جامع مسجد مولانا کمال دھار کی زیارت(4) 

 

بقلم:

مفتی محمد اشرف قاسمی

(مہدپور، اجین، ایم پی)

 

خطۂ مالوہ کو یہ شرف بھی حاصل ہے کہ جب نبوت کی کرنیں سرزمین عرب پر پھیل رہی تھیں تو اسی وقت معجزہ شق القمر (بخاری ج2/ص721/،مسلم ج2/ص272/ مستدرک حاکم ج2/ص472 )

کے ذریعے اس کی روشنی سے مالوہ کی سرزمین بھی روشن ومنور ہوئی۔ ذیل میں معجزہ شق القمر اور مالوہ میں راجہ بھوج کے قبول اسلام کےتعلق سے کچھ باتیں تحریر کی جارہی ہیں، ان کا مطالعہ شاید ہمارے ایمان وایقان میں بڑھوتری اور تقویت کا ذریعہ ثابت ہو۔

ہم اسی دن رات بارہ بجے کے بعد اپنے گھر پہونچ گئے بعد میں مفتی سجاد صاحب مظاہری (خادم خاص حضرت مولانا شیخ محمد یونس صاحبؒ) [سابق شیخ الحدیث جامعہ مظاہر علوم سہارنپور] نے معجزہ شق القمر دیکھ کر دھار کے راجہ بھوج کے ایمان لانے کے سلسلے میں معلومات پر مشتمل ایک کرم خوردہ کتاب جس کے سرورق پر ”گلدستہ عطار‘ حصہ دوم،’چمنستان رسالت‘۔ مصنفہ:مولانا مولوی محمد حسین صاحب صدیقی اکبربادی، مطبع العلائی واقع آگرہ طبع شد، باہتمام حافظ فیاض الدین پرنٹر“

تحریر لکھی ہوئی تھی۔اس کے صفحات نمبر71 و 72/ کی اسکرین شارٹ ہمارے واٹس ایپ پر ارسال کی۔ دھار کے راجہ کے تعلق سے وہ جزو نقل کرنا مناسب معلوم ہوتا ہے:

”سوانح الحرمین میں لکھا ہے شہر دار (یہاں مصنف نے "دھار”کو عربی میں "دار” کہا ہے. اشرف) متصل دریائے چنبل صوبہ مالوہ میں واقع ہے۔ وہاں کے راجہ….(کرم خوردہ حصہ).. ایام اپنے محل کی چھت پر بیٹھا ہواتھا، یکبارگی اس نے دیکھا کہ چاند دو ٹکڑے ہوگیا اور پھر مل گیا اس نے صبح تمام پنڈتوں کو بلایا اور حال دریافت کیا، پنڈتوں نے عرض کیا کہ یہ ہماری کتابوں میں لکھا ہے کہ ایک پیغمبر عرب میں پیدا ہوں گے ان کے ہاتھ سے یہ معجزہ شق القمر کا ظاہر ہوگا۔ چنانچہ راجہ نے اپنے ایک ایلچی اسی دن حضور ﷺ کے حضور میں بھیجا اور ایمان لایا، آپ نے اس کا نام عبد اللہ رکھا، اور قبر اس راجہ کی اس شہر کے باہر اب تک زیارت گاہ ہے، تاریخ فرشتہ میں لکھا ہے کہ چلبار کے ایک راجہ نے مسلمانوں کی زبانی قصہ شق القمر کا سنا تب بڑے بڑے پنڈتوں سے اپنے….(کرم خوردہ حصہ).. طلب کی، تواریخ میں دریافت کرایا، پنڈتوں نے اس معجزہ کی پوری پوری تصدیق کردی وہ راجہ بھی مسلمان ہوگیا اور بہت سے کفار بھی اس معجزہ سے مسلمان ہوگئے۔”

(گلدستہ عطار‘حصہ دوم،’چمنستان رسالت‘۔ صفحات 71 و72/مصنفہ: مولانا مولوی محمد حسین صاحب صدیقی اکبرآبادی، مطبع العلائی واقع آگرہ طبع شد، باہتمام حافظ فیاض الدین پرنٹر)

 

