عائشہ بہن کی خودکشی پر ایک معتدل پیغام
افضل حسین القاسمی
عائشہ مرحومہ بہن کے عظیم سانحہ پر بڑی تحریریں لکھی جارہی ہیں، اور ہر ایک اپنے ذہنی افکار ونظریات کے اعتبار سے خاکہ پیش کرتا ہے، بہت سوں کی تحریروں کو دیکھ کر بندہ نے مختصراً کچھ شرعی ہدایات سپردِ قرطاس کرنا مناسب سمجھا۔
اگر واقعی شوہر ظالم اور جہیز کا لالچی ہے، اور بربنائے جہیز نہ کہ نشوز پن اسے زود وکوب کرتا ہے، اور ذہنی توازن پر دباؤ ڈالتا ہے، حتی کہ غیر شرعی امور پر بھی مجبور کردیتا ہے، تو ایسے شوہروں کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔
لیکن اس سے صرفِ نظر نہیں کیا جاسکتا کہ ایسی بیویاں جو حالات سے دوچار ہوکر خود کشی کرتی ہیں، انکا عمل بھی حد درجہ مذموم ہے، وہ اللہ کی امانت میں خیانت کرنے والی ہیں، آخر! شوہر کے ظلم سے تنگ آکر اللہ کی طرف سے عطا کردہ امانتِ جسم میں خیانت کیوں؟ یہی وجہ ہے کہ خود کشی کرنے والے کو قابلِ ترس نہیں سمجھا گیا، اللہ کے نبی علیہ السلام حوصلہ شکنی اور اس پر قدغن لگانے کے لئے ایسوں کی نمازِ جنازہ پڑھانے سے گریز کیا کرتے تھے، ایسے مظلوموں کے سامنے اللہ نے دوسری راہ ہموار کی تھی، دنیا و مافیہا سے زیادہ اللہ اور اس کے رسول سے محبت کا حکم دیا گیا تھا، اسے خود اللہ کی محبت دل میں بساکر احکامِ الٰہی کی بجاآوری کرنا چاہیے تھا، والدین کی دل سوز باتوں پر عمل پیرا ہونا چاہیے تھا، مرحومہ مظلومہ سے کہیں زیادہ مظلومہ عورتیں حالات سے لڑ رہی ہیں، اور اللہ کی امانت کو سنبھالی ہوئی ہیں، اس لئے عائشہ بہن جنہوں نے خود کشی کی ہم اس کے شوہر کے عملِ بد کیساتھ ساتھ عائشہ کے اس غیر شرعی عمل پر بھی خوب مذمت کرتے ہیں اور اِسی معتدل طریقہ کار کو اپنانے میں اپنی بہو بیٹیوں کو ایسی پست ہمتی سے حفاظت سمجھتے ہیں۔ البتہ! یہ ملحوظ رہے کہ خود کشی گرچہ حد درجہ شریعت میں مذموم ہے جس پر سخت وعیدیں نازل ہوئی ہیں، لیکن اسکی وجہ سے کوئی کافر نہیں ہوجاتا۔ پس! اللہ تعالیٰ سے دعا گو ہیں، کہ اللہ تعالیٰ عائشہ بہن کی مغفرت فرمائے، ہماری بہنوں کی حفاظت فرمائے، اور شادی بیاہ کے رسم ورواج سے ہمارے معاشرہ کو پاک فرمائے۔ آمین۔
Comments are closed.