"انسانیت اور مردانگی”
آمنہ جبیں ( بہاولنگر)
وقت اپنے رخ میں بہتا ہوا جب مڑتا ہے تو بہت سے تغیرات جنم لیتے ہیں۔بہت سی تبدیلیاں بیک وقت رونما ہوتی ہیں ۔ ایسے ہی جب سے اس دنیا نے پلٹا کھا کر جدیدیت کا لباس پہنا ہے ۔ ہر چیز جدید ترین اور روکھی سی ہو گئی ہے ۔ پہلے پہل تو اس دیس کی نازک کلیاں جنہیں معصوم بیٹیاں کہتے ہیں۔ عزت سے محروم تھیں۔جب عزت ملنے لگی تو درندگی کے باب کھل گئے ۔ کسی بیٹی کی چادر محفوظ ہے آہستہ آہستہ یہ یقین ختم ہو گیا ۔ اور سِر بازار بچیوں کی عزتیں لُٹنے لگیں ۔ اور ایک بچی ایک بیٹی ہیجان زدہ کیفیت کا شکار ہو کر خوف کے مارے زمین میں دھنس چلی جاتی تھی ۔وہی بچیاں جو کبھی گھر سے باہر بچپن کے دن اپنی دوستوں کے سنگ گلی کوچوں میں گھوم گھوم کر گزار رہی تھیں۔ پھر وہ گھر میں محدود ہو کر سسکیوں میں اپنا بچپن گزارنے پہ مجبور کر دی گئیں جانتے ہو کیوں؟مرد کی بڑھتی ہوئی ہوس کی وجہ سے جسے وہ اپنی مردانگی سمجھ کر خود پہ اکڑ کر بڑے شوق سے کسی بیٹی کی عزت کی دھجیاں اڑا دیتا ہے ۔گھر سے نکلتی عورت محفوظ نہیں ہے۔ اِس کے ماں باپ پریشان اور خوف زدہ ہیں کیا ہوا ؟؟ جانتے ہو یہ تم ہی ہو جو خوف و ہراس کا موجب ہو ہر بچی ہر بیٹی ہر عورت کے لیے تم مشکوک بن جاتے ہو۔ جب وہ گھر سے نکلتی ہے تو تمہاری نظریں اُسے کھانے کو دوڑتی ہیں۔ جیسے وہ تمہاری نگاہوں کے اٹھنے سے تمہاری تسکین کو تمہارے دامن میں گِر پڑیں گی ۔ یہ اٹھتی ہوئی ناپاک نظریں تمہیں کتنی تسکین دیتیں ہیں کیا یہ تمہارے نفس کو بھر دیتیں ہیں؟ بازار بھرا پڑا ہے مردوں سے اور وہ مرد اپنی مردانگی پہ اکڑ کر عورت کو اپنی نگاہوں سے کاٹ کھانے کو دوڑتا ہے۔ یہ مرد اپنی مردانگی کا نہیں اپنی شخصیت کا ثبوت دیتے ہیں۔ آہ مرد آہ تمہیں رب نے مرد میں تفریق بعد میں دی ہے مگر تمہیں انسان پہلے بنایا ہے ۔ کم ازکم انسانیت کے تقاضے تو یاد رکھو مسلمان ہونے کو تو بھول گئے ہو مگر انسان ہونا تو یاد رکھو ۔ اٹھو اور دیکھو کتنی بچیاں اپنے خوابوں کی کِرچیوں کو سمیٹے ہوئے رو رہی ہیں۔کیونکہ تمہاری ہوس نے ان کے والدین اور ان کے اپنے دل کے اندر ایک خوف بھر دیا ہے۔کہ انہیں تمہارے وجود سے گِھن آتی ہے ۔ اے مردِ مسلماں خود کو اتنا کیوں گرا لیا ہے ۔ مرد ہو مرد کی طرح رہنا چلنا سیکھو ۔ انسان تو سراپا محبت،سراپا شفقت اور پیار کرنے والا بنایا گیا ہے درندگی تو درندوں اور جانوروں کے لیے ہے ۔ جب تم کسی بچی کی عزت کو لوٹنے کے لیے اپنی ہوس کو پورا کرنے کے لیے اِن کی چادریں اتارتے ہو تو پتہ ہے تم کیا کرتے ہو؟ تم اس عورت کے لیے اس بچی کے لیے جینے کے سارے راستے ختم کر دیتے ہو خود تو تم یہ سب بھیانک کرتوت کر کے بھی معاشرے سے بریّ ہو جاتے ہو۔ لیکن وہ عورت وہ بچی عمر بھر کے لیے نکارہ اور بے عزت ہو جاتی ہے کیا قصور ہوتا ہے ان معصوم کلیوں کا ان معصوم پھولوں کا جنہیں تم اپنی ہوس کا نشانہ بنا کر مسل کر رکھ دیتے ہو۔ ان ماں باپ کی آنکھوں میں آنسوؤں کا جہان چھوڑ دیتے ہو۔جو پہلے ہی دکھی اور پریشان ہوتے ہیں ۔ وہ بچی جو تمہاری ہوس کا شکار ہوئی جس کا کوئی قصور بھی نہ تھا اِس کے اپنے ہی اس سے منہ موڑ لیتے ہیں۔ اسے قصور وار سمجھ لیتے ہیں آہ مرد آہ تم نے اپنا مقام اتنا گرا لیا ہے۔کہ تم ہی عورت کے محافظ اور تم نے ہی اسے لوٹنا شروع کردیا ۔ سکول پارک شاپنگ مال مدارس کہاں جائیں بیٹیاں ہر جگہ مرد کی درندگی کا خوف پھیلا ہوا ہے ۔
