سب کچھ تو درست ہے، اب غلط کیا رہ گیا؟
محمد صابر حسین ندوی
Mshusainnadwi@gmail.com
7987972043
اب تو وہ دور ہے کہ انسان اپنی زہر افشانی، کڑوے کسیلے الفاظ، ترشی، تلخی اور سنگ باری کو بھی جائز سمجھتا ہے، اس کے کس لفظ سے کسی کا کیا بگڑتا ہے اور کسی کے اوپر کیا اثر پڑتا ہے اس اسے کوئی سروکار نہیں، شاید سینہ میں دل کی جگہ پتھر کی سِل ہے، دھڑکن کی جگہ شور و غوغا ہے، جہاں تک انسانیت اور مروت کی صدائیں ٹکرا کر واپس لوٹ جاتی ہیں، جس پر انسانی جذبات، احساسات اور کسی کے زخموں کی آہ و بُکا بھی کوئی نشان نہیں چھوڑتی ہے، ٹپکتے خون،کراہتی انسانیت اور دَم بخود ہوتی اپنائیت بھی انہیں متاثر نہیں کرتی، جب انسان کی حساسیت مٹی میں مل گئی ہو، سینہ کی گرمی اور زبان کی نرمی خاک آلود ہوگئی ہو، درد و تکلیف سے ناطہ نہ رہا ہو اور سوچ و فکر پر فاشزم کا پہرہ لگ گیا ہو، تاریکی نے اسے آگھیرا ہو، دماغی روشن دانوں پر مکڑیوں نے جالے بُن لئے ہوں، نگاہوں پر پٹی باندھ دی گئی ہو، قوت لمس بھی شَل ہوگئی ہو، احساس کی ڈور ٹوٹ چکی ہو تو پھر کسی کے شکستہ دل، ٹکڑے ہوتے جگر اور کٹتے کلیجے کا بھلا کیا مطلب ہے، آپ کو یاد ہوگا کہ ٹھیک ایک سال پہلے دہلی میں مسلم کشی کی سیج سجائی گئی تھی، جس کی رونق مسلمانوں کی نعشیں، رِستے خون اور چیخ و پکار تھے، تلواروں کے سامنے معصومیت کا گلہ بطور ہار پیش کیا گیا تھا، انسانی شرم کو عزت و شرف کے ساتھ سجا کر دنیا کے سامنے رکھا گیا تھا، کسی یاد نہ ہوگا کہ ایک، ایک مسلم کی شناخت کر کے اسے تلوار، رِیتی، بھالے اور نیزے پر لٹکا دیا گیا تھا، ایک بڑی بھیڑ دوڑا دوڑا کر ایک باشرع مسلمان کو مار رہی تھی، سڑکوں، گلیوں اور چوراہوں پر موت اپنے تمام تر ہنر اور عیب کے ساتھ ظاہر تھی، ہندوازم اور اکثریت کا تانڈو زوروں پر تھا، شاید ہی کوئی ہو جس نے وہ لمحہ بھی نظروں سے اوجھل کیا جس وقت سیاست دانوں پر سکتہ طاری ہوگیا تھا، لوگ کاٹے جارہے تھے اور وزیراعظم سے لے کر تمام بڑے سیاسی رہنما ٹرمپ کیلئے نمستے ٹرمپ کی قالین بچھا رہے تھے، اور بقیہ سیاست دان اپنے اپنے عیش کدوں کی شمع بنے ہوئے تھے، اُف– وہ وقت بھی کیا وقت تھا، یہ ساری شعلہ بازیاں بی جے پی نیتاؤں کی جانب سے کی گئی تھیں، بلکہ کہنا چاہئے کہ ان کی سرپرستی میں انجام دی گئی تھیں، جس میں انوراگ ٹھاکر اور کپل مشرا کا نام سر فہرست ہے، ان دنوں جناب عالی کی ڈھٹائی اور سیاست کا حقیقی چہرہ لیکر وہ پھر ذرائع ابلاغ میں ایکٹو نظر آرہے ہیں، حتی کہ اس نے یہ بیان تک دیا کہ "دیس کے غداروں کو گولی مارو سالوں کو” جیسے نعرے درست ہیں، وہ یہ بھی کہتے ہوئے سنے گئے ہیں کہ جو کچھ انہوں نے دہلی میں کیا ہے وہ اسے پھر دہرائیں گے اور اس میں کوئی حرج کی بات نہیں ہے، چنانچہ ’’دہلی فسادات 2020: دی انٹولڈ اسٹوری‘‘ نامی کتاب کی رونمائی کے دوران مشرا نے کہا: ’’میں نے جو کچھ بھی کیا وہ پھر کروں گا۔ مجھے کوئی افسوس نہیں ہے، سوائے اس کے کہ میں دنیش کھٹک، انکت شرما اور بہت سے دیگر افراد کی جانیں نہ بچا سکا۔‘‘ اس کا مطلب صاف ہے کہ پولس اور محکمہ انتظامیہ ہی کیا پورا ہندوستان ان کے ہاتھ میں ہے، وہ سیاہ و سپید کے مالک ہیں جب جو چاہیں کر جائیں گے.
