مگر محفل تو پروانوں سے خالی ہوتی جاتی ہے
آہ! حضرت مولانا قاضی عبد الجلیل صاحب ؒ چیف قاضی امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ اب ہمارے بیچ نہیں رہے۔
یقین کرنا مشکل ہو رہا ہے، حضرت قاضی صاحب بالکل ٹھیک تھے، کل سویرے بھی اور آج بھی میں ان کی خدمت میں استفادے کے لیے گیا، حسب معمول مسکراہٹ کے ساتھ استقبال کیا اور بیٹھنے کا اشارہ فرمایا، تقریبا تین گھنٹے قضاء کے سلسلے میں اپنے مختلف تجربات کی روشنی میں میری تربیت فرماتے رہے، ولایت، وکالت کے کئی اہم مسائل پر میرے اشکالات کا سہل انداز میں جواب دیا، نحو و صرف کے کئی قواعد، اشکالات اور ان کے جوابات دیے۔
کل انہیں گھر جانا تھا اور اگلے جمعہ کو واپسی تھی، چھ ماہی تربیت قضاء کا میرا وقت آئندہ منگل کو پورا ہو رہا ہے، دورانِ تربیت حضرت قاضی وصی احمد صاحب تشریف لے آئے اور میرے سلسلے میں کہا کہ مولانا۔۔۔ کا وقت مکمل ہو رہا ہے تو فرمانے لگے کہ کچھ وقت بڑھا لیجیے، اگلے جمعہ گھر سے واپسی کے بعد میں المعہد میں دو تین دن محاضرہ پیش کروں گا، اس میں آپ بھی رہیے، فائدہ ہوگا مگر کسے پتہ تھا کہ یہ آخری ملاقات ہوگی۔
ایک دن فرما رہے تھے کہ گھر سے بھائی اور بہن کا فون آرہا ہے کہ ایک بار گھر آجائیں، ہم لوگ ایک بار مل لیں، وہ دونوں بھی اپنی طبعی عمر کو پہنچ گئے ہیں اور بیمار رہتے ہیں اور میری طبیعت بھی اچھی نہیں رہتی ہے، سوچتا ہوں جاڑا کم ہو تو جاکر مل لوں۔
حضرت کا یہ سفر اپنوں کی اسی خواہش کی تکمیل کے لیے تھا مگر اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنے جوارِ رحمت میں بلا لیا۔
قاضی صاحب اب ہمارے درمیان نہیں رہے؛ لیکن وہ اپنی خدمات کی وجہ سے مرنے کے بعد بھی زندہ اور تابندہ رہیں گے۔
خاک میں جسم تو چھپ جاتا ہے؛ لیکن انسان کے مخلصانہ کارنامے تہِ خاک ہوجانے کے بعد اور بھی درخشاں ہوجاتے ہیں۔
ہاں افسوس رہے گا تو اِس کا کہ قضا کے پیچیدہ مسائل کی گتھیوں کو سلجھانے والی _قاضی صاحب_ جیسی شخصیات ایک ایک کرکے رخصت ہوتی جاتی ہیں:
فروغِ شمع تو باقی رہے گا صبحِ محشر تک
مگر محفل تو پروانوں سے خالی ہوتی جاتی ہے
انا للہ وانا الیہ راجعون․ اللّٰھم لا تحرمنا اجرہ ولا تفتنا بعدہ․
تغمداللہ الفقید برحمتہ وجعل الجنۃ مثواہ
*سوگوار: محمد امداداللّٰہ قاسمی مدھوبنی*
Comments are closed.