خوشی
آمنہ جبیں رہائش بہاولنگر
آج کے اس جدید دور میں خوش رہنا جتنا ضروری ہے۔ خوشی انسانوں سے اتنی ہی دور ہوتی چلی جا رہی یے۔یوں خوش رہنا ایک خواب بن چکا ہے ۔ آج جس شخص کو دیکھو مایوسی ،غموں ،اور تکالیف میں گرا زندگی کی لطافت سے کوسوں دور بھٹک رہا ہے۔خوش نہ رہنے کی بہت سی وجوہات ہو سکتی ہیں ۔آپ کی زندگی کے اتار چڑھاو ،دولت کی کمی، شہرت کی تمنا، ذہنی دباؤ ، شکر گزاری کی قلت ، اور اس کے علاوہ آج کی نسل میں خوش نہ رہنے کی سب بڑی وجہ محبت میں ناکامی، دلوں کا ٹوٹ جانا، اگر کسی نے ٹھکرا دیا تو مغموم رہنا، اور اس شخص کی باتوں کو سینے سے لگا کر گم صم زندگی کی خوبصورتیوں سے دور کہیں کال کوٹھڑی میں بند ہو جانا ہے ۔
خوشی کا ایسے انسان سے بہت کم تعلق رہ جاتاہے۔جو چیزوں اور لوگوں سے خوشی تلاش کرتا ہے۔ وہ اپنا مزاج اور طبیعت ایسے بنا لیتا ہے۔ کہ ہمیشہ پریشان نظر آتا ہے ۔یہاں تک کہ وہ ایک روگی شخص بن جاتا ہے۔کیونکہ وہ یہ انتخاب کر چکا ہے ۔ کی اسے خوشی نہیں چاہیے ۔ اگر چاہیے تو اسی شخص اور اسی خواہش کی تکمیل سے جس کے گرد وہ اپنی خوشی کا محور کر چکا ہے۔ اور جب وہ خواہش پوری نہیں ہوتی تو خوش رہنا اپنے اوپر حرام سمجھتا ہے ۔ اور غمگین اور افسردہ رہنا اپنا حق۔یوں درد کی ڈور کے ساتھ بند کر ساری عمر سلگتا رہتا ہے۔ اس کا یہ رویہ اسے یہ احساس دلانے لگتا ہے کہ وہ دنیا کا سب سے پریشان اور دکھی شخص ہے ۔ جب وہ کسی انسان کو بہت خوش دیکھتا ہے۔ تو سمجھتا ہے کہ اس کی قسمت کتنی اچھی ہے ۔یہ کتنا خوش ہے۔ اور میں کتنا بد قسمت اور نا خوش شخص ہوں۔ یوں وہ دوسروں سے اپنا مقابلہ کرنے لگتا ہے۔ یہ سب وجوہات انسان کو خوشی سے دور کر دیتیں ہیں۔
اس کے علاوہ آج ہماری خوشی کا معیار بھی بہت فرسودہ ہو چکا ہے۔ کیونکہ ہر انسان کے نزدیک خوشی کا ایک اپنا معیار ہے – مختلف لوگوں کی خوشی مختلف چیزوں میں ہوتی ہے- آج ہماری خوشی اور مسکراہٹ کا معیار گر گیا ہے- اس لیے ہم نہ خوش ہیں – آج دوستوں کی محفل سجتی ہے ۔ تو قہقہوں کے لیے خوشی کے لیے دوسروں پر یہاں تک کہ راہ گیروں پر نقظہ چینی کر کے ،فضول گیمز کھیل کے، بے حیائی کی فلموں اور گانوں کو سن کر ہم خوشی محسوس کرتے ہیں تو کہیں ہم کسی کمزور پر ہنس کر اس کا مذاق اوڑھا کر ،کسی کے کردار پہ بات کر کے ، اپنی راحت کا سامان پیدا کرتے ہیں۔ آج ہماری خوشی کا معیار دوسروں کو درد دینا ،اذیت دینا ،اپنی نفسی خواہشات کو پورا کرنا بن چکا ہے ۔یہ خوشی کا معیار نہیں بلکہ انسان کے نفس کی راحت کا معیار ہے۔جبکہ ہمیں خوش رہنے کے لیے نفس کی راحت کا نہیں بلکہ دل کی راحت کا معیار منتخب کرنا ہے۔ دوسروں کے رستے میں کانٹے نہیں پھول بچھا کر خوش ہونا ہے۔
خوشی ایک اتفاق نہیں بلکہ ایک
