جامع مسجد مولانا کمال دھار،کی زیارت (6)
بقلم: مفتی محمداشرف قاسمی
(مہدپور،اجین، ایم۔ پی)
زمینی صورت حال،مذاکرہ
صبح سات بجے مہدپور سے روانہ ہوکر ساڑھے بارہ بجے ہم دھار پہونچ گئے، ناشتہ وغیرہ سے فراغت کے بعدتھوڑی دیرمیزبانوں اور مہمانوں کے درمیان باہم مذاکرہ ہوا،جس میں قابل ذکر باتیں درج ذیل ہیں۔
مہمان : یہاں مساجد کی تعدادکتنی ہے؟
میزبان: یہاں تقریبا 22/23/ مساجد ہیں۔
مہمان :(تبلیلغی جماعت کے نظام کے تحت) دعوت کا کام کتنی مسجدوں میں ہوتا ہوتا ہے؟
میزبان:تین مسجدوں میں، لیکن یہاں مسلکی تشدد نہیں ہے۔
مہمان: جمعہ کی نماز کتنی مسجدوں میں ہوتی ہے؟
میزبان:صرف جامع مسجد مولانا کمال میں، لاک ڈاون میں جمعہ پرپابندی تھی، اس لیے جامع مسجد مولانا کمال کے علاوہ دوسری کئی مسجدوں میں جمعہ کی نماز شروع ہوگئی ہے۔ لیکن پرسوں5/فروری2021ء کو لاک ڈاون کے بعدجامع مسجد مولانا کمال میں پہلی بارجمعہ کی نمازہوئی ہے۔ لیکن ابھی مختلف مسجدوں میں بھی جمعہ کی نماز ہورہی ہے اُسے روکنا مشکل ہورہا ہے۔
مہمان: ہرممکن کوشش کرکے جامع مسجد مولاناکمال میں تمام مسلمان جمعہ کی نمازادا کریں،اوردیگر مساجد میں جمعہ کورُکوادیں۔
مہمان :یہاں مسلمانوں کی آ بادی کتنی ہے؟
میزبان :یہاں مسلمانوں کی آبادی بیس پچیس ہزار ہے۔ دوسری قومیں اکثریت میں ہیں۔ مسلسل دنگوں اورمسلم مخالف فسادات کی وجہ سے بڑی تعداد میں مسلمان یہاں سے اندور اوردوسرے شہروں کی طر ف ہجرت کرگئے۔
مہمان :اہل ایمان میں اعلی تعلیم یافتہ افراد کتنے ہوں گے، اور کس شعبہ سے متعلق ہیں؟
میزبان: یہاں اہل ایمان وکلاء کی تعدادزیادہ ہے۔
مہمان : یہ خوشی کی بات ہے۔ کیوں کہ ہمارے پاس وکلاء کی ٹیم کا ہونا
بہت بڑی ضرورت ہے۔ لیکن اس کے باوجود مسلمانوں نے یہاں سےنقل مکانی کیوں کی؟
میزبان:معاشی مشکلا ت ہیں۔
مہمان : اگر وکالت کوخدمت کے جذبے سے اختیارکیاجائے توصورتِ حال بدل سکتی ہے۔آج مسلمانوں کے ساتھ جوحالا ت ہیں وہ ایسے ہیں کہ مسلمان "خان صاحب” بن کر ہندوستان میں نہیں رہ سکتے ہیں۔ لیکن "مسلمان” بن کر رہ سکتے ہیں۔ مسلمان بن کر اگرآ پ کسی محکمہ میں خدمات انجام دے رہے ہیں تودوسرے طبقات ہی آ پ کی حفاظت کریں گے۔اور اگر اسلامی اخلاقیات کو چھوڑ کر "خان صاحب” یا”تُرَّمْ خاں” یا”میاں بھائی” بن کر بداخلاقی میں ملوث ہوئے تو سب سے پہلے مسلمان کے خلاف کاروائی ہوگی۔ المیہ یہ ہے کہ ہم نے تعلیم کو خدمت کے بجائے معاش (Profession) سے جوڑلیا ہے، اور زندگی کے مختلف شعبوں میں "مسلمان” کے بجائے "خان صاحب” یا”ترم خاں” یا "میاں بھائی” بن کر رہناچاہتے ہیں۔
ہزاروں سال کی ستائی ہوئی قومیں اورمسلمان
