ز افسانۂ دیگراں بیا عبرت بگیر!(2)

 

سلمان ندیم قاسمی

(گذشتہ سے پیوستہ)

"چوں سلطنت باو قرار گرفت در تربیت علماء وفضلا کوشید، ومدارس ساختہ زر باطراف واکناف عالم فرستاد، ومستعداں را طلب داشت وبالجملہ بلاد مالوہ در زمانِ او یونانِ ثانی گشت”
پڑھ رہے ہیں آپ؟
یونانِ ثانی گشت!!
چلو یہ شہادت تو 1025 ھجری کی ہے اور پیچھے جائیے اسی علم وشجاعت کے پیکر کے دور کا چشم دید، صاحبِ علم مصنف علی بن محمود الکرمانی عرف "شہاب حکیم” اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہے اور لکھ رہا ہے۔

"بتاریخ خمس سنہ واربعین وثمان ماۃ (847) چوں حضرت خسرورا از تسخیر بلاد فراغ کلی بحصول پیوست وبمستقر جلال معاودت فرمود امر اعلی بترتیب بنائے مدرسہ کہ ببام بہشت تسمیہ پذیرفتہ وبتعمیر اساس منارہ کہ بعلم اسلام مشتہر شدہ نفاذ یافت،
خراسان اور ہندوستان کے کونے کونے سے مہندسوں اور انجینیروں کو بلا ایک عظیم الشان مدرسہ جس نے بنایا وہ سلطان۔

"بر یمین ویسار خانقاہ و مدرسہ پرداختہ اند کہ ہر روز علماء و فضلاء حاضر می شوند وطالبان علوم دینی را مکاشفات علمی حاصل می گردد ”

دیکھ رہے ہیں؟ مدرسہ و خانقاہ؟ علماء حاضر ہوتے ہیں، اور طلبہ علمی مکاشفات سے بہرہ ور ہوتے ہیں،

اللہ اللہ! کیا نظارہ ہوگا- اے چشمِ تصور! پھر وہی صبح وشام دکھا دے۔
اے گردشِ ایام! مجھے اس ماحول میں لے چل!
آگے چلیے!
"وعلماء را اسباب رفاہیت بے تفرقہ و طلب می رسد،”

سلطان کے مال کا پاک مصرف!

"بر طرف ایسر خانقاہے است کہ صادر و وارد از صدقات بہرہء کامل می یابند ”

کون بدنصیب ہوگا جو اسکے در سے خالی جاتا ہوگا؟

خانقاہ بھی، مدرسہ بھی، لنگر خانہ بھی۔

اور پھر قاسم فرشتہ جو جانا پہچانا سا اس کے الفاظ کیوں چھوڑ دوں؟ چوں کہ اردو ترجمہ سامنے ہے اس لئے بعینہ نقل کرتا ہوں
"سارے ملک میں جگہ جگہ مدرسے قائم کیے، علماء، فضلاء اور طلبہ کے وظیفے مقرر کیے، الغرض بادشاہ کی علم پرستی کی وجہ سے مالوہ کا ملک شیراز اور سمرقند کا ہم پلہ ہوگیا”
کون تھا یہ سلطان؟

