جہیز مشرکانہ لعنت اور خود کشی بزدلانہ حرکت ہے

 

 

از ۔۔۔ محمد وکیل مظاہری

 

جہیز ایک لعنت تھی لعنت ہے اور لعنت رہے گی۔ یہ معاشرے کا ناسور ہے پھر بھی ایسی حالت میں خودکشی یا حرام موت ہرگز جائز نہیں۔

 

ایسی بزدلانہ حرکت ایک مومنہ تو نہیں کر سکتی!

کیا حضرت سمیہ رضی اللہ عنہا اور حضرت مریم سے زیادہ مصائب و آلام اس کے اوپر ٹوٹ پڑے تھے؟

کیا اسلام ایسی صورت میں خود کشی کی اجازت دیتا ہے؟

نعوذ باللہ ۔۔۔۔ اس کو جہنم میں جلنے کا شوق تھا پورا کر دکھایا۔

ورنہ ماں باپ سب نے ہر طرح سے سمجھایا ماں عائشہ کے نام کی نسبت کا بھی واسطہ دیا، قرآن پاک کی قسم دی، باپ نے اپنے آپ کو اور پورے کنبے کو مارنے کی دھمکی بھی دی، مگر سب بےسود، کسی ایک کی نہ سنی۔

 

جہیز تو ایک لعنت ہے ہی

اس میں کوئی شک نہیں

اس کا مطلب ہرگز نہیں کہ ظلم کے آگے ہتھیار ڈالدیا جاۓ!

ظلم کا ڈٹ کے مقابلہ کرنے والی ہزاروں عائشائیں اب بھی زندگی کو خدا کی دی ہوئی امانت سمجھ کر اس سے کہیں زیادہ مظالم برداشت کر رہی ہیں اور وہ ایسی بزدلانہ حرکت سوچنے کو بھی گناہ تصور کرتی ہیں۔

 

اسلام میں طلاق اور خلع کا نظام اسی لئے تو ہے !!!

تاکہ اس طرح کے حالات درپیش نہ ہوں۔

اس میں صرف نئی نسل نہیں بلکہ ہم سب کی کمی ہے خصوصاً آج کل کے والدین کی!!!

یہی لڑکیاں جب خود ساس بنتی ہیں تو سب کچھ بھول جاتی ہیں

اور بہوؤں میں ساری برائیاں اور خامیاں نظر آنے لگتی ہیں۔

اگر وہی ساس جوکہ کبھی خود بہو تھی اپنے آپ کو مثل دیگر بیٹیوں کے بہو کی ماں بن کر دکھائے تو کوئی بعید نہیں کہ بہو بھی ساس کو ماں کا درجہ دینے لگ جائے۔

 

مگر ساس کے دل میں ٹی وی سیریلز نے یہ خوف پیدا کر رکھا ہے کہ آج کی ماڈرن نئی نسل کے ساتھ پیار و شفقت سے پیش آئیں گے تو یہ سر پر چڑھ جائے گی اس لئے جتنا ممکن ہو بہو کو دباؤ اور بیٹے کو اپنے اشاروں پر نچاؤ ورنہ بیٹا جورو کا غلام بن جائے گا۔

شاید والدین بھول جاتے ہیں کہ یہی بہو آگے چل کر خود میرے اسی خاندان کی ساس بننے والی ہے۔

اکثر نئے جوڑے پر شروع کے چند سال مظالم کے پہاڑ توڑے جاتے ہیں اگر لڑکی سسرال میں خوش ہے تو میکے والے داماد جی کو یرغمال بنانے کی فراق میں لگ جاتے ہیں۔

زیادہ تر دیکھنے میں آتا ہے بیٹی اور داماد کے لئے الگ ترازو، بیٹے اور بہو کیلئے الگ پیمائش۔

بہر حال خود کشی مسئلے کا حل نہیں ہے لڑکا اور لڑکی دونوں کو ایک ساتھ خوشی سے زندگی بسر کرنے کے لئے دونوں کے والدین کو چاہیے کہ ان کے حال پر چھوڑ دیں۔ اور میاں بیوی کے معاملے میں دخل اندازی سے حتی الامکان اجتناب کریں۔

اور میاں بیوی کو بھی چاہئے کہ ایک دوسرے کے خاندان کا احترام کریں۔

اس طرح ہر ایک اپنی اپنی ذمہ داری پوری کرنے کی فکر میں لگ جائیں جس کے جو حقوق ہیں توازن برقرار رکھتے ہوئے ادا کریں تو ڈپریشن کا شکار ہونے سے سبھی بچ سکتے ہیں۔

سب سے پہلے ٹی وی چینل گھریلو سیریل اور فلم وغیرہ کو زندگی سے نکالیں اور حقوق العباد و اکرام مسلم کیلئے اللّٰہ تعالیٰ سے مدد طلب کرتے رہیں۔

اس سے حرام موت اور خود کشی کے ساتھ جہیز جیسی لعنت و ملامت سے معاشرہ پاک ہو سکتا ہے۔

 

?️ محمد وکیل مظاہری

Comments are closed.