مہمان : غیرمسلموں میں کس برادری کی آبادی یہاں زیا دہ ہے؟
میزبان: یہاں مالی برادری کی تعدادزیادہ ہے۔
مہمان: ملک کی پسما ندہ اقوام کو غلامی سے نکالنے اور ان کے گلوں سے ہانڈی اُتارنے کے لیے مالی برادری سے تعلق رکھنے والے ”جیوتی باپھو لے“اور”ساوتری بائی پھولے“ نے سب سے پہلے تحریک چلا ئی، اورعام مسلمانوں نے عموما ”عثمان شیخ“نے خصوصا’’جیوتی باپھو لے“ کی بھرپور امداد کی۔یہی ”جیو تی باپھو لے“ڈاکٹر امبیڈکر کے استاذ اور گرو ہیں۔ ڈاکٹر امبیڈکر کی ہرطرح مسلمانوں نے مدد کی،جب ملک کے بڑے بڑے نیتاؤوں نے ان کے لیے مقننہ کا دروازہ بند کر دیا تھا، تب بنگال سے مسلمانوں نے انھیں منتخب کرکے مقننہ میں پہونچایا اور پھروہ بھارت کے قانون سازبنے۔
”ساوتری بائی پھولے“ جب تعلیم کی جیوتی جلارہی تھیں توان کے اوپر کچھ لوگ گوبرپھینک کرانھیں پریشان کرتے تھے، انھیں ”فاطمہ شیخ“ نے اپنا مکان دیا اوران کی بھرپور مدد کی۔ آج حالات یہ ہیں کہ جن لوگوں نے مالی یادیگر پسماندہ اقوام اور ان کے لیڈروں پر گوبرپھینکا اورتعلیم سے انھیں محروم رکھنے کے کو پوری کوششیں کیں، مالی ودیگر پسماندہ قومیں اپنے انھیں بدخواہوں کا دست وبازوبنی ہوئی ہیں۔ اورجس قو م نے مصیبت کی گھڑی میں ان کے مدد کی وہ اپنے انھیں محسنوں کے خلاف صف بستہ ہیں۔ یہاں موردِ الزام جتنایہ کمزور قومیں ہیں اتناہی موردِ الزام اہلِ ایمان بھی ہیں۔کیوں کہ موجودہ دورمیں دماغ کی لڑائی ہے، دشمن اپنے غلاموں کو دماغ کے ذریعہ دوبارہ اپنا غلام بنا کر اہل اسلام کے خلا ف صف بستہ کرنے میں کامیاب ہوگیا۔اور ہم شکوہ،شکایت میں لگ کر دماغی معرکے میں اپنی کوششوں کی شروعات بھی نہ کرسکے۔ ضرورت ہے کہ ہم ملک کی پسماندہ اقوام کے سامنے تاریخی حقائق کو انھیں کی زبا ن میں پیش کریں، اوربتائیں کہ ہزاروں سال تک تم کو جانوروں سے بدتر زندگی جینے پر کس نے مجبور کیا؟ اور تمہیں غلامی کے دلدل سے نکالنے کے لیےکس نے قربانیاں دی ہیں؟
میں قارئین کو یہاں بتاتاچلوں کہ ایک بہت بڑے اسلام دشمن لیڈر نے کہا تھا کہ : "دلتوں کی بری حالت اسلام اور مسلمانوں کی وجہ سے ہوئی ہے”
اس بیان (Statement) کےجواب میں جناب انتظار نعیم صاحب نے ویدوں اور منواسرتی کے حوالے سے ایک کتاب لکھی "دلت سمسیا،جڑمیں کون؟ ”
اس کتاب کے مطالعہ سے معلوم ہوجائے گا کہ عام انسانوں کوچند لوگوں کا غلام بنانے کی سوچ کس طرح ملک میں کام کررہی ہے، اور ملک کے اصل باشندوں کو رسوا وذلیل کرنےمیں کون سی فکر کارفرماہے؟.
اس کے علاوہ ایم اے چودھری کی کتاب”آتنکواد کی جڑ،منوواد” اور وی ٹی راج شیکھر کی کتاب”برہمنیت” کامطالعہ کافی مفید رہے گا۔
جاری۔۔۔۔
Comments are closed.