انتخاب ہے اگر آپ نے منتخب کر لیا ہے ۔کہ میں نے خوش رہنا ہے تو آپ ہر حال میں رہ سکتے ہیں چاہے زندگی جتنی بھی تلخ ہو جائے ۔ لیکن اگر آپ یہ منتخب کر چکے ہیں کہ آپ کو خوش نہیں رہنا تو آپ سب کچھ پا کر بھی نا خوش ہی رہیں گے۔ کیونکہ تب آپ کی ہوس بڑھتی جائے گی۔ ایک ٹارگٹ کے بعد آپ کہیں گے دوسرا کام دوسری خواہش بھی پوری ہو جائے ۔ مگر ایسی صورت میں جتنی بھی خواہشیں پوری ہو جائیں آپ نہ خوش ہی رہیں گے۔ اس لیے سب سے پہلے آپ کو منتخب کرنا ہے کہ آپ خوش رہنا چاہتے ہیں یا نہیں۔
اس بات پہ بھی غور کیجئے ۔کہ دکھ سب کو ملتے ہیں ۔ تکالیف سبی کی زندگی میں آتی ہیں۔ لیکن کچھ لوگ ان چیزوں میں خوشی تلاش کرتے ہیں جو ان کے پاس ہیں نہ کہ ان چیزوں میں جو ان کے پاس نہیں۔ لیکن خوش رہنا میرے نزدیک بہت آسان ہے۔ کیونکہ خوشی باہر کا نہیں بلکہ اندر کا احساس ہے۔ یہ ایک خارجی نہیں داخلی احساس ہے ۔ آپ کو یہ احساس باہر سے کوئی نہیں دلا سکتا نہ یہ خواہشوں کی تکمیل نہ یہ انسانوں کی رونق ۔ اس احساس کو آپ نے اپنے اندر سے محسوس کرنا ہے ۔
دیکھئیے کیا اللہ کے پیغمبروں پہ مشکلیں نہیں آئیں ؟ ان کو اپنوں نے دکھ نہیں دیے؟ کیا ان کا دل کسی نے نہیں توڑا ہو گا ۔ تمام انسانوں سے زیادہ تکلیف سہنے والے میرے اور آپ کے نبی صلی اللہ ھو علیہ وآلہ وسلم تھے۔ لیکن آج ان کی زندگی کھول کہ پڑ لیں ۔ایک بھی جملہ ایسا نہیں ملے گا ۔کہ جس میں یہ بات لکھی ہو کہ اللہ کے نبی صلی اللہ ھو علیہ وآلہ وسلم ناخوش رہے ۔ وہ تو کئی دن کا فاقہ کر کے بھی خوش رہتے تھے ٹاٹ پہ سو کر ، پیوند لگا جوتا پہن کر خوش رہتے تھے ۔ کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کے شکر گزار بندے تھے۔ ہر حال میں شکر کرنے والے تکالیف پہ بھی صبر کے ساتھ شکر کا گھونٹ لیتے تھے ۔ اور اس محبوب محمد صلی اللہ ھو علیہ وآلہ وسلم کی زندگی سے بڑھ کر ہمارے لیے کوئی نمونہ نہیں۔ اگر ہمیں خوش رہنا ہے ۔ تو ہمیں قناعت کرنے والا بننا ہو گا۔ اگر آپ نہ خوش ہیں۔ تو مطلب آپ قناعت کرنے والے نہیں ہیں۔ اور اگر آپ قناعت نہیں کر رہے تو مطلب آپ نہ خوش ہیں۔
اس لیے جو آپ کے پاس ہے۔ چاہے جتنا بھی ہے اس پہ قناعت کرنا شکر گزاری کرنا سیکھیے آپ خوش رہ سکتے ہیں۔ ہمارا مسلئہ یہ ہے ہم اپنے سے اوپر دیکھتے ہیں نیچے نہیں ۔ اگر شکر گزار بننا ہے تو اپنے سے نیچے بے بس ، مجبوروں ، لاچاروں کو دیکھئیے ۔ خوشی آپ کی دہلیز پر ضرور آئے گی۔ کیونکہ مشکلات اتنی بڑی ہوتی نہیں ہیں جتنی ہم انہیں بنا لیتے ہیں۔ اسی طرح خوش رہنا اتنا مشکل ہوتا نہیں جتنا ہم سمجھ لیتے ہیں ۔ اس لیے ہمیں خوش رہنے کے لیے شکر گزاری کرنی ہو گی۔ اور شکر گزاری کے لیے دوسری وجوہات کا ہونا تو دور کی بات ہے۔ انسان کی اپنی ذات میں بہت کچھ ہے ۔بہت نعمتیں ہیں ۔جسے اگر وہ گننے بیٹھ جائے تو اس کی عمر یونہی پوری ہو جائے گی ۔ مگر وہ انہیں گن نہیں سکے گا ۔ آخر میں میں اپنے اس خوشی کے موضوع کو سمیٹتے ہوئے یہی کہوں گی ۔ کہ اگر انسان کو خوش رہنا ہے تو وہ صحرا کی ریت پہ تنہا اور بھوکا پیاسا بھی خوش رہ سکتا ہے۔ لیکن اگر اسے خوش نہیں رہنا تو دنیا کی یہ ساری نعمتیں بھی اس کی خوشی کے لیے کم پڑ جائیں گی۔
شکریہ
Comments are closed.