"شعلہ طور” پر سید صاحب مرحوم کا تاثر-

 

صابر حسین ندوی

یہ عشق نہیں آساں بس اتنا سمجھ لیجیے
اک آگ کا دریا ھے اور ڈوب کے جانا ہے
مذکورہ شعر شہنشاہ تغزل جگر مراد آبادی (1890ء -1960ء) کا ہے، جن کے والد محترم بچپن ہی میں انتقال فرما گئے تھے، جس کی وجہ سے انہیں شفقت پدری سے محرومی اور زندگی کی مشکلوں کا درد سہنا پڑا، یہی وہ سوز تھا جو صرف ١٣/ ١٢ سال کی عمر میں ہی شعر و شاعری کی صورت میں جھلکنے لگا، اور جگر کاٹ کاٹ کر پیش کرنے لگے، مگر اس جگر گردے کے کام میں انہوں نے نہ صرف مادی بلکہ روحانی کشمکش کا بھی سامنا کیا، ان کی سوانح حیات مرقع عبرت ہے، ایک مرتبہ انہوں نے خود فرمایا تھا: "میں مختلف مذہبی عقائد سے گزرتا رہا ہوں۔ ایک زمانے میں دہریت مجھ پر حاوی رہی۔ میں شیعیت کی جانب بھی رحجان رکھتا تھا۔ ان دنوں میں لاہور میں چشمے کی ایک فرم میں ملازم تھا جس کے ڈائرکٹروں میں شیخ عبد القادر بھی تھے۔ یہ زمانہ میرا دکھ اور روحانی اذیتوں کا تھا۔ آخر ایک روز میں حضرت اصغر گونڈوی کے پاس ان سے ملنے کیلئے گیا جو ایک صاحب سے بحث کر رہے تھے۔ میری دلچسپی نے دور ہی سے مجھے اس بحث کو سننے کیلئے روک دیا۔ میں قریب کھڑا اس طرح کہ وہ مجھے نہ دیکھ سکیں، تمام بحث سنتا رہا۔ عجیب بات یہ تھی کہ حضرت اصغر سمجھا رہے تھے اسے اور میرے دل میں کانوں کے ذریعہ ہر ایک بات اترتی جا رہی تھی ایسا بھی وقت آیا کہ جوشبہات میرے دل میں تھے میں نے سوچے اور تھوڑی دیرکے بعد ہی وہاں سے جواب ملا۔ وہ وقت مجھے یاد ہے جب میں تھوڑی دیر میں راسخ العقیدہ حنفی ہو گیا۔“ (ہمایوں لاہور، مارچ سنہ 1991صفحہ۔ 258)
جگر مرحوم وہ خوش نصیب شاعر بھی ہیں جن کے تین شعری مجموعے ان کی زندگی میں ہی شائع ہوئے۔ پہلا شعری مجموعہ سنہ 1922 میں ”داغِ جگر“ کے نام سے شائع ہوا جسے اعظم گڑھ کے احسان احمد وکیل نے مرتب کر کے شائع کیا تھا۔ اس پر مولانا عبد السلام ندوی نے تعارفی نوٹ لکھا تھا۔ ان کا ایک اور شعری مجموعہ ”آتشِ گل“ 1954ء میں ڈھاکہ سے شائع ہوا تھا۔ اس میں پروفیسر رشید احمد صدیقی کا طویل مضمون ”جگر میری نظر میں“ اور پروفیسر آل احمد سرور کا دیباچہ بھی شامل ہے۔ 1958ء میں دوبارہ اسے انجمن ترقی اردو ہند نے شائع کیا اور اس پر انہیں ساہتیہ اکاڈمی انعام بھی ملا۔ مزید ایک شعری مجموعہ ”شعلہٴ طور“ کے عنوان سے 1932ء میں علی گڑھ سے شائع ہوا۔ جسے اشاعت کے اعتبار سے دوسرا مقام حاصل ہے، اس کے نام کی شانِ نزول یہ تھی کہ مین پوری میں ایک طوائف شیرازن تھیں، جو بہت ہی مہذب اور باذوق خاتون تھیں۔ جگر کا قیام ان دنوں مین پوری میں تھا ان کی ملاقات شیزان سے ہوئی اور جلد ہی گہرے تعلقات ہو گئے۔ وہ جگر کی شاعری کی دلدادہ تھیں اور اپنی مخصوص محفلوں میں زیادہ تر جگر کا ہی کلام سناتی تھیں۔ جگر اکثر ان کے گھر پر ہی پڑے رہتے تھے۔ ان کیلئے بالائی حصے پر ایک کمرہ مخصوص کر دیا تھا، جسے جگر صاحب”طور“ کہا کرتے تھے۔ اسی لئے جب اس زمانے میں ان کا مجموعہ شائع ہونے لگا تو انہوں نے اس کا نام ”شعلہ طور“ رکھ دیا اور سر ورق پر یہ شعر لکھا:
