عملی تربیت ہی مؤثر ہوتی ہے۔
محمد صابر حسین ندوی
Mshusainnadwi@gmail.com
7987972043
انسان کی ایک خاصیت یہ ہے کہ وہ سننے سے زیادہ دیکھ کر تاثر لیتا ہے، شنید کے بالمقابل مشاہدہ کو قبول کرنے اور اپنے اندر سمونے میں زیادہ یقین رکھتا ہے، کہتے ہیں انسان کانوں سے نہیں بلکہ آنکھوں سے بنتے ہیں، الفاظ کی بندش، ادائیگی اور انتخاب کتنا ہی اعلی کیوں نہ ہو، بھلے ہی ایسا کیوں نہ ہوجائے کہ بولنے والی کی زبان سے شہد ٹپکے اور الفاظ پھول بن کر جھڑنے لگیں، آواز کا حسن بھی دل کو بھائے اور نفس مضمون بھی مسخر کرنے لگے؛ لیکن اگر عملی طور پر اس کی تطبیق ممکن نہ ہو تو اس کی کوئی اہمیت نہیں ہے، ہمارے ارد گرد کا ماحول ہماری زبان سے زیادہ عمل سے متاثر ہوتا ہے، آپ کتنا ہی اپنی پاکی، تقدس، نیکی، للہیت اور تقوی کی دہائی دیجئے! خواہ آپ گھنٹوں بیٹھ کر اپنی فضیلت، برتری اور صاف ستھرائی کی وضاحت دیجئے! اس سے شاید ہی کسی پر اثر پڑے؛ لیکن اگر آپ اقدامی اور عملی طور پر خشیت و للہیت اور معاملات کی درستگی کا مظاہرہ کرتے ہیں، اسلامی اخلاقیات پر گامزن ہوتے ہیں، قرآنی تعلیمات کو اپنی زندگی کا روشن منار سمجھتے ہیں، حلال و حرام کا پیمانہ فرمان الہی کے مطابق برتتے ہیں، تو سچ جانئے! آپ کو کچھ کہنے کی ضرورت نہیں ہے، چیخ چیخ کر اپنی پاکبازی اور شب گزاری کا اعلان کرنے کی کوئی حاجت نہیں ہے، گلاب کا پتہ خوشبو ہے، صاف دل ہی انسان کی کشش کا سامان ہے، نیک نیتی ہی کافی ہے، افسوس کی بات ہے کہ ہمارا سماج عملی تبیلغ سے کوسوں دور ہے، تقاریر اگرچہ بیداری کا ایک ذریعہ ہوسکتے ہیں؛ مگر عملی جذبات کو برانگیختہ کرنے اور دیرپا اثر و تبدیلی پیدا کرنے کا سبب ہوں یہ ضروری نہیں، آج سوسائٹی میں برائیوں کا انبار ہے، اچھائیوں سے کہیں زیادہ منکرات کے پیر پھیلے ہوئے ہیں، خصوصاً نئی نسل کی تربیت اور ان کی پرورش کا مسئلہ بڑا سنگین ہوتا جارہا ہے، ہندوانہ رام و رواج اور ملکی قوانین سے لیکر سماجی تانے بانے نے سب کچھ خطرے میں ڈال دیا ہے، ایمان کی حفاظت اور اسلامی قدروں کا تحفظ مشکل معلوم ہوتا ہے، اس کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ ہم عملی طور پر منکرات پر نکیر نہیں کرتے، منصوبہ بند کاوشیں ہماری زندگی کا حصہ نہیں ہیں، معاشرتی اصلاح اور لوگوں کی تربیت کا عملی لائحہ نہیں ہے، خوب سمجھ لینے کی بات ہے کہ جب تک عملی طور پر اصلاحی مہم نہ چلائی جائے، سماج کے بارسوخ افراد اقدام نہ کریں اور متحدہ طور پر برائی کو برائی مان کر اس کا بائیکاٹ نہ کریں تب تک صرف لفاظی ہے اور کچھ نہیں، استاذ گرامی قدر فقیہ عصر حضرت مولانا خالد سیف اللہ صاحب رحمانی مدظلہ نے نئی نسل کی تربیت میں عملی پہلو پر بخوبی روشنی ڈالی ہے، آپ کی ایک تحریر کا اہم اقتباس قابل ملاحظہ ہے، آپ فرماتے ہیں:
—-آج ہمارے سماج میں تصور پیدا ہوگیا ہے کہ بچوں کو اچھے کپڑے پہنانا، عمدہ کھانا کھلانا، ان کی ہر خواہش کو پورا کرنا اور اچھے مہنگے اسکول میں تعلیم دلادینا کافی ہے، کم سے کم کسی مسلمان کے لئے یہ انداز فکر ہرگز روا نہیں، اگر بچوں کی اخلاقی تربیت نہیں کی گئی تو یہ ساری مادی سہولتیں ضائع ہوجاتی ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اپنی اولاد کا اکرام کرو اور انھیں بہتر ادب سکھاؤ: ’’ أکرموا أولادکم وأحسنوا أدبھم‘‘ (سنن ابن ماجہ: ۳۶۷۱) ایک موقع پر آپ ا نے ارشاد فرمایا: کسی باپ نے اپنی اولاد کو بہتر تربیت سے بڑھ کر کوئی عطیہ نہیں دیا: ’’ ما نحل والد ولداً من نحل أفضل من أدب حسن‘‘ (سنن ترمذی: ۱۹۵۲) ایک اور روایت میں ہے کہ باپ نے اپنی اولاد کے لئے بہتر تربیت سے اچھا کوئی ترکہ نہیں چھوڑا : ’’ماورث والد ولداً خیراً من ادب حسن‘‘۔ (المعجم الاوسط: ۳۶۵۸) تربیت کوئی ایسا سودا نہیں ہے، جسے بازار سے خرید کرلیا جائے، جیسے بچوں کے لئے کھانے پینے کی چیزیں خرید کی جاتی ہیں ؛ بلکہ اس کے لئے ضروری ہے کہ ماں باپ خود اپنے بچوں پر وقت لگائیں، وہ روزانہ کم سے کم گھنٹہ دو گھنٹہ اپنے بچوں کے ساتھ دینی باتوں میں گزاریں، انھیں اخلاقی کہانیاں سکھائے، انھیں رسول اللہ ا کی سیرت کے منتخب واقعات بتائے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے مختلف ارشادات میں اس بات پر توجہ دلائی ہے کہ والدین کو کن پہلوؤں سے اپنی اولاد کی تربیت کرنی چاہئے؟ آپ ا نے فرمایا جب تمہارے بچے ۷ سال کے ہوجائیں تو ان کو نماز کا حکم دو اور نہ پڑھے تو سرزنش کرو اور ان کے بستر الگ الگ کردو ، ( سنن ابی داؤد ، کتاب الصلاۃ: ۵۹۴ ) کن چیزوں پر خصوصی توجہ دی جائے ، ان کا ذکر کرتے ہوئے آپ ا نے فرمایا کہ تین باتوں کی تعلیم پر خصوصی توجہ دو، ایک : نبی کی محبت ، دوسرے : اہل بیت کی محبت ، تیسرے : قرآن مجید کی تلاوت : ’’ ادبوا أولادکم علی خصال ثلاث : علی حب نبیکم ، وحب أہل بیتہ و علی قراء ۃ القرآن‘‘ ۔ ( الدیلمی : ۱۱؍۲۴) اسی طرح ماں باپ کو بچوں کے ساتھ یا بچوں کے سامنے کوئی بھی ایسی حرکت نہیں کرنی چاہئے، جو بچوں کے ذہن پر منفی اثر ڈالنے والی ہو، آپ ا نے ارشاد فرمایا : جو بچے سے کہے کہ یہاں آؤ، میں یہ دوں گا ، پھر وہ نہ دے تو یہ جھوٹ ہے: ’’ من قال للصبی: تعال ھاک ، ثم لم یعطہ فھی کذبہ‘‘ (مسند احمد: ۹۸۳۶) بعض دفعہ بچہ کوئی اچھا کام کرنا چاہتا ہے؛ لیکن والدین اس کے خلاف ہوتے ہیں ، جیسے اولاد کی خواہش ہے کہ ڈاڑھی رکھے؛ لیکن ماں باپ اسے پسند نہیں کرتے، بچے چاہتے ہیں کہ ناجائز ملازمت اور رشوت سے بچیں، مگر والدین اسے بیوقوفی سمجھتے ہیں، بچے چاہتے ہیں کہ سنت کے مطابق نکاح کی تقریب انجام دی جائے؛ لیکن والدین تکلفات ، فضول خرچی اور مطالبۂ جہیز وغیرہ پر مصر ہوتے ہیں ، بچے چاہتے ہیں کہ ان کا نکاح کردیا جائے؛ کیوںکہ وہ اس کی ضرورت محسوس کرتے ہیں؛ لیکن والدین کی ضد ہوتی ہے کہ جب تک مکان نہ بنالیں اور فلاں اور فلاں کام نہ کرلیں ، اس وقت تک شادی نہ کی جائے، یہ سب باتیں غلط ہیں اور اولاد کو گناہ کی طرف لے جانے والی ہیں، والدین کو چاہئے کہ اولاد کی تربیت تو کرے ہی اور اگر ان کی تربیت یا کسی اور محرک کی وجہ سے بچوں میں دینی رجحان پیدا ہوجائے تو اس پر عمل کرنے میں والدین ان کا تعاون بھی کریں ، ان کا رویہ تعاون کا ہو نہ کہ مخالفت کا ، رسول اللہ ا نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ اس باپ پر رحم کرے گا ، جو نیکی کے معاملہ میں اولاد کی مدد کرے : ’’ رحم اﷲ والداً أعان ولدہ علی برہ ‘‘ (مصنف لابن ابی شیبہ: ۲۵۴۱۵) ایک اور موقع پر آپ انے فرمایا : تم لوگ نیکی پر اپنی اولاد کی مدد کیا کرو : ’’ أعینوا أولادکم علی البر‘‘ ۔ (المعجم الاوسط:۴۰۷۶- شمع فروزاں – ١٠/ مارچ ٢٠١٧)
Comments are closed.