ز افسانۂ دیگراں بیا عبرت بگیر! (١)
سلمان ندیم
تا کہ گوئی بچرخ شد خانۂ ما
خندند ہمہ بر دلِ دیوانۂ ما
ز افسانۂ دیگراں بیاعبرت بگیر
زاں پیش کہ بشنوند افسانۂ ما
نیل کنٹھ محل (موجودہ نام) کی مشرقی دیوار پر کندہ یہ رباعی گردشِ زمانہ کی خانہ براندازی کو بیان کرتی ہے، اور پھر رباعی کے دوسرے الفاظ اور ان کی ساختیات ملاحظہ فرمائیں! بس اِن ہی سے ملے جلے جذبات اس وقت دل میں بکھرے ہوئے ہیں، جنہیں چن چن "افسانۂ دیگراں ” کی زینت بنانے والا ہوں اور عبرت دلانے والا ہوں اس سے پہلے کہ "بشنوند افسانۂ ما”
یہ محل مانڈو شادی آباد کی مغربی پہاڑی کے دامن میں خوبصورت ترین مقام پر بناہوا ہے۔
شادی آباد (مانڈو) مدھیہ پردیش کے ضلع دھار سے 39 کلومیٹر کے فاصلے پر بل کھاتے ہوئے راستوں سے گزر کر کوہِ وِندھیاچل کی ایک پہاڑی کی چوٹی پر واقع ہے، سطح سمندر سے جس کی اونچائی 2079 فٹ ہے۔
اجڑا ہوا سا شہر! خاموش اور پرسکون! تمدنی ہنگاموں سے کوسوں دور!
مجھے اس شہر سے عشق ہے اور بے انتہا ہے!
میں بارہا وہاں کا سفر کر چکا ہوں، اور کرتا رہتا ہوں، کیونکہ وہاں کی سرزمین مجھے کھینچتی ہے۔
میں وہاں اس لئے نہیں جاتا کہ ہجومِ کار سے تھک کر تفریحی سرگرمیوں سے لطف اندوز ہوؤں!
بس وہاں جاتا ہوں تو جی چاہتا ہے راستے گم ہوجائیں اور میں وہاں کے صحراوں میں بھٹک جاؤں۔
جانتے ہو وہاں کیا ہے؟
وہاں چودھویں اور پندرہویں صدی کے مسلمانوں کے تہذیبی وثقافتی آثار ہیں۔
وہاں دلاور خان غوری سے لے کر باز بہادر تک کی ڈیڑھ سو سال سے کچھ زیادہ عظیم الشان تاریخ دفن ہے۔ سلطنتِ مالوہ کا پایۂ تخت رہ چکا یہ شہر خدا معلوم کتنے تہذیبی نقوش ستاروں کی طرح آج بھی اپنے دامن میں سجائے ہوئے ہے، کچھ لوگوں کے لئے وہ آثار سرزمینِ شادی آباد پر جھولتے ہوئے چیتھڑے ہیں جن کی رفوگری آج محکمۂ آثار قدیمہ صرف اس نیت سے کر رہا ہے کہ وہ آمدنی کا بہترین ذریعہ ہیں۔ لوگ آتے ہیں، ٹکٹ لیتے ہیں، گھومتے ہیں چلے جاتے ہیں، اور کچھ منچلے جوان اپنا اور اپنی پریمکا کا نام ان آثار کی دیواروں پر کرید کرید کر لکھ جاتے ہیں۔ گویا یوں باور کرا رہے ہوں کہ ہمارا عشق بھی ان کھنڈروں کے ساتھ امر رہے گا۔
آہ! ان آثار کے لئے کھنڈر کا لفظ میرے وجدان کو تلملا دینے والا ہے مگر کیا کروں لغت میں اجڑے ہوئے مکان کے لئے عام فہم یہی لفظ ہے۔
ہندوستان کی تاریخ کے حوالے سے لوگوں نے ہندوستان کے دل دلی کو ہی یاد رکھا۔ یہ دہلی کی خوش قسمتی ہے۔
ورنہ مالوہ، گجرات، خاندیس ،جونپور اور دکن اپنے سنہرے تاریخی دور میں کیا دہلی سے کم تھے؟
تاریخ کا تفصیلی مطالعہ کرکے دیکھیں گے تو اس کا جواب نفی میں ہی ملےگا۔
اور سردست مالوہ یا شادی آباد مانڈو کے حوالے سے بھی لوگوں نے یاد رکھا تو کس کو رکھا؟