تاریخ اسے سلطان محمود خلجی کے نام سے یاد کرتی ہے۔
چودھویں صدی کے اوائل کا وہ ہیرو جسے دنیا فراموش کرچکی ہے۔ 33 سال کی عمر میں تخت سلطنت پر بیٹھا یہ سلطان 33 سال تک داد حکمرانی دیتا رہا، علم پروری کرتا رہا، بزرگوں کا نیاز مند رہا اور علم وشجاعت کے افق پر اپنے کارنامے ثبت کرگیا، ایسی مضبوط اور مثالی سلطنت قائم کی کہ اس وقت کے دہلی کے بادشاہ سلطان محمد شاہ سید کے خلاف جب اسی کے امیروں نے محمد شاہ کے خلاف شکایتی عرضیاں روانہ کیں اور دہلی پر حملے کی دعوت دی مورخ فرشتہ نے بہترین تفصیل لکھی ہے، محمود خلجی لشکرِجرار کے ساتھ 15 دن کی مسافت طے کر کے دہلی پہونچا باوجود کثرتِ فوج کے مبارک شاہ کی ہمت نہیں ہوئی کہ سلطان کا مقابلہ کرسکے بالآخر بدنامی کے ڈر سے لڑائی کے لئے آمادہ ہوا، لڑائی ہوئی مگر نتیجہ نہیں نکلا- بالآخر سلطان دہلی نے جنگ بندی اور صلح کا پیغام بھیجا جسے سلطان محمود نے بڑی خندہ پیشانی کے ساتھ قبول کیا اور واپس لوٹ آیا، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ احمد شاہ گجراتی نے سلطنت گجرات سے اور سلطان محمود شرقی نے جونپور سے تحائف اور خیرسگالی کے پیغام بھیجے، یوں آس پاس کی سلطنتوں پر مالوہ کی بالادستی بھی قائم ہوگئی،
یہ تھا وہ سلطان-

آگے چلیے
دکن سے تین جنگیں کرنے بعد چوتھی جنگ میں سلطان نے اپنی سرحدیں جنوب میں الچ پور تک اور مشرق میں محمود آباد کھیرلا کے پاس گونڈواڑہ اور باقولی تک پہونچادیں، کیا میواڑ کیا چتوڑ کیا گاگرون کیا اجمیر اور کیا منڈل گڈھ سب سلطان نے اپنے زیر نگیں کرلیے،
یہ تھاوہ سلطان۔

چتوڑ کے سب سے بڑے قلعے کا وہ عظیم الشان "معبد”جسے "خیالی پدماوتی” کے نام لیواوں نے سالہا سال کی محنتوں سے تیار کیا تھا اور جس کا محاصرہ سلاطین گجرات کوششہائے دراز کے بعد بھی نہ کرسکے تھے ایک ہفتے کی محنت کے بعد سلطان نے اسے زمین بوس کردیا اور بتوں کو توڑ توڑ کر اس کے سارے ٹکڑے "تحقیرا لہم” قصابوں میں سنگِ ترازو بنانے کے لئے تقسیم کروادیے
اور ایسا ہی بہت کچھ بلکہ اس سے زیادہ منڈل گڈھ میں کیا- وہاں ایک نہیں کئی بتوں کے غرور خاک میں ملا دیے اور ان کی جگہ اذانوں کی صدائیں بلند کروائیں-
نعرۂ تکبیر! اللہ اکبر! یہ تھا وہ بت شکن سلطان!
کفار کے دل جس سے دہل جائیں وہ سلطان!

اللہ کے نام پہ تلوار اٹھانے والا، بات جو بگڑی ہوئی تھی اس کو بنانے والا، کفرستانِ چتوڑ میں اذانیں بلند کرنے والا، جس کی آنکھوں کو کفر کی شان جچتی ہی نہ تھی، جو تلواروں کی چھاؤں میں کلمہ پڑھتا تھا، جو اللہ کے نام کی عظمت پہ مرتا تھا۔

بزبان اقبال:

ٹل نہ سکتے تھے اگر جنگ میں اَڑ جاتے تھے
پاؤں شیروں کے بھی میداں سے اکھڑ جاتے تھے
تجھ سے سرکش ہوا کوئی تو بگڑ جاتے تھے
تیغ کیا چیز ہے ہم توپ سے لڑجاتے تھے
نقش توحید کا ہر دل پہ بٹھایا ہم نے
زیر خنجر بھی یہ پیغام سنایا ہم نے
تو ہی کہہ دے کہ اکھاڑا در خبیر کس نے
شہر قیصر کا جو تھا اس کو کیا سر کس نے
توڑے مخلوق خداوندوں کے پیکر کس نے
کاٹ کر رکھ دیے کفار کے لشکر کس نے
کس کی شمشیر جہانگیر جہاں دار ہوئی
کس کی تکبیر سے دنیا تری بیدار ہوئی
کس کی ہیبت سے صنم سہمے ہوئے رہتے تھے
منہ کے بل گر کے ہو اللہ احد کہتے تھے

ایک بار پھر نعرۂ تکبیر! اللہ اکبر

پڑھتے جائیے!

