جامع مسجد مولانا کمالؒ دھار کی زیارت (7)

 

 

بقلم: مفتی محمد اشرف قاسمی

(مہدپور ضلع اجین، ایم پی)

 

حضرت مولانا ابوالحسن علی ندویؒ کے میزبانوں کے درمیان

 

ہمارا پروگرام 2/ سے 4/ بجے تک ہونا تھا۔لیکن کچھ تاخیر سے شروع ہوا۔ اس لیے 5/ بجے ختم ہوا۔ ہمارے بچے اور مولانا اشفاق صاحب ندوی ابھی تک مانڈو سے واپس نہیں ہوئے۔فون سے رابطہ کرنے پرمعلوم ہوا پتہ کہ جہازمحل، روپ متی محل اور مختلف مقامات سے ہوتے ہوئے ابھی جامع مسجد مانڈو کی زیارت کے لیے حاضر ہوئے ہیں۔ میں نے انھیں فوراً واپس ہونے کے لیے کہا۔ لیکن میزبانوں نے بتایا کہ اگر فوراً واپس ہوتے ہیں تو بھی کم ازکم ایک گھنٹہ وقت لگے گا۔ یہاں پروگرام ہال میں ایک اور میزبان تھے، ماسٹر عبدالرحمن صاحب (جو مہدپور کے ماڈل اسکول میں تقریبا9/سال تدریسی خدمات انجام دے چکے تھے)۔ان کی خواہش تھی ہم ان کے گھر چلیں۔ مانڈو سے بچوں کی واپسی تک کے وقت غنیمت سمجھ کر ان کے گھر گئے، عصر کی نماز انہیں کے گھر پر باجماعت ادا کی گئی۔ فورا مغرب کا وقت ہو گیا مغرب کی نماز بھی وہیں ادا کی گئی۔مغرب کے بعد ہمارے بچے پہونچے سب تھکے ہوئے لیکن بہت خوش تھے۔میزبان نے پہلے چائے ناشتہ اور پھر کھانے کا پروگرام بنا لیا۔ کھانے وغیرہ میں عشاء کا وقت ہوگیا۔ اس وقفہ میں مزید کچھ ایسی باتیں ہوئیں جن سے کافی خوشی ہو ئی۔ کچھ اقتباسات مندرجہ ذیل ہیں۔

یہاں قریب میں ایک بستی "امجھہرہ” ہے جس کے تمام باشندے عربی النسل ہیں، مولانا معین اللہ ندوی (سابق نائب ناظم: دارالعلوم ندوۃ العلماء،لکھنؤ و بانی مدرسۃ الفلاح اندور) اسی گاؤں کے رہنے والے تھے۔ مہاراشٹر کے مشہور مراٹھارہنما آنجہانی بالاصاحب ٹھاکرے مہاراشٹرا کے نہیں بلکہ ان کا آبائی وطن دھار ہے ان کے آبائی مکان کے باقیات آج بھی دھار میں موجود ہیں۔

ہمارے میزبانوں میں وہ لوگ بھی اس مجلس میں تھے جنہوں نے1974ء میں حضرت مولانا علی میاں رحمۃ اللہ علیہ کی میزبانی اورخدمت کی تھی۔

میزبانوں نے بتا یا کہ ہم لوگ اس وقت بالکل نوجوان تھے۔ ما سٹرعبدا لرحمن صاحب نے بتا یا کہ اس موقع حضرت نے کہاتھا کہ میری زندگی میں کم ازکم تم ایک بارندوہ آجاؤ، یہاں سے دوسرے لوگ ندوہ چلے گئے،لیکن میں ان کی زندگی میں ندوہ نہیں جاسکا۔1974ء میں حضرت مولانا ابوالحسن علی ندوی رحمۃ اللہ علیہ کے سفردھار اور مانڈو کی بات آئی، تو میں نے فورا ًپوچھا کہ حضرت جب کوئی بات بولتے تھے تو حضرت کی آواز کو ریکارڈ کرنے کے لیے ٹیب ریکارڈ کس کے ہاتھ میں تھا۔ تو ماسٹر صاحب نے بتا یا کہ وہ ٹیب ریکارڈ ڈاکٹر آصف صاحب (جو کہ اس وقت دیواس روڈ اندور میں رہتے ہیں)کے ہاتھ میں تھا۔ یہ بھی بتا یاگیا کہ ڈاکٹر آصف صاحب مشہور فلمی اداکار سلمان خان کے ماموں ہیں۔ ٹیب ریکارڈ کے بارے میں مولانا اسحق جلیس ندوی نے لکھا کہ وہ میر ے ہاتھ میں تھا۔ (تحفہ انسانیت [حدیث مالوہ] ص177/ [سفرنامہ حضرت مولانا ابوالحسن علی ندیؒ] مرتب:مولانا اسحق جلیس ندوی، مجلس تحقیقات و نشریات اسلام لکھنؤ 1413ھ مطابق1992ء)

دونوں باتیں ممکن ہیں.

جاری۔۔۔۔

Comments are closed.