بڑی قاتل ہے یہ ”رسمِ جہیز“

 

 

 

ڈاکٹر مفتی محمد عرفان عالم قاسمی

رابطہ: 9826268925

 

 

بہن عائشہ عارف خان کی افسوسناک خودکشی نے مجھے ہی نہیں بلکہ پورے ہندوستانی مسلمانوں کو گہرے صدمے سے دوچار کر دیا ہے۔ خودکشی کی اس واقعے پر سماج کے ہر طبقہ سے رنج و غم کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ واقعی یہ بہت ہی دل دہلا دینے والا اور اندوہناک واقعہ ہے اور اس واقعہ نے پوری ملت کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے ‌ یہ کوئی نیا واقعہ نہیں بلکہ اس قسم کے کے ہزاروں درد ناک واقعات ہوتے ہیں جو آئے دن اخباروں اور رسائل میں پڑھنے کو ملتے رہتے ہیں اور کتنے ہی ایسے واقعات بھی ہوتے ہیں جس کا علم کسی کو نہیں ہو پاتا،جہیز جیسے گھناؤنی رسم کی وجہ سے ہر چوتھے گھنٹے کوئی نہ کوئی معصوم بچی کو اپنی عزیز جان گنوانا پڑتی ہے پچھلے دنوں کا واقعہ ہے کہ شہر بھوپال کے ہنومان گنج علاقے میں ایک غریب اور تنگدست باپ غربت و افلاس سے خوفزدہ ہو کر (کہ اپنی بیٹیوں کی جہیز کا سامان کہاں سے فراہم کروں گا) اپنی بیوی اور چار بیٹیوں کا چاقو سے گلا کاٹ دیا پھر اس کے بعد خود بھی خودکشی کرنے کی کوشش کی۔

ایک دفعہ کا واقعہ ہے خانقاہ رحمانی مونگیر میں حضرت مولانا سید محمد منت اللہ صاحب رحمانی رحمۃ اللہ علیہ کے پاس ایک شخص اپنی اہلیہ کے علاج کے لیے آیا ان کی اہلیہ کو رک رک کر جنون کا دورہ پڑتا تھا، حضرت نے اس آدمی سے پوچھا اچھا بتاؤ کہ اس عورت کی یہ حالت کب سے ہے؟ اس پر اس نے جو درد ناک واقعہ سنایا واقعی وہ واقعہ دل دہلا دینے والا تھا اس شخص نےکہا کہ حضرت میں کیا کہوں اپنی حالت پہلے سے ہی میرے پاس تین لڑکیاں تھیں جب چوتھی بار میری بیوی حاملہ ہوئی تو ہمیں یہ امید بندھی کے اس بار لڑکا پیدا ہوگا مگر اس بار بھی لڑکی ہوئی میں نے سوچا تین لڑکیاں پہلے سے موجود ہیں اس پر یہ چوتھی لڑکی! اس کے جہیز کا انتظام کہاں سے کروں گا اس خوف کی وجہ سے ہم دونوں میاں بیوی نے مل کر اس بچی کا گلا گھونٹ کر مارڈالا، اس کے بعد پھر دوسری بار میری بیوی حاملہ ہوئی پھر بیٹی کی ولادت ہوئی تو ہم دونوں میاں بیوی نے باہمی مشورے سے اس کو بھی گلا گھونٹ کر موت کے گھاٹ اتار دیا، تیسری بار جب میری بیوی حاملہ ہوئی اور اس دفعہ بھی لڑکی کی ہی ولادت ہوئی لیکن یہ بچی ان سب میں خوبصورت تھی لیکن اسے بھی (جہیز کہاں سے مہیا کروں گا) اس خوف سے ہم دونوں نے باھمی مشورہ سے گلا گھونٹ کر کر مار ڈالاحضرت !اس کے بعد سے ہی اس کی یہ حالت ہے جو آپ آج دیکھ رہے ہیں.

افسوس صد افسوس آج ہم نے غیر قوموں کے کلچر سے متأثر ہوکر جہیز جیسی بری رسم کو اختیار کرنے لگے ہیں۔ مسلمانوں کے معاشرے میں ہمسایہ قوموں کی صحبت سے جہیز کے لین دین کی یہ خطرناک بیماری پیدا ہوگئی ہے’ ورنہ اسلام میں اس رسم جہیز کا کوئی ثبوت نہیں ملتا بطور دلیل کہ یہ کہنا کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی لاڈلی بیٹی حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنھا کو گھریلو زندگی کے انتظام کے لیے سامان عنایت فرمایا تھاتو اس سلسلے میں یہ سمجھنا ضروری ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت علی کرم اللہ وجہ کے بچپن سے ہی سرپرست وکیل تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ انتظام حضرت علی کرم اللہ وجہ کی رقم سے ہی کیا تھا لہذا اس انتظام کا اس رسمی جہیز سے کوئی تعلق نہیں تھا۔

رسم جہیز سراسر ہندو سماج کی دین ہے نہیں تو آج بھی مسلم ممالک کا پاکیزہ معاشرہ خاص طور پر عرب ممالک میں جہیز نہ لیا جاتا ہے ہے نہ دیا جاتا ہے۔

