بزدلی اور بددیانتی کی حوصلہ افزائی مت کیجئے۔
سلمان غنی
خود کشی بزدل کرتے ہیں۔ خود کشی وہ کرتے ہیں جن کا آخرت پر ایمان کمزور ہوتا ہے۔ خود کشی کے وقت انسان پر شیطان سوار ہوتا ہے۔ وہ یہ سوچنے ہی نہیں دیتا کہ ایسی موت کے بعد مسائل ختم نہیں ہوتے بلکہ اور زیادہ مشکل ہو جاتے ہیں ۔
ایسا انسان، اس دنیا کو دائمی آرام کی جگہ سمجھتا ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ میں یہاں سکون و اطمینان کے لئے آیا تھا۔ شیطان اس انسان کو موت کے بعد کے مصائب اور دنیوی تکلیفوں اور پریشانیوں کا پر فریب موازنہ کرواتا ہے۔
خود کشی کرنے والا شخص انتہائی درجے کا خود غرض ہوتا ہے۔ اسے صرف اپنی تکلیفیں نظر آتی ہیں۔ وہ بھول جاتا ہے کہ اس کے جسم میں جان یونہی نہیں آ گئی ہے ۔ اس جان کو لانے میں اور اس جسم کو تندرست اور توانا کرنے میں کئی لوگوں کا ہاتھ ہے۔ وہ جسم اور جان کا اکیلا مالک نہیں ہے۔ ایک خدا کا منکر بھی اس حقیقت سے انکار نہیں کر سکتا کہ اپنی ماں کے پیٹ میں جب وہ بے جان گوشت کا لوتھڑا تھا تو اس میں جان کہاں سے آئی تھی؟ یہ جان اس نے نہیں ڈالی تھی۔ نو مہینےکس نے اسے کھلایا اور پلایا؟ کس نے اپنے خون سے اس گوشت کے لوتھڑے کو انسانی شکل دینے میں اپنی رات کی نیند اور دن کا سکون قربان کر دیا؟
وہ بھول جاتا ہے کہ بچپن سے جوانی تک اس کے جسم اور جان کو زندہ اور مضبوط رکھنے میں کئی انسانوں نے اپنی قربانیاں دی ہیں۔
خود کشی کرنے والا شخص انتہا درجے کا بد دیانت اور بے ایمان ہوتا ہے۔
اس شخص کے بارے میں آپ کیا کہیں گے جس نے کچھ لوگوں کی مدد سے اپنا مکان تعمیر کروایا؟ لوگوں نے بلا معاوضہ اس کے مکان کی تعمیر میں اس کی مدد کی۔ ایک ایک اینٹ جوڑ جوڑ کر کمرے بنائے۔ چھت کی تعمیر کی۔ اس کی ترتیب و تزئین میں اپنی خدمات دیں۔ جب وہ گھر اس شخص کے رہنے کے قابل ہو گیا تو وہ لوگوں کے احسان چکانے اور انھیں بھی اس گھر سے فائدہ اٹھانے کے بجائے ایک آن میں اس پر بلڈوزر چلا کر زمیں دوز کر دیتا ہے۔
کیا یہ انتہائی درجے کی بددیانتی نہیں ہے؟
اس بددیانتی، بے ایمانی اور بزدلی کی حوصلہ افزائی مت کیجئے۔ اس کی حوصلہ شکنی کیجئے۔
Comments are closed.