کیا تم جہنم کے نمائندے ہو (اے رسم جہیز تجھ پے لعنت)
الطاف جمیل ندوی
اک معصوم نہیں بلکہ معصوم بیٹیاں بہنیں ایسی ہیں جو آئے روز اس شیطانی اور فرسودہ رسم کی بھینٹ چڑھتی رہتی ہیں اور اس شرح میں مسلسل اضافہ ہی ہورہا ہے کل اس وقت وحشت ہوئی جب ایک بیٹی اس رسم کے بوجھ کے نیچے اس قدر دب گی کہ اسے محسوس ہو کہ اس اذیت سے تو موت کی اذیت سہنا ہی آسان ہے اور مسکراتے ہوئے کہہ رہی تھی کہ مجھے اب انسانوں کی شکل نہ دکھائی دے اس ایک جملے نے ذی شعور انسانوں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے کل سے
وحشت سی ہو گئی ہے اب مجھے اس جہاں سے
کہ ایک بیٹی کو جہیز نے خوشی خوشی مار دیا
کمال کی بہن تھی کل میں بیٹھا پتہ نہیں کن خیالوں میں محو تھا کہ میرے پیارے بھائی حارث جی نے ایک ویڈیو دیکھنے کے لئے مجھے اس جگہ مینشن کردیا میں نے ایک لڑکی جو حجاب میں تھی کو دیکھا جو مسکرا مسکرا کر کہہ رہی تھی
کچھ باتیں آپ سب کی نظر اسی بہن کی زبانی
میرا نام عائشہ عارف خان اور میں جو کچھ بھی کرنے جارہی ہوں میری مرضی سے کرنا چاہتی ہوں۔اس میں کسی کا دباؤ نہیں ہے ۔اب بس کیا کہیں ؟یہ سمجھ لیجئیے کہ خدا کی دی ہوئی زندگی بس اتنی ہی تھی ۔اور مجھے اتنی زندگی بہت سکون والی ملی
ان الفاظ کو وہی انسان ہنسی خوشی سے کہہ سکتا ہے جو انتہائی زیادہ پریشان ہوگیا ہو اور جسے کوئی راہ ہی نظر نہ آتی ہو یہ وہی لڑکی کہہ رہی تھی جس سے آج ہم سب واقف ہوگئے ہیں اگلے چل کر کہتی ہے
پاپا کب تک لڑو گے ؟کیس واپس لے لیجئے نہیں کرنا لڑائی مجھےعائشہ لڑائی کیلئے نہیں بنی واللہ میرے آنسو نکل گئے جب ایک بے بس بیٹی اپنے والد سے کہہ رہی تھی پاپا آپ تھک گئے ہیں چھوڑئے اب یہ لڑنا جھگڑنا ایک ایسی بیٹی جو اپنے مشکلات کا بوجھ اپنے والد کے کاندھے پر رکھ رکھ کر ٹوٹ چکی ہے اب اپنے والد کو اس سے نکالنے کی تمام تدابیر اختیار کر کے ناکامی کے بعد خود کو ہی مزید درد سے آشنا کرنے جارہی ہو پھر کہتی ہے یہ تھوڑی سی رندھی ہوئی آواز میں
میں خوش ہوں کہ میں اب اللہ سے ملوں گیمیں کہوں گی کہ میرے سے غلطی کہاں رہ گئی اللہ سے دعا کرتی ہوں کہ اب انسانوں کی شکل نہ دکھائی دے یہ پیاری سی ندی دعا کرتی ہوں کہ یہ مجھے اپنے آپ میں سما لے
دیر رات گئے اس بہن کے بارے میں سوشل میڈیا پر دیکھا کہ واقعی اس نے اپنی زندگی کا خاتمہ کر دیا ہے اب یہ دور بہت دور انسانوں کی بستی سے چلی گئی ہے جہاں کوئی اس سے جہیز کا مطالبہ نہیں کرے گا جہاں اسے صرف اپنے رب کے سامنے اپنے اس فعل پر باز پرس ہوگئی جو اس نے وحشت زدہ ہوکر اور مشکلات و آلام کے سامنے ہار تسلیم کرکے انجام دیا جسے کسی صورت میں بھی صحیح نہیں کہا جاسکتا پر اس جیسے حوادث و واقعات پر نظر رکھی جاسکتی ہے نا ایسے ہی کئی عائشائیں ایسی ہیں جنہیں بچانے کی تدابیر کرنے کی اہمیت و افادیت سے انکار و فرار ممکن نہیں اس طرح معلوم نہیں کتنی بیٹیاں ناکامی و نامرادی کے دلدل میں دھنس رہی ہوں گئیں گر ہم واقعی اس دین سے وابستہ ہیں جو دنیا کا سب سے معتبر دین ہے انصاف عدل کے لحاظ سے جہاں ظلم و جبر کی نفی ہے جہاں فرسودہ نظریات و افکار کی کوئی جگہ نہیں جہاں غربت و افلاس جیسے بنیادی مسائل کا حل بھی موجود ہے جس کا ایک بہترین نظام ہے قانون ہے دستور ہے
