قاضی عبدالجلیل کی وفات پوری ملت اسلامیہ کے لئے ایک عظیم سانحہ۔ 

 

مولانابدیع الزماں ندوی

ملک کے ممتاز عالم دین اور فقیہ حضرت مولاناقاضی عبدالجلیل قاسمی کے بارے میں بتاریخ 5/ رجب المرجب 1442 ء مطابق 18/ فروری 2021ء بروز جمعرات یہ اضطراب انگیز خبر ملی کہ قاضی صاحب ہم سے ہمیشہ کے لئے رخصت ہوگئے ، شب وروز کے ہنگاموں میں نہ جانے کتنوں کے بارے میں یہ خبر ملتی ہے کہ وہ ہم سے رخصت ہوگئے ، بہت سوں کے چھوٹ جانے سے دل شدید رنج والم بھی محسوس کرتا ہے ، لیکن ایسے لوگ کم ہوتے ہیں جن کی وفات کی خبر دلوں پر بجلی سی گرادے ، اور جن کی یاد ان لوگوں کے دل میں بھی ایک ہوک پیدا کردے جو ان سے رشتہ داری کا رسمی رابطہ نہیں رکھتے۔ ملک کے مشہور عالم دین ، ممتاز ماہر تعلیم چیرمین انڈین کونسل آف فتویٰ اینڈ ریسرچ ٹرسٹ بنگلور و جامعہ فاطمہ للبنات مظفرپور نے مختلف اخبار کے صحافیوں کے درمیان اظہار تعزیت کے طور پر ان خیالات کا اظہا رکیا۔

انہوں نے بڑے درد بھرے انداز میں کہا کہ آ ج ہر جانے والا اپنے پیچھے ایسا مہیب خلا چھوڑ کر جارہا ہے ، جس کے پُر ہونے کی کوئی امید نظر نہیں آتی ، جہاں تک علم کے حروف و نقوش ، کتابی معلومات اور فنی تحقیقات کا تعلق ہے ، ان کے شناوروں کی اب بھی زیادہ کمی نہیں ، اور شاید آئندہ بھی نہ ہو ، لیکن دین کا وہ ٹھیٹھ مزاج و مذاق اور تقویٰ وطہارت ، سادگی وقناعت اور تواضع و للّٰہیت کا وہ البیلا انداز جو کتابوں سے نہیں ، بلکہ صرف اور صرف بزرگوں کی صحبت سے حاصل ہوتا ہے ، اب مسلسل سمٹ رہا ہے ، اور اب اس خسارے کی تلافی کا کوئی راستہ نظر نہیں آتا۔

انہوں نے کہا کہ حضرت قاضی صاحب کی تقریباً79 / سال کی عمر میں اچانک وفات ہوگئی ، درحقیقت ان کی وفات عالم اسلام کے لئے ایک عظیم سانحہ ہے۔ قضا کے سلسلے میں ان کی خدمات ناقابل فراموش ہیں ، حضرت قاضی صاحب کی تمام دینی علوم پر بڑی وسیع نگاہ تھی اور بالخصوص افتاء و قضا کے ساتھ خصوصی شغف تھا ، قاضی صاحب کو الله تعالیٰ نے حسن باطن کے ساتھ حسن ظاہر سے بھی نوازا تھا ، وہ نہایت دلکش ، وضع دار ، شگفتہ مگر متین شخصیت کے مالک تھے ، بات کرتے تو منہ سے پھول جھڑتے معلوم ہوتے ، ادادا سے خوش اخلاقی اور تواضع مترشح ہوتی تھی۔

مولانا موصوف نے کہا کہ

حضرت قاضی صاحب کی پیدائش1942 ء میں دھوبنی ضلع چمپارن میں ہوئی ، 1963 ء میں عالم اسلام کی مشہور ومرکزی درسگاہ دارالعلوم دیوبند سے فراغت حاصل کی ، فراغت کے بعد سے 19/ نومبر 1994 ء تک متعدد مدارس میں درس وتدریس کے ساتھ قضا کی خدمت بھی آپ انجام دیتے رہے ، اسی مدت میں تقریباً2/ سال تک تجارت کے مشغلہ سے بھی آپ منسلک رہے ، 20/ نومبر 1994 ء کو مرکزی دارالقضاء امارت شرعیہ ، پھلواری شریف ، پٹنہ میں آپ کا تقرر ہوا ،آپ مقدمات کی سماعت کے ساتھ ساتھ علماء و فضلاء کو قضاء کی تربیت بھی دیتے تھے ، اور پھرامارت شرعیہ میں افتاء وقضاء کی ذمہ داری کو انجام دینے میں تقریباً 27/سال گزار دیا ، اس مدت میں وہ منصب قضا پر فائز ہوکر ہزاروں مشکل اور پیچیدہ مسائل کے فیصلے کئے ، الله تعالیٰ نے فیصلہ سازی کا بہترین ملکہ ان کو عطا کیا تھا ۔

انہوں نے اپنی گفتگو کا سلسلہ جاری رکھتے ہو ئے کہا کہ جامعہ فاطمہ للبنات مظفرپور کے ایک اجلاس میں حضرت قاضی صاحب کی تشریف آوری ہوئی ، اس موقع پر ان سے تبادلہ خیال کاخوب موقع ملا ، جس نے ان کے علمی رسوخ ، فہم سلیم اور اصابت فکر کا ایک نقش دل پر قائم کردیا۔آپ مدرسہ ریاض العلوم ساٹھی کے نائب صدر ، مدرسہ اسلامیہ بتیا کے صدر ، جامعہ اسلامیہ قرآنیہ سمرا کی مجلس شوریٰ کے رکن اور دیگر بہت سے اداروں کے سرپرست تھے۔

آپ کی تدفین 6/ رجب المرجب1442ھ مطابق19/ فروری 2021 ء بروز جمعہ بعد نماز جمعہ آپ کے آبائی گاؤں”دھوبنی” کے قبرستان میں ہوئی۔

الله تعالیٰ قاضی صاحب پر اپنی رحمتیں نازل فرما کر انہیں دارِ آخرت کا سکون اور چین نصیب فرمائے ، اپنی رضائے کاملہ سے سرفراز فرمائے، ہم قاضی صاحب کے تمام پس ماندگان کی خدمت میں دلی تعزیت پیش کرتے ہیں اور اس صدمے میں ان کے ساتھ شریک ہیں ، تمام مسلمانوں سے درخواست ہے کہ حضرت قاضی صاحب کی روح کو ایصال ثواب کرنے کا اہتمام فرمائیں اور جملہ متاثرین کے لئے صبر جمیل اور نصرت خداوندی کی دعا فرمائیں ۔

Comments are closed.