عائشہ جیسے سانحات کا غیر جذباتی جائزہ
مولانا محمود احمد خاں دریابادی
کئی دن پہلے میں نے عائشہ کا آخری ویڈیو دیکھا اور اس کے ماں باپ سے اس کی آخری گفتگو کا آڈیو بھی سنا تھا، ………… تب سے اب تک اس حادثے پر کچھ لکھنے کی ہمت جُٹا رہا ہوں، مگر ہاتھ کانپ جاتے ہیں ـ
میں نے زندگی میں پہلی بار کس ایسی شخصیت کا چہرہ دیکھا جو چند منٹ بعد اپنے ارادے سے موت کو گلے لگانے والی تھی ـ ………. میں سچ کہتا ہوں مجھے عائشہ کا بظاہر خوبصورت نظر آنے والا چہرہ بہت ہیبت ناک لگا، ایسی خوبصورتی سے میں خوفزدہ ہوگیا ـ مجھے اس چہرے پر نظر آنے والی ہنسی میں موت کی چنگھاڑ سنائی دےرہی تھی ـ
اب جب کہ اس حادثہ کو کئی دن گزر چکے، حواس کچھ قابو میں ہے تو پورے معاملے پر غور کرنے کے بعد کچھ سوالات ذہن میں قائم ہوتے ہیں، کچھ باتیں آدھی ادھوری ہی سہی سمجھ میں آتی ہیں، سچ کیا ہے وہ تو عائشہ کے اہل خانہ یا اس کے شوہر عارف کے گھر والے جانتے ہوں گے، …….. مگر عائشہ کی خود کشی کی ہولناک واردات کے بعد ظاہر ہے ایک طرف غم و غصہ ہوگا، انتقام کی خواہش ہوگی تو دوسری طرف انتقام اور سزا کا خوف اور اس سے بچنے کی کوششیں ہونگی، دونوں طرف سے الزامات وجوابی الزامات کا دور چل رہا ہوگا، ظاہر ہے ایسے میں خالص سچائی کا سامنے آنا مشکل معلوم ہوتا ہے ـ
عائشہ کے ویڈیو سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسے عارف سے شادی کے پہلے سے محبت تھی، لیکن یہ پتہ نہیں چلتا کہ عائشہ نے اپنے ماں باپ کی مرضی سے شادی کی تھی یا عائشہ کی ضد سے مجبور ہوکر ماں باپ اس شادی کے لئے تیار ہوئے تھے ، اکثر ایسا بھی ہوتا، محبت کا شکار جوڑے پہلے شادی کرلیتے ہیں بعد میں ماں باپ کو منانے کی کوشش کرتے ہیں جو اکثر مان جاتے ہیں کبھی کبھی نہیں بھی مانتے، عائشہ کے معاملے میں کیا ہوا تھا یہ پتہ نہیں ـ
ویڈیو اور آڈیو سے پتہ چلتا ہے کہ عارف کے گھر والوں کو عائشہ پسند نہیں تھی وہ اس کو پریشان کررہے ہیں، کچھ مطالبات کررہے ہیں، البتہ ویڈیو سے یہ پتہ نہیں چلتا کہ عارف گھر والوں کے ساتھ ہے یا عائشہ کے؟ ……… جبکہ خود کشی کے بعد عائشہ کے گھر والوں نے یہ ضرور کہا ہے کہ عارف اپنے گھر والوں کے ساتھ ہی تھا ـ
ویڈیو یہ ضرور پتہ چلتا ہے کہ عائشہ کو اب بھی عارف سے محبت تھی ـ اکثر یہ بھی ہوتا ہے کہ جو لڑکے خود کفیل نہیں ہوتے بلکہ گھر والوں پر منحصر ہوتے ہیں وہ عموما خواہش کے باوجود کھل کر بیوی کی حمایت نہیں کرپاتے، پتہ نہیں عارف خود کفیل ہے یا نہیں؟ …….. یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ عائشہ کے والد نے عارف کے گھر والوں کے خلاف مقدمہ کررکھا تھا ـ
