"ورثہ اور آزاد سوچ”

آمنہ جبیں( بہاولنگر)
ورثہ کسی بھی ملک وقوم کی پہچان ہوتا ہے۔ جیسے ایک انسان جب اس دنیا سے رخصت ہوتا ہے تو وہ اپنے ورثے میں کچھ جائیداد چھوڑ جاتا ہے۔ اپنی اولاد کی زندگی کو سنوارنے کے لیے کچھ ایسے انتظام کر جاتا ہے کہ وہ بے خوف ہو کر موت سے مل سکے۔ بالکل اسی طرح جب ایک قوم بنتی ہے ایک ریاست اور ایک مملکت بنتی ہے۔ تو اسے بنانے والے اس کے والدین ہی کہلاتے ہیں اور وہ اپنی اولاد ( قوم) کے لیے کچھ نہ کچھ ورثہ چھوڑ جاتے ہیں۔ تا کہ وہ قوم تا حشر سر اٹھا کر جی سکے اور ترقی کی بے پائہ منازل طے کر سکے۔ ہمارے رفقاء نے یہ وطن یہ گلشن جس کا نام پاکستان ہے اپنی ان تھک محنت اور کوششوں سے ہمارے لیے بطورِ ورتہ چھوڑا تھا۔ ورثہ ہمیشہ نایاب ہوتا ہے۔ اور وراثت جس حال میں چھوڑی جائے اگر وہ اسی حال میں قائم رہے یا اس سے بہتر ہو کر پروان چڑھے تو وہ وراثت اصل وراثت ہوتی ہے۔ جبکہ وہ ورثہ جس میں خیانت کر لی جائے اور منفیت کو ابھار دیا جائے وہ کبھی بھی ورثہ نہیں کہلاتا۔ وراثت یا ورثہ جب تک محفوظ رہتا ہے تب تک وراثت چھوڑ جانے والے کا نام اور مقام قائم رہتا ہے۔ جب تک وراثت زندہ رہتی ہے تب تک اس انسان کی نظریاتی سوچ، اصول و ضوابط اور قوانین کو عزت کی نگاہ سے دیکھا اور مانا جاتا ہے۔ جیسے ہی وراثت کی دھجیاں اڑتی ہیں یا وہ وراثت بکتی ہے۔ ساتھ ہی اس کے بنانے والے اور اس پہ لاگو تمام اصول و ضوابط اور قوانین ختم ہو جاتے ہیں۔ کیونکہ اب وہ کسی اور کہ ہاتھ میں ہوتی ہے۔ جس کی وراثت اسی کے مقرر کردہ اصول اس وراثت پہ لاگو ہوتے ہیں۔ ہمارا ملک پاکستان ہماری وراثت ہے جو قائد اعظم، علامہ اقبال، فاطمہ جناح، اور بہت سے دوسرے رفقاء نے ہمارے لیے ورثے کے طور پر چھوڑا ہے۔ ورثہ وہ بھی اتنا خوبصورت کہ ہر طرف شادابی، پھل اور پھول کی بھیڑ مٹی سونا اگلتی، پہاڑ خوبصورت نظارہ پیش کرتے ہوئے کہساروں کے خوبصورت مناظر، دریاؤں کا بہاؤ ہر طرح کی خوبصورتی سے مزین یہ زمین کا ٹکڑا ہمارا ورثہ ہے۔ مگر ہم اپنے ورثے کو بھول گئے ہیں۔ کیونکہ ہم نے آزادی حاصل ہی نہیں کی ہوئی۔ آپ کو یہ بات عجیب لگی ہو گی۔ لیکن یہی تو حقیقت ہے کہ ہم فقط اس زمین کو اس ٹکڑے کو جاگیر سمجھ کر آزاد ہونے کا دعویٰ کر بیٹھے ہیں۔جبکہ یہ تو جسمانی آزادی ہے۔ زمین کی آزادی ہے۔ سوچ تو آج بھی قید ہے۔ ورثہ تو مل گیا مگر ہم اسے دوسروں کے نقشِ قدم پر چل کر ان کے سپرد کر دینا چاہتے ہیں۔ ہم سوچتے ہیں کہ ہم جسمانی آزادی سے اس ملک کی اس قوم کی حفاظت کر لیں گے۔ نہیں بالکل نہیں؛ آزادی سوچ کی نہ ہو تو قومیں قید ہوتی ہیں۔ آج ہم اس نظریے کو اس سوچ کو قید کر چکے ییں۔ ہم نے اپنا تفکر اپنی سوچ اپنے اعمال کو دوسروں کی ترجیحات پر پروان چڑھا کر خود کو ہمیشہ کے لیے قید کر لیا ہے۔ اور ہم کہ رہے ہیں کہ ہم اپنے ورثے کی حفاظت کر رہے ہیں۔ ہمارا انگریزی بول چال، رہن سہن کے طور طریقے ، پھیلتی ہوئی بےحیائی، فحاشی، تعصب وفرقہ واریت کی بھڑکتی ہوئی آگ، عزتوں کی نیلامی، بیٹیوں کے دامن کا داغدار ہونا، دہشت گردی کیا یہ سب آزاد ہونے سے پہلے نہیں تھا۔ یقینا یہ بھیانک تصویر تو آزادی سے پہلے تھی۔ جو کہ آج دوبارہ نظر آ رہی ہے۔ تاریخ لگتا ہے پھر سے خود کو دہرا رہی ہے۔ ہم دوسروں کے ہاتھوں کٹ پتلی بنے اپنے جسموں کی آزادی پہ فخر کر رہے ہیں۔ ہم یا ہمارے باشندے کشمیروں، افغانستان، برما اور اسرائیل کے مسلمانوں کی آزادی کے لیے کیا قدم بڑھائیں گے۔ یا ان کے لیے کیا سوچیں گے۔ ہم تو خود قید ہیں۔ اغیار کی سوچ کے ڈبے میں قید اپنے نصیب کو رو رہے ہیں۔ جب ہم دوسری قوموں کی تقلید کرتے ہیں تو یاد رکھو ہم دوسروں اقوام کے ورثاء کو اور ان کی تہذیب کو پروان چڑھاتے ہیں۔ آج ہم اپنے رفقاء کو چھوڑ کر غیر ملکی رفقاء کو ہی پڑھتے ہیں۔ انہی کو اپنے نصاب کے اندر بھی شامل کیے ہوئے ہیں۔ارے ہمیں صرف اپنے ورثے کی حفاظت نہیں کرنی تھی۔ بلکہ ہمیں اپنا نئا ورثہ بھی تخلیق دینا تھا۔ نئی سوچ نئے لوگ پیدا کرنے تھے۔ جو تمام عالم کے لیے مشعلِ راہ بن سکیں۔ مگر ہم تو انگریزوں اور غیر مسلموں کے نقشِ قدم پر چل کر بنی بنائی ریاست کو اندھیروں میں جھونک رہے ہیں۔ ہم کل کو کسی دوسرے ملک یا قوم کو اپنی بربادی کی وجہ کیوں قرار دیں۔ شاید اس غرض سے کہ ہم سے یہ وراثت سنبھل نہیں رہی۔ ہم نے خود ہی اس کے ٹکڑے کر کے اسے اغیار کے ہاتھ میں تھما دینا چاہتے ہیں۔ ہم یہ نہیں جانتے وہ ننںھے سر وہ بڑے ،وہ بوڑھے جو سر کٹا کر جان کی بازی لگا کر ہمیں یہ ریاست دے گئے ہیں۔ ان میں سے کتنوں کی امنگیں،خواب اور مستقبل ہمارے لیے چکنا چور ہو گئے۔ کیا آج پھر اس دیس کو پیچھے جاتا دیکھ کر اور اس قوم کی قید سوچ دیکھ کر ان کی روح تڑپتی نہ ہوگی۔ ہمیں سوچنا ہو گا کہ ہم خود کو برباد کرنے کے ساتھ ساتھ آنے والی کئی نسلوں کا گلا گھونٹ رہے ہیں۔ ہمارے ورثے کی اس دیس کی حفاظت تب ہو گی جب ہم یہ سوچ ذہن سے نکال دیں گے کہ جسمانی آزادی آزادی ہوتی ہے۔ جب ہم اپنی سوچ کو دوسروں کے اشاروں سے آزاد کروا کر اپنے رفقاء کی سوچ کے مطابق بنائیں گے۔ تب ہم آزاد ہیں۔ کیونکہ اگر سوچ آزاد ہو تو انسان قید میں بھی خوش اسلوبی سے جی سکتا ہے۔ مگر اگر سوچ آزاد نہیں تو اس پوری دنیا میں ایک تنہا انسان بھی قید ہی کہلائے گا۔ اس لیے اپنی سوچ کو آزاد کرو جس دن یہ قوم اپنی سوچ کو آزاد کرا لے گی۔ اس دن اس کی اپنی شناخت اور مقام ہو گا۔ اور اس قوم کا ورثہ ( پاکستان) محفوظ رہے گا۔ ان شاءاللہ

Comments are closed.