زبان اور دل ایک نوجوان کا خلاصہ!!
محمد صابر حسین ندوی
Mshusainnadwi@gmail.com
7987972043
جوانی جانِ مَن ہے، اگر کوئی جوان اپنی جوانی میں ہی پیری و ضعیفی کا شکار ہوجائے، اخلاق و عادات اور اطوار و سلوک سے ضعف ٹپکتا ہوا تو پھر ایسی جوانی اور جوان پر لعنت! اسی طرح ایک جوان اگر زبان ہوشمند، دل دردمند اور فکر ارجمند سے محروم ہوجائے، نلگہ بلند، سخن دلنواز اور شہباز صفت سے عاری ہوجائے تو بھلا کیا چیز ہے جو اسے اقبال کا شاہین بنا سکتی ہے، دل جو عقل و فکر کی پاسداری کرتا ہے، حق و باطل کی پَرکھ کرواتا ہے، زمانہ میں عدالت کا کام دیتا ہے اور ہوائے نفس کی دنیا میں بھی دھکیلتا ہے، دنیا کی کشش، رونق، چمک اور اس کی خوبی میں الجھا جاتا ہے، بات بات پر اسے اکساتا ہے، ذہن میں خلل، تشویش، تکدر اور گمراہی بھی ڈال دیتا ہے؛ لیکن جب ایک نوجوان جب اپنے دل پر قابو پالے، اس کی درستگی، صفائی اور ستھرائی پر توجہ دینے لگے، اس کی پاکی اور نظافت کا خیال کرنے لگے، اسے ایک معمولی لوتھڑا نہیں بلکہ حیات ابدی کی شاہ کلید سمجھے تو وہی دل اس کی زندگی سنوارنے اور حظیرۃ القدس تک پہنچانے کا باعث بن جاتا ہے، وہ فرشتوں کیلئے قابل رشک ہوجاتا ہے، اور انسانی سماج کا تمغہ و امتیاز بن جاتا ہے، جب کبھی شیطانی چالیں اور شیطان کے بھیس میں انسانی شکلیں اسے نوچنے کو دوڑتی ہیں، حیلے بازیوں، مکاریوں، فریبیوں اور برائیوں کی طاقت اسے اپنی طرف کھینچتی ہے تو وہ اسی دل سے آہ کرتا ہوا، محبت و گل کی پنکھڑیاں بکھیرنے لگتا ہے، آب زمزم سے اس کی صفائی کرتا ہے، تسبیح و مناجات سے اسے دھوتا ہے، للہیے و خشیت اور نیکیوں کی برکتوں سے معمور کرتا ہے، دل کو دوست اور اس کی دھڑکن کو اپنا ساتھی مانتا ہے، کلیجہ مضبوط کرتا ہے اور سینہ کو پھیلاتا ہوا زمانے کے سامنے وہ کر گزرتا ہے؛ کہ دنیا حیران رہ جاتی ہے، عقل کے مارے سوچتے رہ جاتے ہیں کہ یہ کس دیوانے کا کام ہے، کون ہے جس کے دل کی دنیا نے اسے پوری دنیا پر حاوی کردیا ہے، اسی لئے تو کہتے ہیں کہ جب دل انسان کا دوست بن جائے، اسے شادابی، زرخیزی اور نوعیت کی نیرنگی دستیاب ہوجائے تو پھر دنیا کی ساری طاقتیں ہیچ ہوجاتی ہیں؛ لیکن اگر نوجوان کا وہی دل مر جھا جائے، محبت سے دور، اپنوں کی اپنائیت اور دل کی مرادوں، خواہشوں اور مرضیوں کی تہوں میں دَب جائے تو پھر سینہ ویران رہ جاتا ہے، اس میں کسک رہ جاتی ہے، آہ کی بستی ہو کر بے گانگی کا ٹھکانہ بن جاتا ہے، غم کا سمندر ٹھاٹھیں مارتا ہے، ناامیدی کی صحرا اور اس کی تپش اسے جلائے جاتی ہے، گرم و طوفانی ہوائیں اسے پراگندہ حال اور پراگندہ بال کرجاتی ہیں، وہ بے کار اور ضائع ہونے لگتا ہے، ٹوٹا اور شکستہ ہوجاتا ہے، ایک ایسا پرندہ بن جاتا ہے جس کے بازو کٹ چکے ہوں اور وہ کھلے آسمان و کھلی فضا میں بھی گھٹن محسوس کرنے لگا ہو۔