ان جنگی کارناموں سے سلطان کی شہرت ہندوستان سے باہر اسلامی ممالک تک پہونچی حتی کہ 870ھجری میں عباسی خلیفۃ المسلمین مستنجد باللہ یوسف ابن محمد نے محمود خلجی کو ہدیے تحائف بھیجے اور اسے اپنے امراء میں داخل کیا اور اسے یمین الخلافۃ الناصر لامیر المومنین کے خطاب سے سرفراز کیا-
یہ تھا وہ سلطان!

یہ تھی اس کی رزمیہ زندگی کی ہلکی سی جھلک۔ چوں کہ بندے کے پیش نظر تو فقط وہاں کے آثار پر اپنے جذبات و تاثرات کا سلام پیش کرنا ہے۔ مگر آثار پر لکھے گئے مضمون کے لئے بھی کچھ تاریخی تفصیلات ذکر کرنا ضروری ہوتی ہیں۔ نیز چونکہ تاریخ کی زبان بالکل سادہ ہوتی ہے مگر آپ دیکھ ہی رہے ہیں کوشش کررہا ہوں کہ زبان کا معیار اور اردو کی مٹھاس باقی رکھوں
چلیے! سلطان کے کچھ اوصاف بھی ملاحظہ فرمائیں

بادشاہ اس کو نہیں کہتے کہ زندگی بھر جنگ وجدال ہی گزاردے سلطان کی زندگی کا اکثر حصہ اگرچہ جنگی خیموں ہی میں گزرا مگر وہ اپنے اندرون ملک کے معاملات سے کبھی غافل نہیں رہا، امن عامہ، رعایا پروری، وسیع المشربی، عدل گستری، رفاہی خدمات، تجارتی اور معاشی ترقیات کے لئے کوششیں ایک کامیاب سلطان کے بنیادی اوصاف ہیں اور یہ اوصاف سلطان محمود خلجی میں بدرجہ اتم موجود تھے۔
امن عامہ کا حال تو یہ تھا کہ رہزنی اور ڈاکہ زانی کا واقعہ کہیں نہیں ملتا حتی کہ سلطان نے فرمان جاری کیا تھا کہ اگر کسی جنگلی درندے سے بھی کسی کو گزند پہونچی تو اس کی سزا اس کے علاقے کے حاکم کو دی جائے گی۔
پورے ملک میں اسلامی عدالتی نظام قائم رکھا تھا کبھی کسی بے گناہ کو سزا نہیں دی گئی،
رفاہی خدمات میں ”شادی آباد“ میں بہت بڑا شفاخانہ قائم کیا تھا جس کا پورا خرچ حکومت اٹھاتی تھی اور مریضوں کا مفت علاج ہوتا تھا، شفاخانے کی شہرت سن کر ملک وبیرون ہند کے بڑے بڑے حکماء واطباء مانڈو میں جمع ہوگئے تھے،
زراعتی ترقیات کے لئے کنویں باولیاں تالاب اور باندھ بنائے تھے- صرف شہر ”شادی آباد“ (مانڈو) میں سرجان میلکم کو زمینداروں کے پاس سے ملے کاغذات کے مطابق 560 کھیت 310 کنوئیں اور 1000 کے قریب چھوٹے بڑے تالاب موجود تھے جس سے شہر ”شادی آباد“ کی وسعت کا بھی اندازہ ہوتا ہے، تجارتی حوالے سے درآمدی و برآمدی کا بڑا مضبوط سلسلہ قائم کر رکھا تھا، اور علم پروری کا حال تو ابتدا میں آہی چکا ہے۔

Comments are closed.