اب عائشہ کی ذہنی کیفیت کے بارے میں سوچتے ہیں تو سمجھ میں آتا ہے کہ وہ ایک طرف ماں باپ کی پریشانی دیکھتی ہے جو اس کے سسرال والوں کے مطالبات سے پریشان ہیں، عائشہ کو سسرال میں اگر ٹارچر کیا جارہا تھا تو اس کی بھی کڑھن والدین ہوگی، مقدمے کے اخراجات، ماں باپ کی بھاگ دوڑ بھی عائشہ کی نظروں میں ہوگی ـ اگر ماں باپ کی مرضی کے خلاف شادی ہوئی ہے تو اس کا پچھتاوا بھی دل میں کہیں نہ کہیں ہوتا ہوگا، اگر عائشہ دوسری چھوٹی بہنیں بھی ہوں تو والدین ان بچیوں کے مستقبل کو لے کر سب سے زیادہ پریشان ہوں گے ـ ……… دوسری طرف عارف کی محبت اب بھی عائشہ کے دل میں جاگزیں ہے، اسی وجہ سے وہ یہ بھی نہیں چاہتی کہ عارف اور اس کے گھر والے پریشانیوں میں مبتلا ہوں، اسی لئے وہ اپنے والدین سے مقدمہ واپس لینے کے لئے کہہ رہی ہے ـ حالانکہ ساتھ وائرل ہونے والے آڈیو میں اس کے والد اس کو گھر واپسی کی تاکید کررہے ہیں، رو رہے ہیں، گڑگڑا رہے ہیں اللہ رسول، غوث پاک اور بی بی عائشہ کا واسطہ بھی دے رہے ہیں، یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ واپس آجا میں خود تیری سسرال جاکر بات کرونگا، سب ٹھیک ہوجائے گا …….. مگر عائشہ آنے کو تیار نہیں ہے، اُس کو یقین نہیں آرہا ہے، شاید وہ اپنی سسرال والوں کا مزاج سمجھتی ہے کہ وہ لوگ ماننے والے نہیں ہیں، یا اُس کو اپنے والد پر یقین نہیں ہے کہ وہ مقدمہ واپس لیں گے، دونوں باتیں ہوسکتی ہیں ـ
درج بالا ساری معروضات ذہن میں رکھنے کے بعد غور کرنا چاہیئے کہ کہاں کہاں غلطی ہوئی ہے ـ ہمارے نزدیک اگر معاملات کم وبیش یوں ہی پیش آئے ہیں جیسے اوپر بیان ہوئے تو درج ذیل باتوں پر غور ہونا چاہیئے ـ
۱ـ بچے لڑکا ہو یا لڑکی ہمیشہ ان پر نظر رکھنی چاہیئےکہ گھر میں کیسے رہتے ہیں، باہر اسکول وغیرہ میں ان کے دوست کون ہیں، کن کے ساتھ اٹھتے بیٹھتے ہیں ـ
۲ ـ والدین کو چاہیئے کہ بچوں کا اعتماد حاصل کریں، سرپرست اور مربّی کے ساتھ ساتھ والدین کو ان کا دوست، گائیڈ اور مشیر کا کردار بھی ادا کرنا چاہیئے، ایسا ہو کہ بچے ماں باپ سے اپنا دکھ سکھ، اپنی پریشانی اور آئندہ زندگی کے اپنے منصوبے کھل کر شئر کرسکیں ـ
۳ ـ تعلیم وغیرہ کے دوران ایسا ہوتا ہے کہ کبھی لڑکے لڑکیاں صنف مخالف کی کسی خاص شخصیت کے لئے اپنے دل میں نرم گوشہ محسوس کرنے لگتے ہیں، یہی کونپل دھیرے دھیرے ایک تناور درخت کی صورت اختیار کرلیتی ہے جس کو ” محبت ” کا نام دیا جاتا ہے، کچی عمر کی ایسی محبتیں ایک منہ زور پہاڑی ندی کی طرح ہوتی ہیں، اس کا بہاو ایسا تند وتیز ہوتا ہے کہ اپنے سامنے کسی کو