عائشہ کی خودکشی ذمہ دار کون معاشرہ علماء یا ملی قیادت ؟ 

 

تحریر : مسعود جاوید

 

چند روز قبل عائشہ نے خود کشی کی اور اس کی وجہ جہیز بتائی جا رہی ہے۔ عائشہ کے ساتھ ہمدردی سب کو ہے اور اس کا اظہار ہر شخص اپنے اینگل سے کر رہا ہے۔ ان میں اکثریت ان لوگوں کی ہے جو عائشہ کی خود کشی سے چند لمحے قبل کے ویڈیو کو دیکھ کر متاثر ہوئے اور انفعالی کیفیت سے دوچار ہونے کے باعث جذباتی تبصرے کر رہے ہیں۔

کسی مسئلے کا حل ایسے وقت میں نہیں ڈھونڈا جا سکتا۔ حل کے لئے ٹھنڈے دماغ سے غور و فکر کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ کیس کا objective analysis معروضی تجزیہ کر کے اس کے مختلف پہلوؤں اور ممکنہ اسباب و عوامل کا جائزہ لینا ہوتا ہے۔

 

#جہیز کا مسئلہ اکیلا نہیں ہے اسی سے مرتبط #مہر اور #میراث بھی ہیں۔

لڑکیوں سے متعلق یہ تینوں ایسے سنگین سماجی مسئلے ہیں جن کی جڑیں بہت گہری ہیں اور جہیز خود کشی، ظالمانہ طلاق اور گھریلو تشدد کے لئے صرف علماء یا ملی قائدین کو مورد الزام ٹھہرایا نہیں جا سکتا ہے۔

جہیز لینا دینا منکرات میں سے ہے اس سے ہر شخص واقف ہے۔ علماء نے عوام کو نہیں بتایا یہ عمومیت کے ساتھ نہیں کہا جاسکتا۔ علماء نے خوب بتایا ہے مگر ان کی باتوں پر عمل نہیں کیا جاتا اس لئے کہ علماء خود اس پر عمل نہیں کرنے کے لئے مجبور ہوتے ہیں۔ یہ ان کی ایسی سماجی مجبوری ہوتی ہے جس سے وہ بغاوت بھی نہیں کر سکتے اس لئے کہ عالم ہو یا غیر عالم ، مصلح ہو یا مرشد دانشور ہو یا عام آدمی ہر فرد اسی سماج کا حصہ ہے اور اسی سماج میں رائج رسم و رواج کا پابند ہے۔ کوئی صوفی، مولانا ،حضرت ، امام اپنی بچی کو سادگی سے نکاح پڑھا کر گھر سے رخصت نہیں کرسکتا جب تک کہ لڑکے والے ایسا کرنے کے لئے خود پیش کش نہ کریں۔ اگر کوئی ایسی سادی سی شادی کا عزم مصمم کر بھی لے تو اس کی تکمیل اس کے اختیار سے باہر ہے اس لئے کہ نکاح کے لئے ایک عدد لڑکے کی ضرورت ہوتی ہے وہ بھی لڑکے والوں کی شرائط پر ! ایسے میں سادی شادی کرانے کی نیت کرنے والا بیٹی کا باپ کب تک انتظار کرے گا بیس برس کے بعد بیٹیاں ماں باپ کے دل و دماغ پر بوجھ بننے لگتی ہیں کچھ انجانے خوف بے چین کرنے لگتے ہیں ؛ وقت پر مناسب لڑکے کا نہ ملنے کا خوف، عمر نکل جانے کا خوف ، عزت و آبرو کا خوف ۔۔۔۔۔

 

