جامع مسجد مولانا کمالؒ، دھار کی زیارت (10)
بقلم: مفتی محمد اشرف قاسمی
(مہدپور، اجین ایم پی)
مدارس اور تعلیمی احتساب
دوسری بات یہ ہے کہ ہمارا دعوی ہے کہ مدارس درسگاہ نبوت ”صفہ“ کی نقل (Copy) ہیں۔ کیا درسگاہ نبوت میں پڑھنے والے تمام کے تمام طلبہ مسجدوں میں اذان پڑھنے اور امامت کرنے والے بن کر نکلتے تھے؟
وہاں تو جوڈیشیری کے ماہرین ،ججز، قضاۃ بھی پیدا ہوتے تھے۔ وہاں سے پولیٹیشنس بھی نکلتے تھے۔ وہاں دیگر اقوام کے زبانیں بھی سیکھائی جاتی تھیں۔ وہاں طب و طبابت کابھی بندوبست تھا۔وہاں فنونِ حرب کی تدریب بھی ہوتی تھی، وہاں جندی و سپہ سالار بھی تیار ہوتے تھے۔ الغرض زندگی کے تمام شعبوں میں اسلام کی نمائندگی وترجمانی کرنے والے وہاں پیدا ہوتے تھے۔ ہمارے مدارس کا حال یہ ہے کہ مخاطب قوموں کی زبان بھی ہمارے فضلا نہیں جانتے ہیں۔ سب سے زیادہ دُھنی اور اِکٹوِسٹ (Activist)
فضلاء مدارس ہوتے ہیں، لیکن زبان کی دولت سے محروم ہونے کی وجہ سے دیگر اقوام کے سامنے نہ اسلام کی ترجمانی کرپاتے ہیں اور نہ ہی اسلام پر ہونے والے اعتراضات کو سمجھ کر ان کے جوابات دینے کی پوزیشن میں ہوتےہیں۔ اگر طلبہ کو مدارس میں ہندی، انگریزی وغیرہ زبانیں سکھادی جائیں تو دعوت کی ہوا چل پڑے۔ سنسکرت زبان کے بارے میں حضرت تھانوی ؒ نے لکھا ہے کہ علما کے لیے اس کا سیکھنا فرض کفایہ ہے۔ (امداد الفتاوی: ج 4/ص72/ مکتبہ:زکریا دیوبند1394ھ)
آپ کوئی ایک مدرسہ بتادیں جہاں علما یا فضلا مدارس کو سنسکرت زبان کی تعلیم دی جارہی ہو۔ مولانا اسماعیل صاحب بوٹا (لندن) نے مجھے بتایا کہ پورے گجرات میں ایک بھی عالم ایسا نہیں ہے جو گجراتی میں تقریر کرسکے یا گجراتی میں اچھا لکھ سکے۔ نیپال میں علما کی خاصی تعداد موجود ہے۔ لیکن نیپال کے علما نیپالی زبان میں لکھنے وبولنے سے معذور ہیں۔
یورپی ممالک میں اسلام کی اشاعت کی وجہ یہ ہے کہ وہاں انگریزی میں اسلام پر کتب ورسائل کافی مقدار میں موجود ہیں اور وہاں کی زبان میں علما تقریریں کرتے ہیں۔اگر یہاں بھی علاقائی زبانوں میں علما تقریریں شروع کردیں تو انقلا ب آسکتا ہے۔ لیکن مدارس میں دعوتی زبانیں سکھانے کا کوئی نظم نہیں ہے۔
دوسری بات یہ ہے کہ مدارس کے تعلیمی درجات کو حکومت کی طرف سے منظور کردہ میقاتی اسناد دسویں بارہویں وغیرہ سے مربوط کرانے کی فکر نہیں کی گئی۔ جس کی وجہ سے
لیاقت وقابلیت کے باوجود
فضلاء مدارس سرکاری تعلیمی اداروں میں نا اہل قرار دے دیے جاتے ہیں۔ کالجز، یونیورسٹیز میں اسلامک اسٹڈیز اور شعبۂ عربی،فارسی و اردو میں تدریس اور فوج میں امامت کے لیے اسامیاں ہوتی ہیں جہاں عموماً آزاد خیال لوگ پہونچتے ہیں۔ مدارس کے فضلا وہاں نہیں پہونچ سکتے ہیں۔ ابھی جو نئی تعلیمی پالیسی (2020ء NEP)آئی ہے۔اس میں مکمل مشرکانہ مواد (Content)
ہے،لیکن معلم تدریس (Pedagogy) میں آزاد ہے۔صرف اور صرف فضلاء مدارس ہی اتنے گاڑھے مشرکانہ مواد کی تعلیم میں شرک سے بچوں کی حفاظت کر سکتے ہیں۔ لیکن ٹیچنگ کے لیے "بی ایڈ”، ‘ڈی ایڈ”، "ڈی ایل ایڈ” یا "ٹیو ٹی کیئر” کورسز
(B.Ed.,D.Ed.,D.El.Ed.,Tutee care,)
کرنے کے لیے فضلائے مدارس کے پاس دسویں و بارہویں کی اسناد نہیں ہیں۔
کچھ دنوں قبل فیس بک پر میں نے ایک پوسٹ دیکھی تھی کہ:
”کسی زمانے میں علامہ شبلیؒ نے مدارس کو اسکولی نظام تعلیم اور مواقیت اسناد سے مربوط کرنے کی بات کہی تھی، لیکن ان کی وہ رائے چائنا زبان میں تھی اس لیے اُس وقت وہ کسی کی سمجھ میں نہیں آئی تھی۔ اب ستر سال کے بعد اس کا ترجمہ ہو گیا ہے تو لوگوں کی سمجھ میں وہ بات کچھ کچھ آرہی ہے۔“
میں نے مرکزی اداروں کے شیوخ اور ذمہ داروں کو دیکھا ہے کہ وہ اپنے بچوں کو مدرسوں کے بجائے اسکولوں میں بھیج رہے ہیں۔ اگر اسکولی پڑھائی اچھی ہے تو ارباب مدارس اپنے بچوں کی طرح قوم کے غریب بچوں کو مکمل نہیں تو کم ازکم اسکول کی زبان سکھادیں اور مدارس کی تعلیمی اسناد کو اسکولی مواقیتی اسناد سے مربوط کرادیں۔ تاکہ فارغ ہونے کے بعد مدارس کے بچے اپنے آپ کو زبردستی مسجد ومدرسہ سے بندھا ہوا محسوس نہ کریں؛ بلکہ مسجد ومدرسہ کے علاوہ دوسرے میدانوں میں جانے کے لیے وہ آزاد ہوں۔ ع
آگ بُجھی ہوئی اِدھر، ٹوٹی ہوئی طناب اُدھر
کیا خبر اس مقام سے گذرے ہیں کتنے کارواں
(ختم شد)
کتبہ: محمد اشرف قاسمی
خادم الافتاء شہرمہدپور، اجین (ایم پی)
مؤرخہ: 11/ فروری2021ء
Comments are closed.