بیت المقدس ہمارا ہدف ہونا چاہیے!!
محمد صابر حسین ندوی
Mshusainnadwi@gmail.com
7987972043
اگر زندگی میں بیت المقدس کی یادوں، حقیقتوں اور عظمتوں کا رَس نہیں تو پھر ایک مسلمان کیلئے کیا خیر ہے؟ کہتے ہیں مکہ مکرمہ اللہ تعالی کا حرم ہے، مدینہ منورہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا حرم ہے اور بیت المقدس پوری امت مسلمہ کے لئے حرم ہے، کوئی شبہ نہیں کہ اس امت کی تقدیر، جد وجہد، عروج و زوال کی داستان بیت المقدس کی فتح ونصرت پر منحصر ہے، اس کھلی فضاؤں، برکتوں اور تقدس سے منسلک ہے، غور کیجئے! جن ادوار میں مسجد اقصی پر یہودیوں نے قبضہ کیا، ڈاکوؤں نے لوٹ کھسوٹ مچائی، صلیبی درندوں نے اس کی حرمت پامال کی اور سازشی ذہنیت نے اس کی دیواروں کو کھوکھلا کرنے کی کوششیں کیں؛ تب سے امت اسلامیہ پر کالے بادل منڈلانے لگے، اور ماضی سے خار کھائی بیٹھی جاہلیت پلٹ کر قافلہ اسلامی پر حملہ کردیا اور اس کا کالاپن مزید گہرا ہوگیا، اس قوم کی کشتی بھنور میں پھنس گئی، وہ بے کسی اور چارگی سے دوچار ہوگئے، واقعہ یہ ہے کہ بیت المقدس پر قبضہ کے بعد کس طرح کے ادوار ہیں اور امت کی زبوں حالی کا کیسا دور ہے یہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہے، بالعموم عالم اسلام پر دشمنوں کی دشمنی کا سایہ فگن ہے، اور بالخصوص عالم عرب صلیبیوں کے سامنے گھٹنے ٹیک چکا ہے، ان کی کسی پالیسی سے اسلامی حمیت، غیرت اور اسلامیت نہیں جھلکتی، بس اقتدار کی ہوس، دولت و عزت اور عیش و عشرت کی داد نظر آتی ہے، آئے دن ان کی بے بسی عام ہوتی ہے، ان کے پاس سب کچھ لیکن اتنی ہمت نہیں کہ بیت المقدس کی بے حرمتی پر روک لگا سکیں؛ بلکہ گاہے گاہے ایسے بیانات جاری کرتے رہتے ہیں جس سے انداز ہوتا کہ بیت المقدس سے امت مسلمہ کا تعلق رسمی ہے، یہی وجہ ہے کہ آئے دن مسجد اقصی اور فلسطینیوں کے خون کی ہولی کھیل جاتی ہے، اسرائیلی جارحیت اپنے عروج پر ہے، پولس اور فوج کا زور اس قدر بڑھتا جارہا ہے کہ مسجد اقصی کے صحن میں کھڑے ہونے پر بھی پولس کارروائی کرنے لگتی ہے، صنف نازک کو مارتی ہے اور گاڑیوں میں ٹھونس کر جیل لے جاتی ہے، آئے دن ایسی وڈیوز اور فوٹوز سوشل میڈیا پر گردش کرتے رہتے ہیں کہ جن سے پتہ چلتا ہے کہ کسی بھی فلسطینی اور بیت المقدس کے محب کو کہیں بھی چند فوجی ملکر نہتھے اور معصوموں کو گولیوں سے بھون دیتے ہیں، وہ مزاحمت کرتے ہیں، کمزور جسم اور ہتھیار کے بغیر ایمانی جوش و خروش اور للہ فی اللہ سب سے بھڑ جاتے ہیں، عمر کی کوئی قید نہیں ہے، ایک ضعیف اور بوڑھا شخص غلیل لیکر ہی میدان میں داد شجاعت دینے لگتا ہے، ایک نوجوان خاتون تنہا ہی فوج کے سامنے ڈٹ جاتی ہے، ایک بچہ چیخ و پکار کر کے اور سنگ باری کرتے ہوئے افسران کا مقابلہ کرتا ہے، نوجوان تو ہر کبھی ان کی بندوقوں کے دہانے پر ہوتے ہیں، کوئی گھر اور کوئی گلی، محلہ اور معاشرہ نہیں ہے جہاں انہوں نے سکون کی ایک سانس لینے کی اجازت دی ہو؛ بلکہ وہ شب و روز گشت کرتے ہیں اور من مانی طور پر ظلم و زیادتی کرتے ہیں، عالم انسانی کی تاریخ میں شاید علی الإعلان ظلم کی یہ پہلی داستان ہوگی جہاں پوری دنیا خموش تماشائی بنی رہتی ہے؛ شاید یہ کہنا زیادہ مناسب ہے کہ مسلمان کے لال خون کی خوشبو اور لذت سے محظوظ ہوتی رہتی ہے۔