معروف عالم دین حضرت مولانا محمد تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم نے اپنے ایک مضمون میں واقعہ لکھا ہے کہ ایک دفعہ ” ہمارے یہاں معروف بین الاقوامی شخصیت شیخ عبد الفتاح رحمۃ اللہ علیہ تشریف لائے اس موقع پر ہمارے مقامی دوستوں میں سے ایک نے ان سے دعا کی درخواست کرتے ہوئے کہا حضرت میری دو بیٹیاں ہیں جو اب شادی کے لائق ہو گئی ہیں آپ دعا فرما دیجئے کہ اللہ تعالی انکی شادی کے اسباب مہیا فرما دے شیخ نے ان سے پوچھا کہ کیا ان کے لئے کوئی مناسب رشتہ نہیں مل رہا؟ اس پر انہوں نے کہا رشتہ تو دونوں کا طے ہو چکا ہے لیکن میرے پاس اتنی مالی وسائل نہیں کہ ان کی شادی کرسکوں۔ شیخ نے یہ سن کر نہایت حیرت سے پوچھا وہ آپ کی لڑکیاں ہیں یا لڑکے ہیں؟ کہنے لگے لڑکیاں ہیں۔ شیخ نے سراپا تعجب ہو کر پوچھا لڑکیوں کی شادی کے لیے مالی وسائل کی کیا ضرورت ہے؟انہوں نے کہاکہ میرے پاس انہیں جہیز میں دینے کے لیے کچھ نہیں شیخ نے پوچھا *جہیز کیا ہوتا ہے؟* اس پر حاضرین مجلس نے انہیں بتایا کہ ہمارے ملک میں یہ رواج ہے کہ شادی کے وقت اپنی بیٹی کو زیورات، کپڑے گھر کا اثاثہ اور بہت سارا ساز و سامان دیتا ہے اسے جہیز کہتے ہیں اور جہیز دینا باپ کی ذمہ داری سمجھی جاتی ہے جس کے بغیر لڑکی کی شادی کا تصور نہیں کیا جاسکتا اور لڑکی کے سسرال والے بھی اس کا مطالبہ کرتے ہیں۔شیخ نے جب یہ بات سنی تو سر پکڑ کر بیٹھ گئے اور کہنے لگے کیا بیٹی کی شادی کرنا کوئی جرم ہے جس کی سزا باپ کو دی جائے؟ پھر انہوں نے بتایا کہ ہمارے ملک میں اس قسم کی کوئی رسم نہیں ہے اکثر جگہوں پر تو یہ لڑکے کی ذمہ داری سمجھی جاتی ہے کہ اپنے گھر میں دلہن کو لانے سے پہلے گھر کا اثاثہ اور دلہن کی ضروریات فراہم کرکے رکھے لڑکی کے باپ کو کچھ کرنا نہیں پڑتا بعض جگہوں پر رواج یہ ہے کہ لڑکی کی ضروریات کو مد نظر رکھتے ہوئے سامان تو باپ ہی خریدتا ہے لیکن اس کی قیمت لڑکا ادا کرتا ہے۔

جہیز کی لعنت کی وجہ سے آج سینکڑوں لڑکیاں اپنے ماں باپ پر بوجھ بنی ہوئی ہیں کیونکہ والدین کو اپنی بچیوں کی شادی میں موٹی رقم خرچ کرنی پڑتی ہے اگر کھانے اور دیگر تکلفات کو چھوڑ بھی دیا جائے تب بھی صرف جہیز کی فراہمی میں موٹی رقم خرچ ہوتی ہے جہاں جہیز میں ڈھیر سارا سامان اور جوڑے دینے کا رواج ہے وہاں والدین کو اس حساب سے رقم خرچ کرنی پڑتی ہے اور بعض جگہ تو مختلف سامانوں کے علاوہ اعلیٰ قسم کے فرنیچر، رنگین ٹی وی، کپڑے دھونے کی مشین، فریج، الماری، موٹرسائیکل کاریں تک دینے کا رواج ہے چنانچہ کتنے ایسے غریب والدین ہیں جو اس تباہ کن رسم کی وجہ سے کرب و بے چینی میں مبتلا ہیں۔اب تو جہیز کا یہ تباہ کن رواج پورے معاشرے کے لیے ناسور بن چکا ہے آخر اس رسم بد کا ذمہ دار کون ہے۔ غریب والدین؟ ظالم سماج یاپھر ان نام نہاد مالداروں کاگھناؤناکردار جنہوں نے اپنی شہرت اور نام و نمود کی خاطر اپنی بیٹی کو بھاری بھرکم سامان جہیز فراہم کر کے جہیز کے لالچی لوگوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں اور معاشرے کے اندر جہیز جیسی تباہ کن رسم کو فروغ دیتے ہیں۔ میری تمام امت مسلمہ سے مؤدبانہ گزارش ہے کہ وہ اپنی بیٹیوں کو وراثت دیں جہیز نہیں۔ ‌

Comments are closed.