مسئلہ کفو

 

 

محمد جنید

 

مسئلۂ کُفو کو بہت سے سید وادی اپنے نظریۂ برادری واد کی تائید میں پیش کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ غیر سید سیدہ کا کفو نہیں ہوتا، حالاں کہ غور کرنے سے معلوم ہوگا کہ مسئلہ کفائت سے ان امتیازات پر مبنی غیر اسلامی نظریات کی کہیں سے کہیں تک تائید نہیں ہوتی چناچہ ایک فاسق و فاجر محض اپنے سید ہونے کی بنیاد پر کسی پاک دامن دلت مسلمہ کا کفو نہیں بن سکتا۔

فلیس فاسق کفوا لصالحة

فاسق صالحہ لڑکی کا کفو نہیں۔

( در مختار ٤/١٥٣)

ھدایہ میں بھی یہ مسئلہ مذکور ہے مزید اس کی دلیل بھی دی گئی ہے کہ ایک نیک خاتون اپنے شوہر کے فسق و فجور سے عار محسوس کرتی ہے۔

لأنه من أعلي المفاخر والمرأة تعير بفسق الزوج

دین میں کفائت کا اعتبار اس وجہ سے ہے کیونکہ دینداری اعلیٰ ترین مفاخر میں سے ہے اور ایک نیک عورت اپنے شوہر کے فسق سے عار کرتی ہے (ھدايه، كتاب النكاح فصل فى الكفاءة، ٣٢٠)

اگر مسئلہ کفائت علو نسب و حسب پر ہی مبنی ہوتا تو یہاں بد دین سید دین دار دلت خاتون کا کفو بن سکتا تھا لیکن ایسا نہیں ہے چناچہ اگر بالغ دلت مسلم خاتون نے ایسے بد دین اعلیٰ نسب سید سے نکاح کر بھی لیا تو اولیاء کو حق اعتراض حاصل ہوگا

أفمن كان مؤمناً كمن كان فاسقاً لا يستوون }

بھلا مؤمن فاسق کی طرح ہو سکتا ہے؟ ہرگز نہیں۔ (السجدة: 18)

الزاني لا ينكح إلا زانية أو مشركة والزانية لا ينكحها إلا زان أو مشرك وحرم ذلك على المؤمنين }

زانی نکاح نہیں کرے گا مگر زانیہ سے یا مشرکہ سے اور زانیہ سے نکاح نہیں کرے گا مگر زانی یا مشرک اور یہ ایمان والوں پر حرام ہے۔ (النور: 3)

اسی طرح غریب فقیر نکھٹو سید (جو کماتا ہی نہ ہو ٹھلواگری کرنے کا شوق ہو سقہ ہو جس کی آمدنی سے خود اس کا پیٹ ہی بھرنا مشکل ہوتا ہو چہ جائے کہ بیوی کا پیٹ بھر سکے) ایسا سید کسی ایسی چھوٹے خاندان کی خاتون کا کفو نہیں بن سکتا جو ناز و نیاز سے پلی ہو جس کے قدم مخملی گدوں سے نیچے نہ اترے ہوں ھدایہ میں ہے:

أما الكفائة فى الغناء فمعتبرة فى قول أبي حنيفة ومحمد رحمهما الله تعالى

امام ابو حنیفہؒ اور امام محمدؒ کے قول کے مطابق مالداری میں بھی کفو کا اعتبار کیا جاتا ہے۔(هدايه: ٣٢١)

اور یہ جو آج کل اعلیٰ نسب بنتے پھرتے ہیں خود کو سید کہتے ہیں ان کی لڑکی کسی دوسری کاسٹ کے نیک دیندار مالدار، صاحب ثروت سے نکاح کرنا چاہے تو یہ محض اس وجہ سے راضی نہیں ہوتے کہ لڑکا چھوٹی ذاتی کا ہے خواہ خود کے پاس کھانے تک کے لئے پیسہ نہ ہوں ایسے لوگوں کو اپنے رویہ پر نظرثانی کر لینی چاہیے۔

موالی (عجمی) کے سلسلے میں فقہاء کی بیان کردہ تفصیلات سے قطع نظر عام اصول یہ ہے کہ موالی حضرات کا نسب محفوظ نہیں ہے؛ اسی لئے موالی ایک دوسرے کا کفو ہیں فتاویٰ تاتارخانیہ میں ہے:

الموالى ___وهم العجم ___بعضهم أكفاء لبعض

موالی یعنی عجمی ایک دوسرے کا کفو ہیں (الفتاوى التاتارخانيه: ٤/١٣٢)

 

ہاں اگر کسی کا نسب محفوظ ہے تو بات دوسری ہے؛ لیکن سوال یہ ہے کہ عجمیوں میں کون سا خاندان اپنے صحیح ثابت شدہ نسب کی سند دکھا سکتا ہے؟

