رہے غریب تو وہ ہمیشہ کی طرح پیٹ پر پتھر باندھے، کشکول گدائی لئے زندگی کا بوجھ ڈھونے پر مجبور ہیں، رپورٹس آچکی ہیں کہ ملک میں بیس کروڑ سے زائد لوگ بھوکے پیٹ سونا پڑتا ہے، مزدوروں کی مزدوری چوپَٹ ہوگئی ہے، نوکریاں خواہ و خیال ہوگئی ہیں، نوجوانوں میں ذہنی امراض بڑھ رہے ہیں، خصوصاً لاک ڈاؤن کے بعد اس کی شرح میں مزید اضافہ ہوا ہے، حیرت کی بات ہے کہ دیش مہنگائی کے سلسلہ میں پڑوسی ممالک سے بھی فوقیت لے گیا، جس پٹرول کو ملک عزیز بھوٹان، نیپال وغیرہ میں سپلائی کرتا ہے وہاں عوام بمقابلہ ہندوستان کے پیٹرول سَستا نصیب ہوتا ہے، ایک سروے میں عالمی صحتی ادارے نے یہاں تک کہا کہ ملک میں ٦١/فیصد سے زیادہ لوگ ڈپریشن کے شکار ہیں، ہمارا ملک خوشیوں کے معاملے میں پاکستان سے بھی پچھڑ گیا ہے، اسی طرح سرحد پر چین نے لگ بھگ دس کلومیٹر کا حصہ قبضہ کرلیا ہے، اور مجبوراً مفاہمت کی بات کی جارہی ہے، خود راجناتھ سنگھ اسے بیان کرتے ہوئے سینہ ٹھونک رہے تھے؛ لیکن ملک کے اعلی افسران ناراض ہیں، وہ اسے خطرناک بتارہے ہیں، کچھ دن پہلے لداخ میں بھی چینی ایکٹیویٹی کی خبر آئی تھی، نیز اس وقت سے بڑا بحران کسانوں کے ساتھ ہورہا ہے، وہ ابھی تقریباً اسی دنوں سے دہلی کی سرحدوں پر دھرنا دئے ہوئے ہیں، ان کی کوئی شنوائی نہیں ہورہی ہے، بلکہ انہیں مار پیٹ کر اور بارڈر پر قید و بند لگا کر روکنے کی کوشش ہے، ان میں پھوٹ ڈالنے کی سعی کی جارہی ہے، آج حضرت مولانا سجاد نعمانی ندوی دامت برکاتہم نے علماء اور امت مسلمہ کی جانب سے نمائندگی کرتے ہوئے سنگھور بارڈر پر بنفس نفیس شرکت کرتے ہوئے کسان آندولن کو خطاب کیا، آپ کی زبان سے نکلا ہوا ایک ایک لفظ جامعیت، استقلال، ایمان اور توکل سے بھرپور تھا، آپ نے پوری کسان برادری کو انسانیت کا پیغام دیا، ان کے حوصلے کو سلام پیش کیا، ملک کی صورتحال پر انہیں دوٹوک فیصلہ لینے اور فاشزم، ڈکٹیٹرشپ کے خلاف قدم بڑھانے کی نہ صرف تائید کی بلکہ تحسین بھی فرمائی، وہیں کسان نیتا راکیش ٹکیت یہاں تک کہہ چکے ہیں کہ یہ آندولن غیر معینہ وقت کی طرف بڑھ رہا ہے، اگر ایسا ہی رہا تو ہم ٢٠٢٤/ تک دھرنا دیتے رہیں گے.