تو آئے ملت اسلامیہ کے پیارے لوگو
کیوں ہماری بیٹیاں ایسے کام انجام دیں جس سے انکے والدین بہن بھائی رشتہ دار مسلسل عذاب میں سسکتے رہیں کیونکہ ہماری بہنوں بیٹیوں کے لئے سسرال اب مصائب و مشکلات کی آماجگاہیں بنتی جارہی ہیں کیوں بیویاں اپنے شوہروں سے اس قدر خوف زدہ ہیں کیوں والدین بیٹی کو دیکھتے ہی اب تڑپتے ہیں کہ جہیز دینے کے لئے ان کے پاس مال و جائداد میسر نہیں
اس بارے میں ہم سوچ کیوں نہیں سکتے اسکے بجائے ہم جنت جہنم جس کا فیصلہ کرنے بیٹھ جاتے ہیں ارے حد ہوتی ہے پاگل پن کی جو کام اللہ تعالی کے کرنے کے ہیں ہم کون ہوتے ہیں ان میں دخل اندازی کرنے والے بہتر ہے کہ ہم وہ کام انجام دیں جو ہماری ذمہ داری ہے اور جسے ہم باحسن انجام دے بھی سکتے ہیں کیونکہ کل دن سے میں مشاہدہ کر رہا ہوں کہ
ہندوستان کے بہت سے ایسے علماء ہیں جو اس وقت جہنم سے یہ معلومات لے کر اپنے اپنے علاقہ میں پہنچ گئے ہیں کہ عائشہ جہنم میں گئی ہے کس قدر کمال کے لوگ ہیں یہ نیم ملا بھی کہ بندہ ابھی دفن بھی نہیں ہوا کہ جہنم میں دیکھ کر آتے ہیں کہ یہ بندہ یہیں پر ہے کیا اور پھر جلد سے جلد اپنی برادری میں اعلان کر دیتے ہیں کہ فلاں جہنم میں ہے کیونکہ یہ جناب اس گمان میں ہوتے ہیں کہ جنت ان کی اپنی ملکیت ہے جہاں ان کی اجازت کے بغیر کوئی جا نہیں سکتا نہ ہی کسی میں یہ مجال ہے مطلب یہ جہنم کے نمائندے ہیں جو پل پل کی خبر رکھتے ہیں وہاں کی کون آیا کون گیا
پیارے ملا جی
مانا کہ آپ جو کہہ رہے ہیں یا ارشاد فرما رہے ہیں حق بجانب ہے پر یہ کیا تماشہ ہے کہ گر آپ کی برادری کا کوئی مر جائے تو اس کے لئے مغفرت کی دعائیں اور کوئی غریب مرجائے تو اس کے لئے فتوی جاری یہ تماشہ نہیں تو کیا ہے کاش آپ کے پاس اک ایسا دل ہوتا جس میں انسانیت کے لئے بھی تھوڑی سی جگہ ہوتی اور آپ انسانیت کے لئے بھی کوئی اچھا سا کام انجام دے سکتے حیرت ہے کہ ایک بہن اپنی بے بسی و لاچاری کے سبب ایسی حرکت کا ارتکاب کرتی ہے جو شریعت میں منع ہے پر بجائے اس کے کہ اس کے ہم مذہب یا اہل ایمان کہئے تڑپ جاتے اور ایسے واقعات کی روک تھام کے لئے کوشاں رہتے کی تدابیر اختیار کر لیتے اس کے بجائے فتوی لے کر پہنچ جانا دین کے نام کی دکانداری ہے مفتی یاسر ندیم عمر فراہی صاحب عمیر انس صاحب معید بھائی نے گرچہ بہت لکھا کمال کا لکھا ہے اس پر پر کیا عملی طور پر ہم ایسی فرسودہ رویات کے خلاف کمر بستہ ہوسکتے ہیں کہ کوئی اور عائشہ نیم ملا کے جہنم میں نہ چلی جائے یا امت مسلمہ کے غیور فرزند اب ہند میں باقی نہیں رہے جو اس سلسلے کو آگے بڑھنے سے روک سکتے اور مناسب تدابیر کے ذریعے ہزاروں عائشائیں بچ سکیں بات تھوڑی کڑوی ہے پر ہے سچ کہ اب گر ہم قیادت کا رونا روئیں گئے تو جہاں تک اس قیادت کا مشاہدہ پورے برصغیر میں ہورہا ہے تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ قیادت نہیں یہ بے بسی کا اک استعارہ ہے کہ ہم محروم ہوگئے ہیں ایک ایسی سعید قیادت سے جو امت مسلمہ عمومی طور پر اور ملت اسلامیہ ہند کے بارے میں کوئی بہتر انداز اختیار کرکے ان کے مسائل پر کام کرسکے
Comments are closed.