میرے سامنے ایک واقعہ سنایا گیا۔ واقعہ یہ تھا کہ: ایک سید لڑکے کو انصاری لڑکی پسند آ گئی لڑکی کے والدین نے رشتے کو منع کر دیا اور کہا کہ لڑکا کماتا نہیں ہے، ہماری لڑکی کا جوڑ اس کے ساتھ نہیں بیٹھے گا تو لڑکے نے اس انصاری خاندان پر برادری واد کا الزام لگایا دیا؛ حالاں کہ اس انصاری خاندان کے پاس رشتے کو منع کرنے کا معقول عذر تھا کہ واقعی جوڑ نہیں بیٹھ رہا تھا۔ اولا اس لئے کہ فاسق و فاجر نیک لڑکی کا کفو نہیں بنتا، ثانیا اس لئے کہ لڑکی مالدار گھرانے سے تھی اور فقہاء نے کفائت فی المال کا اعتبار کیا ہے۔ مزید یہ کہ لڑکا جتنا کماتا تھا اس کو نشے میں خرچ کر دیا کرتا تھا۔

فتاویٰ تاتارخانیہ میں ہے: ”لا يكون كفوا لامرة صالحة“

فاسق کسی نیک خاتون کا کفو نہیں ہوتا۔ (٤/١٣٨)

ایک ضروری اور قابل غور بات یہ ہے کہ نیک دیندار عالم لڑکا ہر ایک خاندان کی لڑکی کے لئے کفو ہے۔ فتاویٰ تاتارخانیہ میں اس کی وجہ مذکور ہے:

لأن شرف العلم فوق شرف النسب

اس لئے کیوں علمی شرافت نسب کی شرافت سے بڑھ کر ہے (٤/١٣٧)

فتاویٰ شامی میں ہے :” العالم كفؤ للعلوية لأن شرف الحسب أقوى من شرف النسب وعن هذآ قيل :إن عائشة أفضل من فاطمة لأن لعائشة شرف العلم“

عالم علویہ کا کفو ہے؛ اس لئے کہ علمی شرافت نسبی شرافت سے قوی ترین ہے اور اسی لیے کہا گیا ہے کہ عائشہؓ فاطمہؒ سے افضل ہیں؛ کیوں کہ عائشہ کو علمی شرافت حاصل ہے۔ رضی اللہ عنہما (رد المختار ٤/٢١٨)

اسی سے ان لوگوں کا بھی رد ہوجاتا ہے جو ایسے مسلمان لڑکے کو اپنی لڑکی دینے میں عار محسوس کرتے ہیں جو اپنے خاندان میں اکیلا مسلمان ہو جب کہ ایمان لانے کے بعد یہ لڑکا عالم بن گیا ہو۔

پھر یہ کفائت لڑکی کا حق نہیں بلکہ اولیاء کا حق ہے چناچہ اگر لڑکی نے غیر کفو میں نکاح کیا تو اولیاء کو تو حق اعتراض حاصل ہوگا؛ لیکن اگر لڑکی کا سرپرست ہی غیر کفو میں نکاح کرا دے تو لڑکی کو کوئی حقِ اعتراض نہیں۔

شامی میں ہے: ”لحق الاولیاء لا لحقھا“

کفائت اولیاء کا حق ہے لڑکی کا نہیں۔

در اصل اسلام میں حسب نسب سے زیادہ دین داری کو معیار بنایا ہے اور کفائت فی الدین صرف لڑکا یا لڑکی کی طرف سے معتبر نہیں؛ بلکہ دونوں کی طرف سے معتبر ہے، اس سے قطع نظر کہ اولیاء کو حق اعتراض حاصل ہوگا یا نہیں

چناں چہ ابو حذیفہ بن عتبہ بن ربیعہ نے اپنے آزاد کردہ غلام سالم کا نکاح ہند بنت ولید بن عتبہ سے کیا۔

[ الفتح 9/131 ] وجامع الأصول [ 11/466 ]

 

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے زید بن حارثہؓ کا نکاح اپنی پھوپھی کی لڑکی زینب بنت جحش اسدیہ رضی اللہ عنھا سے کیا۔ [الدار قطنی 3/301 ]

 

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے فاطمہ بنت قیسؓ اور اسامہ بن زیدؓ کا نکاح ہوا۔ [مسلم: 1480 ]

 

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو بیاضہ کو مخاطب کرکے فرمایا کہ ابو ھند کے یہاں نکاح کرو اور کرواؤ جب کہ ابوہند حجام اور نائی تھے۔

[ابوداؤد 2102 ] وصححه الحاكم [ 2/164 ] وقال ابن حجر في بلوغ المرام [ 941 ] ” سنده جيد ”

 

إذا جاءكم من ترضون دينه وخلقه فأنكحوه إلا تفعلوا تكن فتنة في الأرض وفساد .. ”

اگر تمہارے پاس کسی ایسے شخص کا پیغام آۓ جس کی دینداری اور اخلاق تمہیں پسند ہوں (خواہ کسی بھی ذاتی و برادری کا ہو) تو فوراً نکاح کردو اگر تم ایسا نہیں کروگے تو دھرتی پر فتنہ و فساد برپا ہوگا

رواه الترمذي من حديث أبي حاتم المزني [ 1085 ]

لہذا صرف دین داری اخلاق و کردار کو دیکھنا چاہیے۔

Comments are closed.