اب تک کسان آندولن میں دو سو سے زیادہ لوگ مارے جاچکے ہیں، جن کی آہ بیرون ممالک میں بھی سنائی دی جارہی ہے، آج امریکہ کے اندر باقاعدہ کسانوں کو سپورٹ کرنے کیلئے چندہ کیا گیا، وہاں موجود سِکھ جماعت نے اپنے آباء و اجداد کا حوالہ دیتے ہوئے یہاں تک کہا کہ ملک کا نام خراب ہورہا ہے، چنانچہ ہم سے جو بَن پڑے گا وہ کریں گے، ملک کی اس حیران کن کیفیت میں سرکار اب بھی اپنے مفادات میں مَگن ہے، وہ بنگال انتخابات میں جی جان لگائے ہوئے ہے، امت شاہ نے وہیں پیر توڑ لئے اور باقی سارے معاملات پس پشت ڈال دئے ہیں؛ حتی کہ وہ ان متنازع بیانات سے بھی پرہیز نہیں کر رہے ہیں جن سے ملکی معیشت، سیاست اور سالمیت میں بھونچال آیا ہوا ہے، اور جن کی وجہ سے عالمی ادارے ملک کو گوشہ چشم سے دیکھتی ہے، انہوں نے بنگال میں پھر سی اے اے کا شوشہ چھوڑا ہے، ان کا کہنا ہے کہ اپریل میں بنگال کے اندر سرکار بننے کے بعد سی اے اے نافذ کیا جائے گا، جبکہ راہل گاندھی کہتے ہیں کہ نافذ نہیں کیا جائے گا، امت شاہ کو اویسی صاحب نے صاف صاف کہہ دیا ہے کہ اگر سی اے اے لا گو کیا گیا تو پھر احتجاج کیا جائے گا، اس پر امت شاہ پارلیمنٹری قوانین کا حوالہ دے کر آگے بڑھ جاتے ہیں، جس سے یہ یقین ہوا جاتا ہے کہ انہیں سیاسی مفاد کے علاوہ کچھ بھی عزیز نہیں ہے، اس کے بالمقابل لگاتار کسان آندولن اور دیگر سماجی شخصیتوں کو ٹارگٹ کرتے ہوئے دیش دروہ (UAPA) کے تحت جیلوں میں ٹھونس رہی ہے، حتی کہ نوجوان جو کچھ بھی اگر حکومت کے مخالف کہہ جاتے ہیں انہیں پس زنداں ڈال دیا جاتا ہے، آج دیشا روی ٢١/سالہ خاتون کو گرفتار کرلیا گیا، جو ایک فضائی آلودگی کے خلاف مہم میں متحرک رہتی ہے، یہ گویا سرکار ہمیں بتا رہی ہے کہ اپنے بچوں کو سنبھالو! نہیں تو ہم جیلوں میں قید کردیں گے، اسی طرح وزیر اعظم دفاعی پوزیشن میں ہیں وہ لگاتار سبھی کو یہ باور کرانے کی کوشش کر رہے ہیں؛ کہ ملک میں سب کچھ اچھا چل رہا ہے، وہ اپنے حلیہ سے لیکر بات چیت اور ہاؤ بھاؤ سے بھی لوگوں متوجہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، پارلیمنٹ میں جادوئی بیان اور آنسوؤں کا قصہ تو خوب سرخیاں لے گیا؛ لیکن واقعہ یہ ہے کہ اب بات ہاتھ سے نکل چکی ہے، عوام نے پچھلے چھ سالوں میں تجربہ کرلیا ہے کہ وہ جھوٹ کے سوا کچھ نہیں جانتے، لوگوں کو تسلی دے کر صرف اپنی سیاست چمکاتے ہیں، انہیں ملک کی مہنگائی، غریبوں کی غریبی سے کوئی واسطہ نہیں ہے، انہیں تو صرف امبانی اور اڈانی کی پرواہ ہے، جنہیں ستر سال میں بنائے گئے تعمیری کاموں کو بیچ دینا ہے، اور ان سے چندہ لیکر سیاسی افق پر بادشاہت کا تاج پہنے رہنا ہے، بہت افسوس کی بات ہے کہ جس ملک کی تاریخ کو دنیا سلام کرتی ہے، جس کی ثقافت و تہذیب اور رواداری کی داد دیتی ہے، جس کو کبھی سونے کی چڑیا کہہ کر استعماری طاقتیں حملہ ور ہوتی تھیں وہ غریبی، بھوک مری اور نفرتوں کی سوداگری کا اڈہ بن چکا ہے، وقت ہے کہ اہل دانش ہوش میں آئیں اور ملک کی باگ ڈور سنبھالیں ورنہ کف افسوس ملتے رہ جائیں گے.

 

 

Comments are closed.