منافقت بھری دنیا

#جہیز کے بارے میں علماء کے سر پر ٹھیکرا پھوڑا جاتا ہے عالم کسے کہتے ہیں جسے علم ہو۔ جہیز لینا دینا دینی لحاظ سے منکرات میں سے ہے اور دنیاوی اعتبار سے غیر قانونی ہے اتنا علم ہر شخص کو ہے۔ پھر بھی جہیز لیا دیا جاتا ہے۔ اس وقت شریعت اور قانون یاد نہیں رہتا اس لئے i20 کار ، کم از کم پانچ تولے سونے کے زیورات، اے سی، فل آٹومیٹک واشنگ مشین، ڈبل ڈور فریج فل سیٹ فرنیچر کا صراحتاً یا اشارتاً مطالبہ کرتے ہیں مگر #مہر طے کرتے وقت لڑکے والوں کو صرف وہ حدیث یاد رہتی ہے کہ بہترین شادی وہ ہے جس میں مہر کی رقم کم اور آسان ہو۔ جب سے نکاح کے وقت مہر کی رقم کی ادائیگی پر نکاح خواں حضرات زور دینے لگے اور معجل نقد یا مؤجل ادھار کی وضاحت نکاح کے وقت پوچھنے لگے لڑکا والے بہت محتاط ہو کر کوشش کرتے ہیں کہ مہر کی رقم کم سے کم ہو ہاں جہیز زیادہ ملے۔ اس کے لئے کبھی وہ اپنے خاندان یا محلہ کے لڑکوں کی برابری کرنا چاہتے ہیں اس سے کم میں ناک کٹنے لگتی ہے کبھی لڑکی والوں کے اسٹیٹس پر آنچ آنے لگتی ہے۔ بعض لڑکے والے تو اتنے شاطر ہوتے ہیں کہ وہ لڑکی کی بڑی بہنیں اور پھوپھیوں کی مہر پتہ کر کے رکھتے ہیں اور #مہر #مثل کا حوالہ دے کر مہر کم لکھاتے ہیں مگر اسی طرح #جہیز #مثل کی بات کی جاتی ہے تو کہتے ہیں وہ بائیک اور کولر کا زمانہ تھا آپ نے وہی دیا اب اے سی اور فور وہیل گاڑی کا دور ہے اس لئے یہ دیں۔

لڑکوں کی قیمتیں بھی عموماً متعین ہوتی ہیں اور یہ نرخ بازار میں ڈیمانڈ اور سپلائی کا اصول طے کرتا ہے۔ برادری، علاقہ، تعلیم، ماہانہ آمدنی کے مطابق کیش رقم طے ہوتی ہے۔ اپنے ہی خاندان کی ایک خاتون کی زبان سے "حکمت و دانائی” سے بھر پور یہ بات سن کر اپنی کم علمی اور غیر دور اندیش ہونے کا احساس ہوا۔ میں نے پوچھا خالہ کیسے لڑکے کی تلاش ہے تو انہوں نے کہا میں اپنی لخت جگر کے لئے ایسا لڑکا ڈھونڈ رہی ہوں جو مرنے کے بعد بھی کھلا سکے ! میں نے کہا میں سمجھا نہیں تو انہوں نے وضاحت کی کہ "سروس والا لڑکا جس کی موت کے بعد بھی پنشن سے گھر چلتا رہے” !

نکاح اور شادی یہ آج نہیں صدیوں سے ایک پیچیدہ کام رہا ہے۔ یہ اتنا آسان نہیں جتنا ہمارے فیس بک پر سرگرم واعظین سمجھتے ہیں۔ یہ دو مختلف جنس کے دو فرد کی ہی نہیں دو کنبے کے درمیان تعلقات استوار کرنے کا عمل ہوتا ہے۔ اس لئے لیو ان ریلیشن شپ کے بر عکس مختلف جہتوں سے یگانگت کی ممکنہ صورت کو مد نظر رکھ کر رشتے طے کۓ جاتے ہیں۔

 

اسی ضمن میں ایک مسئلہ #میراث ترکہ میں لڑکیوں کے حقوق کا ہے۔ حالانکہ اس کا بالتفصیل ذکر اللہ نے قرآن کریم میں کر دیا ہے بالفاظ دیگر اللہ نے خود تقسیم کر دیا ہے پھر بھی اس کی ادائیگی میں کوتاہی اور بعض اوقات مجرمانہ تصرفات کۓ جاتے ہیں اور اس میں علماء صلحاء مدرسہ والے مولوی اور چلہ والے مولانا سب ملوث ہیں (بعض استثناءات کے ساتھ)