خاطر میں نہیں لاتیں، ………… ایسی محبتوں میں رومانس، ستاروں میں جھولنے اور چاند کو چھونے کی آرزوئیں ہوتی ہیں، ہر مخالفت کو توڑ کر رکھ دینے اور پہاڑوں سے ٹکراجانے کے عزائم ہوتے ہیں اور ساری زندگی اپنے محبوب کے ساتھ گنگناتے، مسکراتے، ہنستے، بلکھاتے ہوئے دن گزارنے کی خواہش ہوتی ہے ـ ایسی محبتوں کے آگے عموما ماں باپ بے بس ہوجاتے ہیں اور ہتھیار ڈال دیتے ہیں ـ ………. خدانخواستہ اگر ایسا نہ ہوا تو محبوب و محب چاند کے پار بسنے کا خواب لئے گھر سے سدھار جاتے ہیں، اور الگ دنیا بسا لیتے ہیں ـ
کچھ دنوں بعدجب پرجوش ندی کا پانی اترتا ہے تو زندگی کی پتھریلی چٹانوں سے واسطہ پڑتا ہے، آٹا،دال ترکاری، گیس، بجلی، مکان کا کرایہ جیسی ضرورتیں منہ پھاڑ کر سامنے آتی ہیں، جو کچھ گھر سے لے کر بھاگے تھے وہ کب تک ساتھ دیتا………… ! ایسے میں عموما یہی ہوتا ہے کہ خیر سے دونوں بدھو گھر کو واپس آجاتے ہیں، لڑکا اپنے گھر اپنی بیوی کو لے جاتا ہے وہاں اس کے ماں باپ پہلے ہی بھرے بیٹھے ہوتے ہیں، جب لڑکی پہونچتی ہے تب ان کا یہ احساس مزید شدت اختیار کرلیتا ہے کہ ہمارا لڑکا مفت میں ہاتھ سے نکل گیا ـ ……. تب پھر دوسرا کھیل شروع ہوتا ہے لڑکی کو ستایا جاتا ہے، ذہنی وجسمانی ٹارچر کیا جاتا ہے، اپنے لڑکے کا برین واش کرنے کی کوشش ہوتی ہے، اس کے سامنےدوسری لڑکیوں کی تعریف کی جاتی ہے، کہا جاتا ہے کہ اس لڑکی کے گھر والے بہت امیر ہیں ان کے یہاں شادی کرتا تو چار پہیے کی گاڑی، مکان، زیورات کے ساتھ لاکھوں روپیہ نقد کاروبار کے لئے بھی ملتا، تو بھی کہاں فقیروں کے یہاں پھنس گیا، ……… خیر اب بھی کچھ نہیں بگڑا جلدی سے ان فقیروں سے پیچھا چھڑالے، بس پھر دیکھ تیرے کیسے دن پھرتے ہیں ـ
لڑکا بھی آخر انسان ہوتا ہے، محبت کا بخار تو پہلے ہی اتر چکا ہوتا ہے، اب اسے بھی سمجھ میں آنے لگتا ہے کہ یہ لڑکی جس کے ساتھ میں نے جیون کی ڈور باندھی ہے اس کے ساتھ تو زندگی ہمیشہ ایسے ہی دوسروں کے ٹکروں پر گزرے گی کہ پھٹی چپل پیروں میں ہوگی، قمیص کی سلائی ادھڑ رہی ہوگی، چائے میں کسی دن دودھ ہوگا تو شکر نہیں ہوگی، کسی دن شکر ہوگی تو دودھ نہیں ہوگا، ……….. زندگی میں اگر ایک چانس مل رہا ہے تو کیوں نہ اس کا فائدہ اٹھایا جائے ـ