بہت سی بیٹاں دس جماعتیں بھی نہ پڑھ سکیں بہت سی یونیورسٹیوں میں نہ جا سکیں بہت سی کالج اور سکول کی دہلیز پار نہ کر سکیں۔ بہت سی لڑکیاں بڑے خواب نہ بُن سکیں جانتے ہو کیوں؟؟ کیونکہ ان میں ایک وجہ تمہاری درندگی کا خوف ہے جس نے عورت کو گھر میں امن سے بند نہیں کیا بلکہ قید کر دیا ہے ۔ تم نے اپنی پہچان کھو دی ہے ۔ راہ چلتی لڑکی ڈر جائے تم سے تم مرد نہ کہلاؤ گے ۔ مرد چاہے محرم ہو یا نا محرم یہ مرد کی مردانگی ہے کہ اس کے سائے میں ایک عورت ایک لڑکی بےخوف اور خود کو محفوظ تصور کرے یہ تمہاری مردانگی ہے جسے تم خود بھی بھول چکے ہو۔ دُکھ اس بات کا نہیں کہ عورت کی عزتیں تمہاری وجہ سے محفوظ نہیں ہیں دکھ اس بات کا ہے تم نے خود کو ہی بھلا دیا اپنی ہی شخصیت گرا دی ہے۔ جانتی ہوں سب مرد ایسے نہیں بہت سے باشعور اور محبت کا عنصر رکھتے ہیں۔ مگر اکثریت کی آنکھیں ہوس سے اور درندگی سے بھری ہوئی ہیں۔
گلی کوچے تو دور رہ گئے مرد نے درندگی اور وحشی پن کی انتہا جدیدیت کے اس دور میں فیس بک، واٹس ایپ ،ٹیوٹر اور دوسری ایپس پہ بھی شروع کر دی ہے۔میری بہت سی پیاری معصوم دوستیں فیس بک نہیںں چلاتیں اور نہ میں خود چلاتی تھی۔ کیونکہ مردوں کی نیتوں سے خوف آتا ہے ۔ آج مرد نے خود کو خود اتنا گرایا ہے۔ کہ ایک لڑکی باہمت ہو کر بھی ڈر رہی ہے اور اپنے گھر بیٹھے بھی خود کو غیر محفوظ سمجھ رہی ہے ۔ خیر دنیا کا سامنا کرنا اور حالات سے لڑنا ہی اصل بہادری ہے ۔ میں نے فیس بک بنائی مگر خوف تھا اس کے باعث ڈرتی رہی باہمت بھی رہی لیکن ایک دو دفعہ ایسی مشکل صورتحال کا سامنا ہوا کہ مرد کی ذات سے میرا اعتبار ہمیشہ کے لیے اٹھ گیا ۔ کیا مرد پیکرِ محبت اور پیکرِ حفاظت نہیں ہوتا یقیننا ہوتا ہے مگر آج کے کچھ مردوں نے خود کو گرا لیا ہے ۔ اپنے آپ کو جسموں پہ بیچ بیٹھے ہو کیا اتنی ہی قیمت لگاتے ہو اپنی کہ ایک جسم پہ بِک جاتے ہو ۔ اگر کوئی لڑکی کسی مرد سے اپنے کسی معملات کے پیش نظر بات کر لیتی ہے تو مرد اسے اپنی طرف کھینچتا محسوس کیوں کرتا ہے ۔ بہت سی بیٹیاں بااخلاق ہوتی ہیں اس کا یہ مطلب نہیں کہ ان کی گفتگو کو انکی ڈھیل کو ان کی کمزوری سمجھ کر ان پہ حاوی ہو جانے کی کوشش کرو۔ جب عورت مرد کے ہم قدم چل رہی ہے تو اس کے ہم قدم بول چال اور چلنے پھرنے کا حق بھی رکھتی ہے ۔کیوں اس بے بس عورت کو اپنے خوف سے دبانا چاہتے ہو کیوں اس کے خوابوں کو کچلنا چاہتے ہو خدارہ اپنی پہچان کرو تم خود سے دور ہو۔ اسی لیے ہوس کا شکار ہو کر خوف کا ساماں بن چکے ہو ۔ اپنے آپ کو پہچانو اور خود کو اتنا مت گراؤ کہ بچیاں اور لڑکیاں تمہارے سائے سے بھی بھاگنے لگیں ۔ کیونکہ تم جانتے ہی نہیں اصل مردانگی کیا ہے اصل مردانگی اپنے جسم پہ اکڑنا نہیں ہے اصل مردانگی یہ ہے کہ تم حفاظت اور محبت کا پیکر بن جاؤ ۔ اور اس معاشرے کی بیٹیوں اور کیلوں کو مہکنے کی روشن ہونے کی مہلت دو تا کہ وہ بھی جی بھر کے سانس لے سکیں ۔
Comments are closed.