جامع مسجد مولانا کمالؒ دھار کی زیارت (8)
بقلم: مفتی محمداشرف قاسمی
(مہدپور،اجین،ایم۔پی)
جڑی بوٹیاں اور املی
یہاں کے درختوں، پھلوں، جانوروں، آدیواسی علاقوں، آدیواسی قوم کے بارے میں تفصیل سے گفتگو ہوئی،خاص طورپرمفتی محمد سجادصاحب مظاہری (خادم خاص شیخ یونس جونپوری ؒ)نے بہت ہی اخلاق ومحبت کے ساتھ گفتگو کی اور آئندہ وقت نکال کر دوبارہ دھار آنےکے دعوت دی۔
جڑی بوٹیوں پربات چلی تومجھے کچھ افسوس بھی ہوا کہ کیوں کہ میں نے طب اور یونانی ادویہ پر جو کتب پڑھی تھیں، ان میں حکیم کبیر الدین ارزانی کی کتابیں بھی تھیں۔ وسط ہند کی تاریخ پڑھتے وقت میرے علم یہ بات آئی کہ حکیم کبیر الدین ارزانی نے یہیں ایم پی میں اپنی کتابیں لکھی تھیں۔ لیکن مصنف کی جائے سکونت کاعلم نہ ہونے کہ وجہ سے اپنے پاس پہلے سے موجود حکیم کبیر الدین ارزانی کی "طب اکبر” کو کسی دوسرے کو دے دی۔ خیال تھا کہ اس کتاب میں لکھی ہوئی دوائیں مدھیہ پردیش میں غیر موثر ہوں گی،اس لیے علاقائی ادویہ کوسمجھنے کے لیے اندورکی رانی "دیوی اہلیہ بائی” کے طبیبِ خاص حکیم اعظم خاں کی کتاب ”قرابادین اعظم“سے استفادہ کی کوششیں کررہا تھا۔
پہلے سے مطالعہ کی روشنی میں مجھے معلوم تھا کہ مدھیہ پردیش میں حیرتنا ک جڑی بوٹیاں پائی جاتی ہیں۔ اوریہاں کی جڑی بوٹیوں سے عسیر العلاج بیماریاں (موجودہ دور میں بھی جن کی صحت کی امید نہیں کی جاسکتی ہے) ٹھیک ہوجاتی ہیں ۔
مفتی صاحب موصوف نے جڑی بوٹیوں کی حیرتناک تفصیلات بتائیں۔
سلطان محمود خلجی کی لگوائی ہوئی املی
میرے بچے شام کو عشاء کے وقت واپس آئے ، ساتھ پپیتے کے برابر ایک پھل لائے اور بتایا کہ یہ یہاں کی املی ہے۔ایک املی پچاس روپیے میں خریدی ہے۔ میں پہلے بھی اس پھل سے واقف تھا، لیکن تاریخی طورپر اس کا مطالعہ نہیں کیا تھا۔ دس سال قبل مانڈو کی سیر کے لیے جانا ہواتھا،تو اُس وقت جامع مسجد (ہوشنگ شاہ اور پھر858ھ مطابق1454ء میں محمود خلجی کے ذریعہ تعمیر کرائی گئی، اس مسجد کے مشرق میں جامعہ اشرفیہ کی خستہ لیکن عالیشان عمارت ہے، جوحضرت سید اشرف جہانگیر صمنانی کے نام سے منسوب ہے،وہ جون پور میں بیٹھ کر مکتوبات کی شکل میں شاہان مالوہ کو پند ونصائح بھیجتے تھے) کے سامنے سڑک کنارے برگد کی طرح بڑے بڑے درخت لگے ہوئے تھے اور ان پر یہ پھل اس طرح لٹک رہے تھےکہ چھوٹے بچے بھی بآسانی توڑ سکتے تھے۔لیکن پپیتے جیسی شکل والے پھل کا املی نام سن کر اس کو چھونا بھی میں نے گوارا نہیں کیا۔ کیوں کہ اس تسمیہ میں مجھے کسی زاویہ سے سچائی اور صداقت نہیں سمجھ میں آرہی تھی۔ میرے بچوں نے اپنے عزیزوں کو واٹس ایپ پر اس کی تصویر سینڈ کرکے اس کا نام معلوم کیا، تو مختلف لوگوں نے مختلف نام بتائے۔ مجھے چند سالوں تک اسے املی بولنے میں تأمل تھا۔ لیکن لاک ڈاؤن کے موقع پر دھار سے متعلق مختلف کتب تاریخ میں اس کا تذکرہ پڑھنے کے بعد اُسے املی کہنا میرے لیے آسان ہوگیا۔ اس املی کی تاریخ یہ ہے کہ:
”سلطان محمود خلجی اول نے بہت سے درخت بیرون ملک سے منگواکر جنگل لگوائے، کھرنی اور خراسانی املی جس کو ابوالفضل نے املی کا نام دیا ہے، افریقہ سے منگوا کر مانڈو میں لگائی گئی تھی، خراسانی املی1؎ (حاشیہ1؎:BOB یاBotanacal Name:’ADHAN SONIA DGITATA’“)کے درخت سڑکوں کی دونوں طرف لگائے گئے تھے،آج بھی مانڈو میں یہ دونوں طرف Avenue درخت بہت بڑی تعداد میں پائے جاتے ہیں، کھرنی کو مانڈو کا میوہ،خراسانی املی کو مانڈو کا تحفہ کہا جاتاہے۔ (مالوہ کی کہانی تاریخ کی زبانی، صفحات219/ قاضی عبدالقدوس فاروقی، پاریکھ آ فسٹ ندوہ روڈ، لکھنؤ، 1416ھ مطابق1995ء)
جاری۔۔۔۔
Comments are closed.