اس ایک سال کے دوران ان پر کوئی کارروائی نہیں کی گئی ہے، دہلی فسادات میں پیش کی گئی پولس چارج شیٹ میں ان کا نام تک نہیں تھا، انوراگ ٹھا کر اور کپل مشرا صحیح معنوں میں سیاست اور ہندوازم کا اصل چہرہ ہیں، پوری سیاست ہی مسلمانوں کو دبا دینے، کچل دینے اور ان کیلئے سدراہ بن جانے پر یقین رکھتی ہے، اب تک کی تاریخ بھی اس پر شاہد ہے کہ اعلی کرسیاں مسلمانوں کی لاشوں پر قائم کی گئی ہیں، کسی نے خفیہ طور پر اسے انجام دیا تو کسی نے کھلے عام مسلمانوں کو اپنا مدمقابل قرار دے ہندومت اور ہندواحیائیت کی ہوا چلائی اور اپنی ساری کاوشوں کو جواز کا سرٹیفکیٹ دے گیا، ذرا غور کیجئے! کہ اگر راستہ خالی کروانا اور احتجاج روکنا ہی دیش بھکتی ہے تو پھر آج کسانوں کو احتجاج سے کیوں نہیں روکا جاتا؟ بعضوں نے لال قلعہ پر مذہبی جھنڈا تک لہرا دیا لیکن کیا ہوا؟ بلکہ ان سب پر خموشی کے ساتھ اس وقت دیش دروہ، ملک مخالف کے الزام میں مسلمانوں کی جماعت کو مسلسل ٹارگٹ کیا جارہا ہے، کچھ لکھنے پڑھنے اور کھل کر بولنے تک کی اجازت نہیں ہے، مضامین پر مستقل نظر رکھی جارہی ہے، الفاظ کے انتخاب پر بھی گرفت ہورہی ہے، فیس بک اور دیگر سوشل سائٹس تو ان کے گھر کی لونڈیا ہیں، وہ سب کچھ قابو میں کئے ہوئے ہیں، کب کہاں کسے اٹھا لیا جائے کوئی نہیں جانتا، بالخصوص مسلمانوں سے یہ سلسلہ شروع ہوتا ہے؛ لیکن اب تو ہر کوئی جو حکومت کی پالیسیوں سے الگ نظریہ رکھتا ہو اسے کچھ بھی رکھنے کی اجازت نہیں ہے، دیشا روی ایک ٢١/ سالہ لڑکی کی گرفتاری اور عالمی اداروں سے اسے جوڑنے کوشش کے ساتھ ریمانڈ پر رکھے جانے کا کیا نتیجہ نکلتا ہے؟ یہی کہ اب کوئی کسی کی مدد نہ کرے، جو چاہے ظلم کرے، قانون اور انتظامیہ کو ٹھینگا دکھائے اور انسانیت کا قتل عام کرے، سب کچھ تو درست ہے اب غلط کیا رہ گیا، بَس یہی کہ آپ مسلمان ہیں یا پھر حکومت سے الگ سوچ رکھتے ہیں، مگر ایک بات اور قابل غور ہے کہ اس طرح کی پالیسیاں خواہ حکومت بچانے کیلئے کی جاتی ہیں؛ لیکن صحیح بات یہ ہے کہ ایسی ہی پالیسیاں انہیں لے ڈوبتی ہیں، یاد کیجئے کہ کانگریس اپنے دوسرے ٹرم میں کیا کرتی تھی، کچھ ایسی ہی تصویر ہر صورت نظر آتی تھی، دہشت گردی، دیش دروہ اور آتنک واد و مسلمان کے سوا کیا موضوع بحث تھا، ملک میں کرپشن، مہنگائی، عوامی زندگی کی بے کسی….وغیرہ، ٹھیک یہی صورت حال اس وقت بنی ہوئی ہے جس کا لازمی نتیجہ یہی ہوگا کہ حکومت اپنے انجام کو پہنچے گی اور فرعون وقت رسوا ہر کر رہے گا.
Comments are closed.