اسی طرح اگر کوئی نوجوان زبان کی دولت سے بے بہرہ ہو، نرم اور سادگی اسے نہ آتی ہو، موقع و محل نہ جانتا ہو، اسے مخاطب کو متاثر کرنا، اپنی بات سلیقہ سے کہہ جانا اور مخالفت میں اپنی رہبری و امامت تسلیم کروالینے کا ہنر نہ معلوم ہو تو پھر زبان ایک گوشت کے ٹکڑے سے بڑھ کر کیا رہ جاتی ہے، ایک نوجوان اگر جسم سے بھلے اونچا ہو، قد کاٹھی میں انوکھا ہو، دیکھنے دکھانے میں کسی کی بھی توجہ کھینچ لیتا ہو، چال چلن بھی پر کشش ہو؛ مگر اپنی زبان ہوشمند پر تالا لگائے ہوئے ہو، اور اُول فول بکتا ہو، یا علم کا ڈھیر ہو پھر بھی زبان سے محبت کے بجائے نفرت ہی نکلتی ہو تو پھر ایسا نوجوان قابل تعریف نہیں، یہاں پر زھیر بن ابی سلمی کا ایک شعر قابل ذکر ہے، جس کی حکیمانہ شاعری سے دنیا واقف ہے، خود زہیر کا گھرانہ شاعری میں ممتاز حثیت رکھتا تھا۔ اس کے ماموں، دو بہنیں سلمیٰ اور خنساء اور اس کے دو بیٹے کعب اور بجیر قابل شعرا میں سے تھے، اگر کہا جائے کہ تو غلط نہ ہوگا کہ شاعری دنیا میں یہ امتیاز کسی دوسرے گھرانے کو نصیب نہیں ہوا۔ کچھ لوگ تو اسے امرؤ القیس اور نابغہ ذبیانی سے بھی افضل قرار دیتے ہیں؛ کیوں کہ اس کی شاعری صداقت لہجہ کی بنا پر ممتاز اور غریب الفاظ سے خالی اور بیہودہ خیالات اور فحش گوئی سے صاف ہے۔ اس کا کلام قلیل الفاظ مگر کثیر معانی پر مشتمل ہوتا ہے۔ یہ واحد شاعر ہے جسے مدح، ضرب الامثال اور حکیمانہ مقولے نظم کرنے میں کمال حاصل تھا، زہیر ان شاعروں میں ایک ہے جو کلام کو لکھ کر پرکھتے اور کانٹ چھانٹ کرتے تھے۔ اس کے قصائد کو ’حوالیات‘ بھی کہا جاتا ہے۔ اس لئے کہ لوگوں کا خیال ہے کہ وہ چار مہینوں تک قصیدہ نظم کرتا تھا اور چار ماہ تک اس کی کانٹ چھانٹ کرتا تھا۔ اس طرح یہ قصیدہ لوگوں کو سال بھر کے بعد جاکر ملتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اس کا ہر قصیدہ آنکھوں کا سرمہ بنایا جاتا، تحریک و عمل میں اہم کردار ادا کرتا، اس نے نوجوانوں کو بھی خوب نصیحت کی ہے، اسی سلسلے میں ایک شعر تو نوجوانوں کی زندگی کا خلاصہ اور غماز بن گیا ہے، آپ بھی اس شعر کو پڑھیے!
وَكَائن تَرَى مِنْ صَامِتٍ لَكَ مُعْجِبٍ زِيَادَتُهُ أَو نَقْصُهُ فِي التَّكَلُّمِ
لِسَانُ الفَتَى نِصْفٌ وَنِصْفٌ فُؤَادُهُ فَلَمْ يَبْقَ إَلا صُورَةُ اللَّحْمِ وَالدَّمِ
"بہت سارے ایسے خاموش رہنے والے کو پسندیدگی کی نگاہ سے دیکھتے ہو؛ حالانکہ تکلم میں ان کی کمی یا زیادتی پوشیدہ ہوگی. کسی بھی نوجوان کی زبان نصف اور دل اس کا آدھا حصہ ہے، اور اس کے بعد صرف گوشت اور خون کا لوتھڑا بچتا ہے” – – زھیر بن ابی سلمی کوئی معمولی شاعر نہیں ظاہر ہے، جسے اسے امرأ القیس اور نابغہ ذبیانی کے ہم پلہ تصور کیا جاتا تھا، اس کی زندگی کے تجربات سے لوگوں نے خوب استفادہ کیا ہے، اس نے اپنی زندگی کشمکش کا نچوڑ بتایا ہے اور ایک نوجوان کی ہنرمندی اور اس کا عیب ظاہر کردیا ہے، اگر ایک نوجوان دل اور زبان سے خود کو نہ بنا سکے تو وہ صرف گوشت کا ایک لوتھڑا ہی ہے، اس سے زیادہ کچھ نہیں۔
Comments are closed.