آج بھی ہمارے علاقے میں کچھ بسوں پر باز بہادر کے اور کچھ پر روپ متی کے نام لکھے ہوئے ہیں جیسے پیار سے کوئی اپنی گاڑیوں کے نام رکھ دیتے ہیں بلکہ شادی آباد جاؤ تو کچھ ہوٹلوں کے نام بھی ان کے ناموں پر رکھے ہیں۔
آج بھی کچھ لوگوں کو سنے سنائے ہوئے باز بہادر اور روپ متی کے عشقیہ افسانے کہیں مبالغہ آمیز تو کہیں سرسری یاد ہیں۔
آج بھی مالوی زبان میں کہے گئے روپ متی کے درد بھرے دوہے جو اس نے باز بہادر کی محبت اور جدائی کے غم میں کہے تھے:
چت چندیری من مالوی حیا ہاروتی مائے
رن تھمبور میں سیج سجاواں پیامانڈو مائے
مجھ ایسے تاریخ کے طالب علم کو یاد ہیں ،اور واقعی مالوی تاریخ کا آخری باب قصۂ درد اور عشق کی خودکشی کی داستان پر ختم ہوتا ہے، میں نے پڑھا ہے کہ اکبر کا سپہ سالار ادہم خان جس نے روپ متی کے عشق کے چرچے سن رکھے ہوں گے جلد از جلد مالوہ کو فتح کرکے مالِ غنیمت میں روپ متی کو پانا چاہتا تھا، مگر اس کے ہاتھ لگنے سے پہلے ہی وہ عشق کی ماری زہر کا پیالہ پی کر لوگوں کے ذہنوں میں کسی درجے زندہ رہنے والی عشق کی داستان چھوڑ کر چل بسی، رومانوی افسانے پڑھنے والوں کے لئے تفصیل دلچسپ ثابت ہوگی۔
شیر شاہ سوری کے گورنر شجاعت خان اور اس کے بیٹے بازبہادر کے دربار کا وقائع نگار سلیمان خان جو ان سب واقعات کا عینی شاہد ہے جس نے یہ ساری تفصیلات احمد العمری ترکمانی کو بتلائیں جس نے "شہیدِ وفا ” کے نام سے فارسی میں ایک کتاب لکھی جو 26 نظموں پر مشتمل ہے جن میں یہ واقعات درج ہیں اسی منظوم کتاب کا ترجمہ ایک انگریز مؤرخ ایل ایم کرمپ نے the lady of the lotus کے نام سے کیا ہے جو 1926 میں آکسفورڈ یونیورسٹی لندن سے شائع ہوا تھا۔
ایک زمانہ تھا کہ بالی ووڈ کے اعصاب پر عشقیہ داستانوں کو فلمانے کا بھوت سوار تھا، دنیا جہان کے افسانوں کو انہوں نے فلمایا اور اگر ان کو تاریخ کے کسی کردار سے ہلکی سی خوشبو بھی عشق کی آگئی تو پوری فلم ہی عشق کو مرکزی خیال بنا کر پیش کردیتے تھے ،مثلا مغل اعظم کو ہی لے لیجیے۔ یا ابھی حال ہی میں سلطان علاؤالدین خلجی کے کردار کو داغدار کرنے کی کوشش کی گئی ہے جس کا کہیں ثبوت تک تاریخ میں نہیں ملتا، ملک جائسی کی منظوم رومانوی کتاب کو ہی تاریخ بناکر پوری کی پوری فلم بناڈالی، ”شہیدِ وفا“ کتاب کو ہم اس خانے میں اس لئے نہیں رکھ سکتے کہ عینی شاہد سے سنی ہوئی داستان ہے اور پھر اس داستان کی تصدیق اسی دور کے مؤرخین کی اکبرنامہ یا طبقات اکبری یا بعد کے مؤرخین مثلا قاسم فرشتہ سے ہوجائے تو کوئی وجہ نہیں ہے کہ اسے جھٹلایا جائے، بہرحال بالی ووڈ نے بھی اس پر "رانی روپ متی” نامی فلم بنائی ہے جس میں بھرت بھوشن نے ”باز بہادر“ کا اور نیروپا روئے نے ”روپ متی“ کا کردار ادا کیا ہے۔
