جامع مسجد مولانا کمال دھار، کی زیارت (9) 

 

 

بقلم: مفتی محمداشرف قاسمی

(مہدپور،اجین،ایم۔پی)

 

مدارس اور مسلمانوں کا وجود

ہمارا یہ سفر صرف اور صرف ”تعلیمی بیداری“ عنوان کے تحت ہوا تھا۔ اتفاق کی بات یہ ہے کہ اسکولی نظام تعلیم قائم کرنے کے لیے حضرت مولانا علی میاں ندویؒ نے 1974ء میں اجین میں وُکلا کی ایک مجلس میں خطاب کیا تھا۔

(تحفہ انسا نیت[حدیث مالوہ]ص83/و84/ [سفرنامہ حضرت مولانا ابوالحسن علی ندیؒ] مرتب:مولانا اسحق جلیس ندوی، مجلس تحقیقات ونشریات اسلام لکھنؤ1413ھ مطابق1992ء)

اس خطاب سے تحریک حاصل کر کے جنوبی ہند میں خصوصا اور ملک کے مختلف مقامات پرعموما متعدد افراد نے اچھے اچھے اسکولس قائم کیے، ہمارے اسکول کی بنیاد میں بھی حضرت والا کا وہی خطاب کارفرما ہے۔

اُجین پھر اندور میں تعلیم کے موضو ع پر بیان کرنے کے بعد حضرت والا دھار و مانڈو پہونچے تھے۔ اورہمارا یہ سفر بھی صرف اورصرف تعلیمی جوت جگانے کے لیے ہوا تھا۔ اس لئے آخر میں تعلیم ہی کے موضوع پر اپنی بات ختم کرتاہوں۔

مفتی محمد سجاد صاحب نے کہا کہ: ماضی میں مختلف ملکوں میں علما سے عوام کو متنفر و بیزار کرنے کے بعد مسلم کُشی کا سلسلہ شروع ہوا، یہاں اپنے ملک میں بھی وہی بات دہرائی جارہی ہے۔عوام کو علماء اور مدارس سے بیزار و متنفر کرنے کے لیے یہ شوشہ چھوڑا جارہا ہے کہ مدارس یا مولویوں نے عام مسلمانوں کو کیا دیا؟ اور علماء ومدارس تو عام مسلمانوں کا عطیہ اور نوازش ہیں؟ جب مدارس اور علماء نے عام مسلمانوں کو کچھ نہیں دیا ہے تو مسلمانوں کو علماء اور مدارس کے لیے کسی قربانی یاہمدری کی ضرورت نہیں ہے۔ اس سوال کا جواب اپنے طور پر میں دینے کی کوشش کرتاہوں لیکن آپ اس کا جواب دیں؟

جواب: اس میں دوباتیں ہیں۔ایک تو عوام کو جواب دینا اور مدارس وعلماء کی افادیت پر انہیں قائل کرنا ہے۔ اس سلسلے میں مولانا کلیم صدیقی صاحب کا ایک رسالہ ہے”دینی مدارس،غلط فہمیاں اور حقائق“ (مطبوعہ جامعہ شاہ ولی اللہ پھلت،مظفرنگر یوپی، 1439ھ) اس سے استفادہ کیاجائے۔ دوسری بات خود احتسابی ہے۔ یہ اہل علم کی مجلس ہے اس لیے پہلا جواب سننے کے بعد خود احتسابی بھی کرنی ہوگی۔ جواب یہ ہے کہ سرکاری رپورٹ کے مطابق صرف 6/ فیصد بچے مدارس میں آتے ہیں اور تقریباً اتنی ہی مقدار میں مدارس سے فارغ بھی ہوتے ہیں۔ مدارس میں پڑھنے والوں میں ڈراپ آؤٹ (Drop out) صفر کے برابر ہے۔ مدارس میں پڑھانے والے شب و روز قربانی دے کر معاشرے کے انتہائی کمزور و غریب بچوں کو اس لائق بنادیتے ہیں کہ وہ عزت واحترام کے ساتھ قوم کی قیادت و رہنمائی اور امامت وخطابت کا فریضہ ادا کرسکیں۔ میں نے دیکھا ہے کہ ہمالیہ کی جڑوں میں رہنے والے،اس جدید اور ترقی یافتہ دور میں بھی بیس بیس کلومیٹر پیدل چلنے والے، پھوس کے مکانوں میں رہنے والے،سرکاری وپرائویٹ اسکولس سے ناآشنابچے مدارس میں داخل کیے گئے پھر اور وہ مدارس سے فارغ ہوکر بڑے بڑے شہروں میں مُقتدا بن کر عزت واحترام کے ساتھ دین وملت کی خدمات انجام دے رہے ہیں۔اسی کے ساتھ اپنے پسماندہ علاقوں کو بھی ترقی دینے اور وہاں کے بے روزگار نوجوانوں کو شہروں میں روزگار فراہم کرانے میں مصروف ہیں۔

اس کے برخلاف اسکولس وکالجز کے اکثر فارغین موٹی موٹی تنخواہیں اور پینشنس پاتے ہیں،لیکن معاشرے کے غریب ومفلس بچوں اور بے روزگار نوجوانوں کی انہیں بالکل فکر نہیں ہوتی ہے.الا ماشاء اللہ۔

مدرسوں کی بہ نسبت اسکولوں میں بچوں کی بڑی تعداد داخل کی جاتی ہے۔ لیکن اسکولوں میں مسلم بچوں کا ڈراپ آؤٹ (Drop out) بہت زیادہ ہے، حتی کہ اعلی تعلیم کے لیے اسکولس وکالجز میں چھ فیصد بھی مسلم بچے نہیں بچتے ہیں۔ تو مدرسے برابر ملت کو فائدہ پہونچارہے ہیں۔ مولویوں اور مدرسوں کی وجہ سے یہاں مسلمان اپنے تشخصّات وامتیازات کے ساتھ باقی ہیں۔اگر مدرسے اور مولوی ختم ہوجائیں تو یہاں مسلمان اپنی شناخت کے ساتھ باقی نہیں رہ سکتے ہیں، مسلمانوں کی ہستی نیست و نابود ہوجائے گی۔ مدارس اور مولوی ملت کے وجود کا قوی ذریعہ اور طاقتور سبب ہیں۔

 

 

جاری۔۔۔

Comments are closed.