اللہ نے باپ کی جائداد میں بیٹوں کی طرح بیٹیوں کا حق بھی مقرر کیا ہے۔ جہیز سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ بیٹے کا حصہ جتنا بنتا ہے اس کا نصف بیٹی کا ہے۔

اللہ کے اس صریح حکم کی خلاف ورزی کرنے کے لئے طرح طرح کے عذر پیش کۓ جاتے ہیں :-

١- خطیر رقم اور جائیداد کی مالک بننے سے لڑکی خودسر ہو جائے گی سسرال میں نہیں بسے گی

٢- بھائی بہن کے رشتے میں دراڑ پڑ جاتے ہیں اور میکہ چھوٹ جاتا ہے

٣- جہیز کے مال و اسباب میں جو رقم لگی وہ دختری حق کی بدیل تھی۔ وغیرہ وغیرہ

مذکورہ بالا کوئ بھی تاویل قابل قبول نہیں ہے۔۔۔ :-

١- اچھے گھرانے میں اپنی بیٹی یا بہن کی شادی کرانے کے آپ مکلف ہیں اس کی تقدیر لکھنے کے نہیں۔ خدا نخواستہ اس کے شوہر کی ناگہانی موت ہو جاتی ہے یا کوئی ایسی بیماری لاحق ہو جاتی ہے جس کا وہ متحمل نہیں ایسے وقت میں وہ بہن یا بیٹی اپنے حق جائیداد فروخت کر کے اپنا کام چلا سکتی ہے۔ ایسے وقت میں اس کے بھائی کام نہیں آئیں گے۔ چند ہزار دینے کے لئے بہانہ کر دیں گے۔

٢- میکہ چھوٹنے کا تصور ہی اب معدوم ہے بمشکل انہیں اپنے گھر اور بچوں کے اسکول کی سرگرمیوں سے فرصت ملتی ہے کہ وہ میکے میں مہینوں چھٹیاں منائیں۔ ماں کے انتقال کے بعد ویسے بھی میکے چھوٹ جاتے ہیں۔

٣- جہیز دینا گرچہ منکرات میں سے ہے مگر پھر بھی وہ باپ اور بھائی کی طرف سے ہدیہ کے قبیل سے ہے شرعاً وہ دختری حق کا متبادل تسلیم نہیں کیا گیا ہے۔

تاہم اس ضمن میں یہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ بعض بے ضمیر شوہر اور اس کے بے شرم گھر والوں کی حریص نظر لڑکی کے زیورات پر ہوتی ہے اگر اس کے علم میں اس کا دختری جائیداد ہو تو مزید ٹارچر کے امکانات ہیں۔ لڑکے نے نکاح کے وقت نان نفقہ سکن کا اقرار کیا ہے لڑکی کی ذاتی جائیداد پر اس کی نظر اس اقرار کے منافی ہے الا یہ کہ لڑکی خراب مالی حالات کے مد نظر خود پیش کش کرے اور شوہر بطور قرض قبول کرے۔

کفوء کا مطلب صرف ذات برادری مالی حیثیت اور تعلیم نہیں شریف خاندان بھی مد نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم رحمت للعالمین نے فرمایا : كلكم راع وكلكم مسؤول عن رعيته.. تم میں سے ہر شخص مالک ہے اور تم میں سے ہر شخص سے اس کے ماتحتوں کے بارے میں پوچھا جائے گا اس لیے یہ کہ کر دامن نہیں بچا سکتے کہ علماء یا ملی قائدین نے ان موضوعات کے بارے میں کچھ نہیں کیا۔ معاشرہ فرد سے تشکیل پاتا ہے جہیز اور بیٹیوں کے حقوق ادا نہیں کرنا سماجی برائی ہے اور اس برائی سے ہر فرد واقف ہے اسی لئے ہر فرد جس نے مجرمانہ غفلت اور تصرف کیا وہ عند اللہ ماخوذ ہوگا۔

اللہ ہم سب کو صحیح سمجھ عطا فرمائے اور دین پر چلنے کی راہ آسان کرے آمین یارب العالمین۔

 

 

 

۔

Comments are closed.