ہجومِ تجلی سے معمور ہو کر
نظر رہ گئی شعلہ طور ہو کر
نقوش سلیمانی میں چھٹا مقدمہ "شعلہ طور” پر ہے، جو جگر مراد آبادی کا مجموعہ کلام ہے، سیدالطائفہ علامہ سید سلیمان ندوی رحمہ اللہ نے اس میں شاعری کی حقیقت وماہیت یا جگر کی شاعری پر فنی حیثیت سے کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے، بلکہ محض جگر کی ذات کا تعارف اور ان کی شاعری پر شاعرانہ انداز میں اظہار خیال کیا ہے؛ لیکن اس سے جگر کی شاعری کی حقیقت پر بھی روشنی پڑتی ہے، اس تقریظ کا درج ذیل آخری پیراگراف پرکیف عبارت آرائی اور انشاء پردازی کا شہ پارہ ہے، آپ خود ملاحظہ کیجئے :”جگر کی شاعری میں نہ زلف و شانہ ہے، نہ سرمہ و آئینہ، نہ ہوس بالائے بام نہ شکایت منظر عام. نہ اس کے کاشانہ خیال میں چشم ہائے بسمل کی آئینہ بندی ہے، نہ اس کے محبوب کے ہاتھوں میں قصاب کی چھری اور جلاد کی تلوار ہے. اس کے کوچہ میں شہداء کے دل و جگر کی گلکاری ہے، وہ مست ہے اور اسی مستی میں کسی نادیدہ کا سراپا مشتاق نظر. وہ اس کے حجابات کو اپنے رعشہ دار ہاتھوں سے بار بار اٹھا دینا چاہتا ہے، مگر نہیں اٹھا سکتا. وہ جھانک کر دیکھنا چاہتا ہے، مگر نہیں دیکھ سکتا. اس کی تمنا کی آنکھیں کبھی بے حجاب دکھائی دیتی ہیں، تو وہ ہاتھ اٹھا کر چھونا چاہتا ہے، مگر وہ تصویر نگاہوں سے غائب ہوجاتی ہے، جگر مست ازل ہے، اس کا دل سرشار الست ہے. وہ محبت کا متوالا اور عشق حقیقی کا جویا. وہ مجاز کی راہ سے حقیقت کی منزل تک اور بت خانہ کی گلی سے کعبہ کی شاہراہ کو اور خم خانہ کے بادہ کف سے بے خود و فراموش ہو کر بزم ساقی کوثر تک پہنچنا چاہتا ہے، جگر سرشار مگر درحقیقت بیدار ہے. اس کی آنکھوں پر خمار مگر اس کا دل ہشیار ہے، اور کیا عجب کہ خود جگر کو بھی اپنے دل کی خبر نہ ہو، اگر ایسا نہ ہو تو اس کے کلام میں یہ اثر نہ ہو” ( نقوش سلیمانی :٤٣١) بلاشبہ یہ اقتباس جگر کی شاعری کا خلاصہ اور عطر ہے، اور سب سے زیادہ قابل ذکر بات یہ ہے کہ سید صاحب نے جگر کو مست ازل اور سرشار الست اس وقت لکھا تھا، جب جگر نہایت معمولی شراب پی کر کہیں نشہ میں چور دکھائی دیتے تھے، اس لئے ظاہر بیں نگاہوں نے سید صاحب کے مذکورہ بالا الفاظ پر نکتہ چینی کی اور حیرت کا اظہار کیا تھا؛ لیکن سید صاحب نے ١٩٣٢ء میں جو کچھ لکھ دیا تھا، اس میں ترمیم کرنا پسند نہیں کیا، اور جگر کے بارے میں اپنی اس رائے پر قائم رہے، اور وقت نے سید صاحب کے مذکورہ الفاظ کو حقیقت بنا کر عیاں کردیا، جگر اپنی زندگی کے آخری دور میں فی الواقع مست ازل اور سرشار الست ہوگئے تھے، سید صاحب کے الفاط گویا بشارت بن گئے۔(علامہ سید سلیمان ندوی_ شخصیت و ادبی خدمات :١٦٧)

 

Comments are closed.