شاذ تمکنت- میرا ضمیر بہت ہے مجھے سزا کے لئے
محمد صابر حسین ندوی
Mshusainnadwi@gmail.com
7987972043
اللہ تعالی کی منشاء و مرضی کے سوا کچھ نہیں ہوتا، کسے شہرت ملنی ہے اور کسے گمنامی کے سمندر میں ڈوبے رہنا ہے یہ فیصلہ صرف اور صرف رب کریم کا ہی ہوتا ہے، دنیا میں ایسے بہت سے اصحاب فَن و ہنر پائے جاتے ہیں جن کی شناخت کہیں کھو گئی ہے، اگر ان کا چہرہ لوگوں کے سامنے آجائے تو نام نہاد نامور اداکار نقاب ڈال لیں، مگر کیا کیجئے! مصلحت الہی سے کوئی فرار نہیں؛ بہرکیف شعر و شاعری میں بھی کچھ ایسے سخن پرور ہوئے کہ جو سخن کے نام پر قافیہ بندی، جملہ بندی اور لفاظی ہی تک محدود رہے، مگر بعض نام جنہیں آسمان ادب پر ستارہ بن کر چمکنا چاہیے تھا وہ گمنامی کا شکار ہوگئے؛ حالانکہ ان کی شاعری اور سخن وری پر غور کیا جائے تو وہ اپنے وقت ہی کے نہیں بلکہ سَدا کے ایک عظیم شاعر کی شکل میں نمایا ہوتے ہیں، ان کی غزلیں، نظمیں اور دیوان کا مطالعہ کیجئے! تو آپ کو حیران و ششدر رہ جائیں گے، اور یہ سوچنے پر مجبور ہوجائیں گے کہ زمانہ کی یہ کیسی ستم ظرفی ہے کہ ہیرے کو چھپا دیا گیا ہے، بسااوقات ان کا کوئی ایک شعر بھی غضب کی تاثیر پیدا کر دیتا ہے اور ضمیر پر خاص اثر انداز ہوتا ہے، انہیں شاعروں میں ایک شاذ تمکنت کا نام بھی لیا جاسکتا ہے، ان کی پیدائش گہوارہ علم و ادب اور مسلمانون کی آبرو حیدرآباد میں:۳۱/ جنوری ۱۹۳۳ کو ہوئی تھی، اور اسی شہر شبستاں میں ۱۹۸۵ کے اندر وفات پائی، آپ اردو کے ایک مشہور شاعر تھے، زبان و بیان پر خاص قدرت رکھتے تھے۔ جدید اردو شاعری میں شاذ تمكنت اپنے وقت کے مشہور شاعروں میں خود کو درج کرواچکے ہیں۔ دکن کے نامی گرامی شعرائے کرام میں شاذ تمکنت کا شمار ہوتا ہے۔ روایتی اور جدید شاعری کے درمیان جس پُل کی تعمیر شاذ تمكنت نے کی وہ خود میں ایک دور کا آئینہ دار ہے۔ ان کی غزلوں اور نظموں میں جہاں ذاتی زندگی کے دُکھ درد ظاہر ہیں، وہیں ان کا سوز دروں زمانہ کے عمومی تجربہ کے طور پر ظاہر ہوتا ہے۔ شاذ تمکنت جامعہ عثمانیہ میں اپنے انتقال کے وقت اردو کے ریڈر تھے۔ انہیں ان کے خاندان اور عام ملاقاتی شفیع بھائی کے نام سے جانتے تھے؛ حالاں کہ ان کا حقیقی نام سید مصلح الدین تھا۔