جامع مسجد مولانا کمالؒ پر غیروں کا غلط دعوی

 

معجزہ شق القمر کی رؤیت سے راجہ بھوج کے ایمان لانے کی تاریخی شہادات اور تحریروں سے بسا اوقا ت اُس خیال کو تقویت حاصل ہوتی ہے کہ یہ مسجد راجہ بھوج کی پاٹ شالہ ہے، جِسے آگے چل کر مسجد میں تبدیل کردیا گیا۔ جیسا کہ خودمیونسپلٹی دھار (بلدیہ، حکومت مدھیہ پردیش) نے بھوج شالہ کی تختی لگا رکھی ہے۔ اس سلسلے میں قاضی عبد القدوس فاروقی لکھتے ہیں:

”ہندو مؤرخ اور دھار کے ہندو عوام اس جامع مسجد کو بھوج شالہ کا نام دیتے ہیں، دھار میونسپلٹی نے بھی بھوج شالہ کی تختی لگارکھی ہے، ان کا کہناہے کہ یہ راجہ بھوج کی سنسکرت کی پاٹھ شالہ تھی جس کو مسلمان بادشاہوں نے مسجد بنالی اور اس میں سرسوتی کی مورتی نصب تھی جو اب لندن کے میوزیم میں ہے۔

دھار ریاست کے زمانہ سے ہی یہ قضیہ چل رہا ہے، آزادی سے پہلے رزیڈینٹ اندور نے اس کو مسجد ہی ماناہے، آزادی کے بعد یہ تنازعہ مرکزی حکومت ہند کے رو برو پیش ہوا، حکومت نے اس کو مسجد مان کر محکمۂ آثار قدیمہ کے تحفظ میں دیدیا ہے اور پنجوقتہ نماز پر پابندی لگادی ہے، صرف جمعہ کی نماز یہاں ادا کی جاتی ہے، مسجد سیاحوں کے لیے روزانہ صبح 8/ بجے سے شام 5/ بجے تک کھلی رہتی ہے، بعد میں مقفل کردی جاتی ہے۔“(مالوہ کی کہانی تاریخ کی زبانی، صفحہ218/ قاضی عبد القدوس فاروقی، پاریکھ آفیسٹ ندوہ روڈ، لکھنؤ، 1416ھ مطابق1995ء)

راجہ بھوج سے اس مسجد کا رشتہ جوڑنے کی وجہ یہ ہے کہ دھار میں تین بھوج ہوئے ہیں ان بھوج راجاؤں کی تعیین میں اشتباہ کی وجہ سے اس مسجد کا رشتہ راجہ بھوج سے جوڑ دیا جاتا ہے۔ قاضی عبدالقدوس صاحب فاروقی لکھتے ہیں:

’’دھار میں بھوج راجہ تین ہوئے ہیں، پہلا بھوج راجہ3ھ مطابق624ء (مصنف یا کاتب سے سن ہجری لکھنے میں تسامح ہوا ہے۔ یہاں سن نبوی لکھنا چاہیے، کیوں کہ معجزہ شق القمر ہجرت سے تقریبا پانچ سال قبل پیش آیا تھا۔ (روح المعانی:ج14/ص75/ اشرف قاسمی)۔ جس نے معجزہ شق القمر دیکھا تھا، اور مسلمان ہوگیا، بھوج دوم 1010ء سے 1055ء میں ہوا جو حضرت عبداللہ شاہ چنگال کے ہاتھ پر ایمان لایا اور عبداللہ نام رکھا تھا، بھوج سوم کا عہد 1280ء سے علاؤالدین خلجی کے مالوہ (دھار) فتح کرنے تک کا تھا، ان تینوں بھوج راجاؤں نے اس مقام پر کوئی پاٹھ شالہ نہیں بنائی تھی جس کو جامع مسجد میں تبدیل کیا گیا ہو۔“(مالوہ کی کہانی تاریخ کی زبانی، صفحات219/ قاضی عبد القدوس فاروقی، پاریکھ آفیسٹ ندوہ روڈ، لکھنؤ، 1416ھ مطابق1995ء)

 

جاری۔۔۔

Comments are closed.