اس کے بعد لڑکی کو مجبور کیا جاتا ہے کہ اگر اس گھر میں رہنا ہے تو اپنے مائکہ سے کاروبار کے لئے پانچ لاکھ لے کر آئے،……… لڑکی بیچاری کیا منہ لے کر میکے جاتی، …….. جب سسرال والوں کا دباو بڑھتا ہے تو مجبورا ماں باپ کے ہاں جاتی ہے، رو دھو کر ان کو منانے کو کوشش کرتی ہے، اپنی بپتا سناتی ہے، ماں باپ کیسے ہی ہوں اپنی لخت جگر کی حالت دیکھ کر مجبور ہوجاتے ہیں ـ اکثر ایک بار سسرال والوں کی فرمائش پوری کردی جاتی ہے، مگروہاں تو فرمائشوں کی قطار لگ جاتی ہے، آخر کب تک ………. ؟ بعض غریب ماں باپ عاجز آکر پولیس اور عدالتوں کا سہارا لیتے ہیں مگر رشوت، عدالتی اخراجات مزید ان کی کمر توڑ دیتے ہیں، ایسے میں لڑکی کے سامنے بس یہی راستہ بچتا ہے کہ یا تو پنکھے سے لٹک جائے یا کسی ندی میں چھلانگ لگادے، ………. اگر لڑکی نے یہ نہیں کیا تو پھر سسرال والے ہی اسٹوپ یا گیس کا سلنڈر پھٹ جانے کا بہانا بناکر لڑکی سے پیچھا چڑا لیتے ہیں ـ
اس ساری رام کہانی پر غور کریں تو سمجھ میں آئے گا کہ اس کا آغاز کچی عمر کی اس کونپل سے ہوا تھا جو لڑکا لڑکی کے دل میں پھوٹی تھی جس کو دونوں نے محبت سمجھ لیا تھا ـ اگر ماں باپ اسی وقت توجہ دیدیتے خصوصا لڑکی کو اس کی حیثیت کا اندازہ کرادیتے، جس کونپل کو محبت سمجھا جارہا تھا اس کی حقیقت بتادیتے اور جو لڑکا اس کو محبت کے فریب میں مبتلا کررہا تھا ایک بار اس کی ٹھیک سے خبر لے لیتے، اسکول کے اساتذہ، پرنسپل یا خود اس لڑکے کے گھر والوں تک شکایت پہونچادیتے تو کہانی یہاں تک شاید نہ پہونچتی، اول مرحلے میں ہی تدارک ہوجاتا ـ
۴ ـ کبھی کبھی کہانی کا آغاز اگرچہ دوسری طرح ہوتا ہے مگر انجام وہی ہوتا ہے جو اوپر کی کہانی میں ہوا ہے ـ مثلا یہ کہ لڑکا لڑکی کی شادی محبت میں نہیں ہوتی ارینج میرج ہوتی ہے، لڑکی کے ماں باپ خود رشتہ تلاش کرتے ہیں یا کسی لڑکے کا رشتہ خود ان تک آتا ہے ـ ایسی صورت میں اگر لڑکی کے والدین نے صحیح انتخاب کرلیا تو ٹھیک ہے ورنہ معاملات خراب ہوجاتے ہیں اور وہی نوبت پہونچتی ہے جو اوپر بیان ہوئی، یا پھر ایک تھکا دینے والی قانونی جدوجہد کا سامنا کرنا پڑتا ہے اس کا انجام بھی زیادہ تر لڑکی کے لئےنقصان کی صورت میں سامنے آتا ہے ـ
دراصل حدیث میں جو آتا ہے کہ رشتوں کا انتخاب دینداری کی بنیاد کیا جائے یہ بے وجہ نہیں ہے، ……… مگر ہمارے یہاں انتخاب عموما کرّوفر، سوٹ بوٹ، عمدہ مکان، گاڑی وغیرہ کی بنیادوں پر ہوتا ہے، اگر کوئی دیندار رشتہ آتا بھی ہے تو غور کرنے سے پہلے ناک بھوں چڑھاکر مسترد کردیا جاتا ہے، ارے یہ تو کرتا پیجامہ پہنتا ہے، کُچّی سی ڈاڑھی بھی تو ہے، کیا کرے گا، لڑکی کو کیا کھلائے گا وغیرہ وغیرہ ـ ……… اس لئے ضروری ہے کہ اپنی اولادوں کو عصری علوم کے ساتھ دین بھی سکھایا جائے، سکھانے کا مطلب یہ نہیں کہ مکتب میں یا حافظ جی کو گھر بلاکر ایک بار جیسے تیسے ناظرہ پڑھوادیا بس کافی ہوگیا ـ ایسا کچھ ہونا چاہیئے کہ بچوں کو دین کی سمجھ آئے اور بچے اپنے انتخاب سے دین کو اختیار کریں، دینداروں کو پسند کریں، دین داروں سے رابطہ رکھیں ـ عائشہ جیسے حادثات ہمارے سماج میں آئندہ نہ پیش آئیں اس کے لئے بس یہی ایک راستہ سمجھ میں آتا ہے ـ