ناول نگار کب یہ موقع ہاتھ سے جانے دیتے کوئی مائل خیرآبادی صاحب ہیں غالبا "سلطانِ مالوہ” کے نام سے ایک ناول اقبال لائبریری بھوپال میں نظر سے گزری ہے، یہ لوگ بھی عجیب مخلوق ہوتے ہیں، تاریخی ناول بھی لکھیں گے ساتھ ساتھ عشق کی ان کہی داستان لے کر چلیں گے۔ مذکورہ بالا ناول کے بارے میں بس اتنا ہی تأثر دوں گا کہ جس طرح اکبر کے سپہ سالار ادھم خان کو مانڈو پہونچنے کی جلدی تھی، ٹھیک اسی طرح ناول نگار کو بھی مالوہ کے آخری تاجدار باز بہادر کے افسانے تک پہونچنے کی جلدی رہی اور میں نے بھی اسی طرح کی عجلت میں کتاب کو جلدی جلدی پڑھ کر اقبال لائبریری کے ناظم کے حوالے کردی۔
"اور یوں اقبال کے مطابق "شہید وفا” کا مصنف "شاعر اور بالی ووڈ "صورت گر” اور ناول نگار "افسانہ نویس” ثابت ہوئے۔
رومانوی افسانوں میں دلچسپی رکھنے والے مجھ سے یہ توقع نہ رکھیں کہ میں ان کی عشقیہ داستان کے آغاز و انجام پر کچھ روشنی ڈالوں گا۔
میں نے شادی آباد مانڈو کو اس لئے یاد نہیں رکھا کہ مالوہ میں مسلمانوں کی روشن تاریخ کی کتاب کا آخری باب آنسووں پر مشتمل تھا۔
نہیں نہیں! خدا کی قسم بالکل نہیں!
کیا شادی آباد مانڈو کو صرف اس لئے یاد رکھا جائے کہ وہ”باز و روپ” کی عشقیہ داستان کا امین ہے؟؟
کیا واقعی باز بہادر کوئی زبردست شان وشوکت والا، بڑے کروفر والا، بڑے جاہ وجلال اور بڑے طمطراق والا کوئی بہادر حکمراں تھا؟ کیا واقعی اس نے مالوہ کی تاریخ میں سنہرے حروف لکھے جانے والے کارنامے انجام دیے تھے؟ جنہیں یوں یاد رکھا جائے کہ بسوں فلموں اور ہوٹلوں پر ان کے نام کی کیلی گرافیکل تزئین کی جائے؟
سلوني ايهاالاحباب سلوني! فأجيب ۔۔۔۔
باز بہادر میں ایک ہی کمال تھا اور وہ یہ تھا کہ وہ موسیقی میں تان سین کا ہم پلہ تھا اور بسس!
ابوالفضل نے عہدِ اکبری کے 36 فنکاروں کے نام گنوائے ہیں جن میں صرف دو شخصیتوں کے فن کا اعتراف کیا ہے ایک تان سین! اور دوسرا اپنا باز بہادر!
جی ہاں! وہ طنبورے اور سارنگی ہی بجانا جانتا تھا، اسے طاوس و رباب ہی سے دلچسپی تھی۔
اور جب بادشاہ ساز و طرب میں مست ہوجائے تو قومیں بھی چنگ و رباب کی دلدادہ ہوجایا کرتی ہیں۔ ”لان الناس على دین ملوکھم“ ابھی اس رونے دھونےکو چھوڑیے آگے رو لوں گا۔ سردست مضمون کا تاریخی تسلسل قائم رکھنا ہے۔
شمشیر و سناں کا دیوانہ تو کوئی اور ہی تھا، طبلے کی تھاپ اور موسیقی کے راگ کے بجائے تلواروں جھنکاروں سے جس کے کان آشنا تھے، مالوہ کی سرزمین کو اسلامی تہذیب و تمدن کے تابندہ نقوش دینے والا، یہاں کی سرزمین کو علماء و صلحاء وبرگانِ دین سے آباد کرنے والا، دنیا کے کونے کونے سے علوم وفنون کے ماہرین کو جمع کرکے خطۂ شادی آباد کو جنت بنانے والا
جس کے بارے میں مآثر رحیمی کا مصنف میر عبد الباقی نہاوندی یہ شہادت دیتا ہے کہ
جاری۔…..
Comments are closed.