عدلیہ کی حقیقت، منصف اعلیٰ کی زبانی –
محمد صابر حسین ندوی
Mshusainnadwi@gmail.com
ہندوستان کی عدلیہ کتنی بھروسے مند اور قابل اعتماد ہے، یہ کسی اور سے پوچھنے یا جاننے کی ضرورت نہیں ہے، عربی میں کہاوت ہے: صاحب البیت أدری بما فیہ – گھر کے بارے میں گھر والا ہی زیادہ بہتر جانتا ہے، اسی لئے تو محاورتاً کہتے ہیں- گھر کا بھیدی لنکا ڈھائے- اس وقت ملک میں سب سے بڑی عدالت سپریم کورٹ ہے، جہاں تک پہنچنا ہر کسی کے بَس کی بات نہیں ہے، نچلی عدالتیں، اعلی اور پھر عظمی تک کا سفر انسان اس امید سے کرتا ہے کہ اسے انصاف ملے گا؛ لیکن سچ یہی ہے کہ عدالتی نظام میں بالعموم اور بالخصوص رواں حکومت کی پالیسیوں سے اس قدر در آئی ہے کہ انصاف صرف ایک معمہ بن کر رہ گیا ہے، ہندو تنظیموں نے پہلے ہی یہ سمجھ رکھا تھا کہ عدالتی فیصلے پر تکیہ کرنا مناسب نہیں، اس لئے انہوں نے سیاست میں تقویت پانے اور ملکی باگ ڈور سنبھالنے کی کوشش زیادہ کی ہے، مگر افسوس کہ مسلمانوں نے امانت و دیانت اور اس سے زیادہ اپنی سستی و نااہلی کی بنا پر ہمیشہ عدالتی نظام کی دہائی دینے میں ہی سب کچھ لُٹا دیا، آج ان کے پاس نہ بابری مسجد ہے اور ناہی کسی بھی دنگے و فساد کے متاثرین کیلئے کوئی انصاف ہے، اس سلسلے میں سابق چیف جسٹس رنجن گگوئی شکریہ کے مستحق ہیں کہ انہوں نے سرعام ایسے فیصلے دئے جس نے مسلمانوں کے دماغ ہتھوڑے کا کام کیا، اور مزید یہ احسان کیا ہے کہ اب وہ خود راز فاش کر رہے ہیں، انڈیا ٹوڈے اور اسکرول ڈاٹ اِن وغیرہ نے رپوٹ شائع کی ہے کہ راجیہ سبھا کے ممبر اور سابق چیف جسٹس آف انڈیا رنجن گوگوئی نے عدلیہ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے؛ کہ اگر کوئی ہندوستانی عدالتوں میں جاتا ہے تو انہیں کسی فیصلے کے لئے بلا روک ٹوک انتظار کرنا پڑے گا۔ انہوں نے انڈیا ٹوڈے کانکلیو کے ایسٹ میں جمعرات کو کہا: "اگر آپ عدالت جاتے ہیں تو آپ کو فیصلہ نہیں ملتا، آپ جو کچھ کرتے ہیں وہ آپ کے گندے کپڑے دھوتے ہیں۔” انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہندوستان میں عدلیہ "بے چارگی” کی حالت میں ہے۔ گگوئی نے مزید کہا: "ایک عدلیہ کی حیثیت سے عدلیہ کتنا اہم ہے اس پر زور دینے کی ضرورت نہیں ہے۔” "آپ ٥/ ٹریلین ڈالر کی معیشت چاہتے ہیں؛ لیکن آپ کی عدلیہ بےچارگی کی کیفیت میں ہے۔” اور یہ اقرار کیا کہ ہندوستان میں نچلی عدالتوں کے اوپر ٢٠٢٠ میں تقریباً ٦٠/ لاکھ نئے کیسز کا اضافہ ہوا ہے۔ اسی طرح ہائی کورٹس میں زیر التواء مقدمات کے اعداد و شمار میں بھی لگ بھگ ایسے ہی اضافہ ہوا ہے۔
سابق چیف جسٹس نے اس حقیقت کو اس وقت واضح کیا جب ان پر لگے الزامات کیلئے عدالت کا رخ کرنے کی بات کہی گئی تھی، سانسد میں مہوا مترا نے صاف صاف کہا تھا کہ سابق چیف جسٹس اور راجیہ سبھا ممبر وہ ہیں جن پر انہیں کی ماتحتی میں کام کرنے والی خاتون نے جنسی زیادتی کی شکایت کی تھی، جس پر عدالت عظمیٰ میں سماعت کی گئی، لطف یہ ہے کہ وہ خود اس شنوائی کا حصہ تھے، گویا ملزم نے خود الزامات سنے اور اپنی نگرانی میں برأت پائی اور اپنے عہدہ سے فارغ ہونے کے بعد صرف تین مہینے کے اندر ہی راجیہ سبھا کے ممبر بن گئے، ویسے ہر ایک کو یاد ہوگا کہ انہوں نے بھی ٢٠١٧ میں اس میڈیا کانفرنس میں شرکت کی تھی جس کے اندر تاریخ میں پہلی دفعہ عدالت عظمیٰ کے اعلی منصفین نے حکومت اور عدالتی نظام پر سوال اٹھایا تھا، انہوں نے قبول کیا تھا کہ ہمارا منصفانہ نظام صرف امیروں کیلئے ہے؛ نیز وہ اعلی عہدیداروں، مالداروں کا غلام ہے، اسے حکومت اُچک لینے کے درپے ہے، طرفہ دیکھئے کہ جس حکومت کی شکایت عوامی عدالت میں لگائی اسی کی سفارش اور مہربانی نے انہیں موم کردیا، وہ اب رواں حکومت کے گُن گاتے ہیں، ان کی ہر پالیسی پر رطب اللسان ہیں، عدلیہ اور سرکار کو باہمی معاونت کی ہدایت دیتے ہیں، جبکہ جمہوریت میں دونوں ہی الگ الگ ادارے ہیں، ان کے سر پر یقیناً مالک اعلی کا ہاتھ ہوگا تبھی تو بابری مسجد کا فیصلہ یہ کہتے ہوئے ہندوؤں کو دے دیا تھا کہ اگرچہ اس کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ یہاں پر رام کی پیدائش ہوئی، پھر بھی اکثریت کا احساس اس سے منسلک ہے، چنانچہ فیصلہ ان کے حق میں دیا جاتا ہے، سچ تو یہ ہے کہ سابق چیف جسٹس رنجن گگوئی کے فیصلے پی ایچ ڈی کرنے کا ایک اہم موضوع ہے، ہمیں امید ہے کہ مستقبل میں مؤرخین انہیں ہرگز نہیں بھولیں گے، ساتھ ہی اس بات کا بھی یقین ہوا جاتا ہے کہ اب مسلمان ضرور سمجھ چکے ہوں گے کہ جمہوریت بالخصوص ہندوستانی جمہوریت میں اصل سیاسی قوت ہے، جب تک سیاسی میدان کے شہ سوار نہ بنیں گے، اپنی عملی میدان کا اہم مرکز نہ بنائیں گے تب تک پیام انسانیت، رواداری کی باتیں، جمہوریت کے نعرے، گنگا جمنی تہذیب وغیرہ وغیرہ سب کھوکھلے اور بےبودہ ہیں.
Comments are closed.