۵ ـ مشترکہ خاندان کے بہت سے فائدے ہیں، مگر اس میں کچھ کمزوریاں بھی ہیں، مثلا ہمارے یہاں خصوصا نئی شادی شدہ دولھن کو سسرال میں ساس اور نندوں کے ساتھ رہنے کے لئے مجبور کیا جاتا ہے، دن بھر سارے خاندان کی خدمت اور ساتھ نندوں کی جلی کٹی سننے کے بعد رات گئے اُس کو اپنے تھکے ہوئے جسم کے ساتھ اپنے خاوند سے گفتگو اور وقت گزارنے کا موقع ملتا ہے، پھر بھی دھڑکا لگا رہتا ہے کہ نہ جانے کب اچانک ساس یانند کا کسی کام کے لئے بلاوا آجائے ـ ……..ایسے ماحول میں نئی دولھن کئی طرح کے نفسیاتی و جسمانی عوارض کا شکار بن جاتی ہے، وہ نہ تو پوری طرح اپنے خاوند کو مطمئن کرپاتی ہے اور نہ ہی گھر کے دوسرے لوگ اس سے خوش رہ پاتے ہیں ……… جلد ہی دولھن کی طرف سے رد عمل شروع ہوجاتا ہے اور بعض اوقات رد عمل شدید ہوتا ہے، یا تو لڑکی تمام گھر والوں کے ساتھ ترکی بترکی سوال وجواب کرنے لگتی ہے، یہ خاوند سمیت تمام گھر والوں کے لئے ناقابل برداشت ہوتا ہے، ان کی طرف سے مزید سختی ہوتی ہے، زد وکوب کی نوبت آتی ہے بعض لڑکیاں اس میں بھی برابر سے جواب سے دینے کی کوشش کرتی ہیں، بالاخر نوبت علاحدگی تک پہونچتی ہے، لڑکی کے خاندان والے نہ چاہتے ہوئے بھی لڑکی کی حمایت میں اتر آتے ہیں، معاملہ توتو میں میں سے ہوتا ہوا، ہاتھا پائی اور پھر پولیس کچہری تک پہونچتا ہے ـ……… یا پھر ایسا ہوتا کہ لڑکی بہت حسّاس ہوتی ہے اور پہلے مرحلے میں ہی عائشہ کی طرح اپنا خاتمہ کرلیتی ہے ـ
اسلامی مزاج اس سلسلے میں تو یہ ہے کہ شادی کے بعد بیوی کوکھانا، کپڑا اور رہائش فراہم کرنا شوہر کی ذمہ داری ہے، یعنی اس کو مجبور نہیں کیا جاسکتا کہ وہ شادی کے بعد ساس نند ہی کیوں نہ ہو کے ساتھ اپنی رہائش شئر کرے ـ اسی طرح خاندان بھر کی خدمت کرنا بھی بیوی کی ذمہ داری نہیں ہے ـ ………… ماں باپ کو چاہیئے کہ وہ اپنے جس لڑکے کی شادی کریں اس کو اپنی بیوی کے ساتھ الگ رہائش کا انتظام کریں، اگر اس کی گنجائش نہ ہو تو کم از کم موجودہ رہائشی مکان میں ہی کوئی کمرہ یا کوئی گوشہ ایسا مخصوص کردیں جہاں بہو کے علاوہ کسی دوسرے کا دخل نہ ہو ـ