یہ حقیقت ہے کہ کسی بھی مصنف و شاعر کے اندر اس کے خاندان کا خاص مزاج و عنصر پایا جاتا ہے، جہاں اس نے تربیت و ثقافت اور زندگی کی اونچ نیچ کا مشاہدہ کیا ہے، بڑوں اور چھوٹوں کے شب و روز اور رشتوں کی مٹھاس و کڑواہٹ کا مزا چکھا ہے، یہ ایسا ہی ہے کہ جیسے کوئی انسان خود فضائی تبدیلیوں اور موسمیاتی اثرات سے بچا نہیں سکتا، ظاہر ہے کہ اس اثر سے موصوف شاعر بھی دور نہیں، ان کی شاعری، فکر اور سخن سنجی پر گہرا رنگ گھریلو احوال اور زندگی کا پایا جاتا ہے، شاذ تمکنت کے والد کا نام سید حفیظ الدین تھا جو حیدرآباد کے نظام کی جائدادوں کے شعبۂ صرف خاص میں تھے۔ وہ ۱۹۴۲ء ہی میں گزر گئے۔ ان کی والدہ کا نام جیلانی بیگم تھا۔ جو محض چالیس سال کی عمر میں انتقال کر گئیں۔ ان کی ماں ماہ رمضان میں حالت روزہ میں داغ مفارقت دے گئی تھیں۔ اس صدمے کا اظہار انہوں نے اپنی نظم "وہ لوری خلاؤں چلی گئی” میں کیا تھا۔ جو محبت و ممتا اور سوز گداز کی قابل رشک شاعری ہے، شاذ اپنے کلام کے شروع میں ہمیشہ بسم اللہ الرحمٰن الرحیم لکھتے تھے، حالاں کہ ایک ترقی پسند شاعر تھے؛ مگر آپ اس ترقی میں رب کی طرف رجوع اور اس کی معیت کو نہ بھولے تھے، ان کے سب سے بڑے بھائی سید نظام الدین تھے، جو وقف بورڈ میں کام کرتے تھے۔ ان کے ایک اور بھائی سید فرید الدین تھے۔ ان کے ایک بھائی کا نام سید امتیاز الدین بھی ملتا ہے۔ شاذ تمکنت کی اہلیہ کا نام محمدی شاذ تمکنت ہے، جو اب بھی (ویکیپیڈیا کے مطابق) بقید حیات ہیں۔ ان کا سب سے بڑا لڑکا سید اوصاف الدین جامعہ عثمانیہ میں بر سر ملازم ہے۔ دوسرے صاحبزادہ کا نام سید فواد الدین ہے، جن کو فواد تمکنت کے نام سے جانا جاتا ہے۔ وہ ایک مصور ہیں اور ان کی بیٹی ردا (افزا تمکنت) بھی ایک مصور ہیں اور شادی شدہ ہیں۔ ان کے علاوہ شاذ تمکنت کے چار اور لڑکے ہیں۔ ان میں سے دو لڑکے خلیجی ممالک میں بر سر روزگار ہے، اخیر میں کے کلام میں سے ایک اہم نظم بطور نمونہ پیش خدمت ہے۔
مرا ضمیر بہت ہے مجھے سزا کے لیے
تو دوست ہے تو نصیحت نہ کر خدا کے لیے
وہ کشتیاں مری پتوار جن کے ٹوٹ گئے
وہ بادباں جو ترستے رہے ہوا کے لیے
بس ایک ہوک سی دل سے اٹھے گھٹا کی طرح
کہ حرف و صوت ضروری نہیں دعا کے لیے
جہاں میں رہ کے جہاں سے برابری کی یہ چوٹ
اک امتحان مسلسل مری انا کے لیے
نمیدہ خو ہے یہ مٹی ہر ایک موسم میں
زمین دل ہے ترستی نہیں گھٹا کے لیے
میں تیرا دوست ہوں تو مجھ سے اس طرح تو نہ مل
برت یہ رسم کسی صورت آشنا کے لیے
ملوں گا خاک میں اک روز بیج کے مانند
فنا پکار رہی ہے مجھے بقا کے لیے
مہ و ستارہ و خورشید و چرخ ہفت اقلیم
یہ اہتمام مرے دست نارسا کے لیے
جفا جفا ہی اگر ہے تو رنج کیا ہو شاذؔ
وفا کی پشت پناہی بھی ہو جفا کے لیے
Comments are closed.