مسئلۂ فلسطین مسلمانوں کے دلوں کا وہ زخم. ہے جس کو وہ کبھی نظر انداز نہیں کرسکتے، کوئی دل ایسا نہیں جو اس زخم کو شفا سے ہمکنار کرے؛ بلکہ وہ اسے تازہ گلاب کی طرح سرخ رکھنا چاہتا ہے، تاکہ یہی ہدف اور عین مقصود رہے، حق یہ ہے کہ اسرائیل کا قیام ہی فلسطین کے ساتھ درندگی ہے، اور اس سے دوستی کا ہاتھ بڑھانا ظالم کی حمایت اور قہر الہی کو دعوت ہے، مسئلہ فلسطین پر علامہ اقبالؔ نے جو بیان دیا تھا، وہ اقبال ؔنامہ میں موجود ہے، اسے ہر ایک کو تعویذ بنا لینا چاہئے، اس میں وہ لکھتے ہیں: ’’فلسطین میں یہود کیلئے ایک قومی وطن کا قیام تو محض ایک حیلہ ہے، حقیقت یہ کہ برطانوی اِمپیریلزم مسلمانوں کے مقامات ِمقدس میں مستقل انتداب اور سیادت کی شکل میں ایک مقام کی متلاشی ہے‘‘۔ ان کی یہ تلاش پوری ہوچکی ہے، مگر ہماری جستجو باقی ہے، اور ہمیشہ رہنی چاہیے! ہمارے سینوں میں بیت المقدس کی محبت کا شعلہ ہو، دل میں اس کی آزادی اور حرمت اقصی کی بازیابی کا خواب ہو، ہر دم خون میں گرم جوشی باقی رہے، کوئی لمحہ ایسا نہیں گزرنا چاہیے جب دل یہ نہ کہتا ہو کہ کاش بیت المقدس امت مسلمہ کی محبت اور عروج پر گواہ بن جائے، ہمیں نہیں لگتا کہ دنیا میں کوئی بھی سچا پکا مسلمان ہو جو بیت المقدس کی محبت اور اس کی دل لگی سے محروم ہوگا؛ لیکن کیا کیجئے! وقت نے یہ ستم ڈھایا ہے کہ ہاتھ پیر سلامت ہوتے ہوئے بھی بیت المقدس کو زنجیروں میں جکڑا ہوا دیکھ رہے ہیں، اپنے بھائیوں کا خون بہتا ہوا اور ان کی قربانیوں کا مشاہدہ کر رہے ہیں، مگر ہم جانتے ہیں کہ امت مسلمہ میں ہر فرد، معاشرہ اور تابندہ دل کی خواہش اور اس کا ہدف بیت المقدس ہے، ہر انسان پر یہ لازم ہے کہ وہ خود کو اور اپنی نسلوں کو بتائے کہ مسجد اقصی کی اسلام میں کیا اہمیت ہے، قوم کی زندگی میں اسے کیا مقام حاصل ہے؟ اس کی بازیابی ہمارا مقصود ہونا چاہیے، مظلوموں کی داد رسی اور ظالم کے حق میں تلوار ہونا چاہئے، اگر ہم نہیں تو ہماری نسلیں دیکھیں گی کہ بیت المقدس کا شرف کیسے بحال ہوتا ہے، یہ امت بانجھ نہیں ہے، اس قوم کی رگوں میں تڑپتا بھڑکتا لہو دوڑتا ہے جو جمود سے پاک ہے، اس کی نیت اور دل کی صفائی و ستھرائی پر گواہی دی جاسکتی ہے، اب بھی ایمان کی جوت لئے لوگ صبح و شام کرتے ہیں اور بیت المقدس کو دل میں بسائے رہتے ہیں، آج نہیں تو کَل ان شاء اللہ مسجد اقصی کی حرمت و عزت بحال ہوگی، اہل شعر و ادب قیصر الجعفری کے نام سے واقف ہیں، اخیر میں ان کی نظم ’’حریف ِجاں سے کہو‘‘ کے چند اشعار پیشِ خدمت ہیں:
زمین بوجھ اُٹھائے گی اور کتنے دن
تمام شہر ستم گروں کی زد پر ہے
ہزار بار چلاؤ ہزار بار مجھے
تمہاری شمع اَزل سے ہوا کی زد پر ہے
تمام تیر مشیت کی چٹکیوں میں ہیں
کہیں بھی جائے پرندہ قضا کی زد پر ہے
لہولہان شجر چیختے ہیں صدیوں سے
تمہاری تیشہ زنی بددُعا کی زد پر ہے
سمٹنے والا ہے یہ کاروبارِ تیرہ شبی
تمہاری رات چراغ حرا کی زد پر ہے
کھلیں گے مسجد اقصیٰ کے بند دروازے
تمہاری ساری خدائی ، خدا کی زد پر ہے
Comments are closed.