نوٹ: عائشہ کی خود کشی کے بعد شوشل میڈیا میں تحریروں کی باڑھ سی آگئی ہے، خود کشی یقینا فعل حرام ہے، جیسے جھوٹ بولنا،شراب نوشی، بدکاری، کسی کی بلاوجہ دل آزاری، بے ایمانی، غصب وغیرہ وغیرہ، ………. ان سب گناہوں کا ارتکاب کرنے والوں پر اس کا وبال ہوگا اور یقینا ہوگا، یہ ہمارا ایمان ہے ـ ……….. مگر…….. نام لے کر کسی گناہ کے مرتکب کو جہنمی قرار دینا اسلامی مزاج کے خلاف ہے ………. عائشہ بہرحال کسی کی بیٹی اور کسی کی بہن تھی اس کی موت سے افراد خانہ یقینا غم زدہ اور سوگ وار ہوگے، اس حادثے نے ان کے کلیجے زخمی کردئیے ہوں گے ایسے میں اگر کوئی ان کو صبر کی تلقین کے بجائے یہ یاد دلائے کہ تمھاری عائشہ جھنم میں چلی گئی توکیا یہ ان کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے برابر نہیں ہوگا ؟
۲ـ ہندوستانی مسلمانوں کے درمیان بے شمار سماجی اور معاشرتی سدھار کا کا دعوی کرنے والے افراد اور تنظیمیں موجود ہیں، لائنس کلب، روٹری کلب سے لے بڑی بڑی فائیو اسٹار ہوٹلوں میں سمینار، سمپوزیم اور ڈائیلاگ وغیرہ کرکےسماج سدھار کے لئے کام کرنے والے سوٹ بوٹ والے خواتین وحضرات، چھٹی کے دن یعنی سنڈے کے سنڈے عورتوں کو خود کفیل بنانے ( women empowerment) کے لئے گلی محلوں میں کیمپ لگا کر پکنک منانے والی خوش لباس خواتین، اعلی سرکاری ملازمت یا ملٹی نیشنل کمپنی کے بڑے عہدوں سے ریٹائر ہوکر وقت گزاری کے لئے قوم کا غم کھانے والے نوکر شاہ، اور این جی او بناکر سماجی انقلاب کا مکھوٹہ پہنے والے وہ نوجوان جو سیاست کی بلندیوں پر پہونچنے کا عزم رکھتے ہیں ـ ایسے تمام لوگ اپنے آپ کو معاشرے کی اصلاح میں سرگرم بتاتے ہیں، …………. ہمارے درمیان بڑے بڑے دانشور اور تھنکر ہیں، صحافی ہیں، وکیل ہیں، زندگی کے دوسرے شعبوں میں کام کرنے والے افراد بھی ہیں ـ
کبھی آپ نے سوچا ہے کہ یہ سارے لوگ، شوشل میڈیا کے تمام لکھاری، صحافی، وکیل، سوٹ بوٹ والے خواتین وحضرات صرف اور صرف علماء اور ملی تنظیموں کو ہی عائشہ جیسے حادثات بلکہ دنیا بھر میں ہونے والے تمام سانحات کا ذمہ دار کیوں قرار دیتے ہیں؟ ………… ہماری سمجھ میں تو یہ آتا ہے کہ یہ سارے لوگ خوب جانتے ہیں کہ صرف علماء اور ملی تنظیمیں ہی ہیں جو سنجیدگی سے خدمت اور اصلاح کے جذبے کے تحت سماج میں کام کرسکتے ہیں،……… باقی دیگر لوگ، خوش شکل اور خوش لباس، سوٹ بوٹ، ریشمی لباسوں میں ملبوس لیڈیز اینڈ جٹلمین فقط پکنک منانے والے اور چھٹیوں میں وقت گزاری کا مشغلہ ( hobby) اور سیاسی بلندی کا زینہ سمجھ کر کام کرنے والےلوگ ہیں ـ
ہمارے خیال سے علماء کو ایسی تنقیدوں سے دلگرفتہ ہونے کی ضرورت نہیں بلکہ خوش ہونا چاہئیے، جس سے امید ہوتی ہے لوگ اسی سے شکایت بھی کرتے ہیں،………… ایسی شکایتوں کا مطلب یہ ہے کہ ملک کے عوام وخواص کو اب بھی علماء سے امیدیں ہیں، ان پر اعتماد ہے ـ علماء کوچاہیئے کہ اپنی کوششوں میں مزید تیزی لائیں یہی وقت کا تقاضا ہے ـ
Comments are closed.