شادی کا دولھا یا بھکاری ۔۔۔۔۔۔۔۔ ؟؟؟؟؟؟
عمر فراہی ۔۔۔
آج آفتاب اپنی نئی نویلی دلہن شاذیہ اور جہیز میں ملی کار کے ساتھ ممبئی ہائی وے پر لانگ ڈرائیو کیلئے کہیں دور گھومنے کیلئے نکلا تو اس نے کار کی رفتار تیز کردی ۔شاذیہ نے کہا کہ آفتاب ذرا گاڑی دھیرے چلاؤ ۔آفتاب نے کہا کہ جان من ابھی تک تو دوستوں کی گاڑی چلایا کرتا تھا اب ایک زمانے کے بعد اپنی خود کی کار ڈرائیو کرنے کا موقع ملا ہے تو پوری طرح مزے لے لینے دو ۔ویسے بھی اپنی طاقت کہاں تھی کہ کبھی کار خرید پاتے ۔یہ تو تمہارے ڈیڈی کی مہربانی تھی کہ انہوں نے ہمارا مطالبہ قبول کرکے اس کا موقع دے دیا ۔شاذیہ نے کہا اچھا میوزک تو کم کردو کہ اتنےمیں کار کے سامنے ایک بھکاری آگیا۔آفتاب نے اچانک بریک مارا اور مشکل سے گاڑی موڑ کر بھکاری کو بچا تو لیا لیکن فوراً اس کو گالی دیتے ہوئے بولا۔
ابے مرے گا کیا!
بھکاری سالے دیش کو برباد کرکے رکھا ہے تم لوگوں نے ۔
اتنے میں شاذیہ گاڑی سے اتر کر بھکاری تک پہنچ گئی دیکھا تو وہ اپاہج تھا۔ شاذیہ نے سو روپے کی نوٹ نکال کر بھکاری کے ہاتھ پر رکھا اور کہا معاف کرنا بابا کہیں چوٹ تو نہیں آئی ۔
دراصل ہماری نئی نئی شادی ہوئی ہے اور ہم باتوں میں ۔۔ ۔۔یہ لو بچوں کیلئے میٹھائ خرید لینا اور دعا میں یاد رکھنا۔بھکاری اسے ڈھیر ساری دعا دینے لگا اور وہ اس کا ہاتھ پکڑ کر فٹ پاتھ پر بٹھا کر کار میں بیٹھ گئی ۔کار میں بیٹھتے ہی آفتاب نے شاذیہ سے کہا کہ تم جیسی دھنا سیٹھانیوں اور سیٹھوں کی وجہ سے ہی ان بھکاریوں کا من بڑھ گیا ہے۔ ان کو منھ نہیں لگانا چاہیے ۔شاذیہ نے مسکرا کر کہا کہ جان من وہ تو اپاہج تھا اور اسے حق ہے ہاتھ پھیلانے کا لیکن جنھیں اللہ نے صحیح سلامت رکھا ہے انھیں کیاحق ہے ایسی لڑکیوں کے والدین سے برانڈڈ جوتا کپڑا اور لاکھوں کی گاڑی اور جہیز مانگنے کا جنھوں نے بڑی مشقت سے اپنی بیٹی کی پرورش کی اور ان کی اس پرورش میں ان کے خون اور پسینے کی کمائی شامل ہوتی ہے۔کیا یہ جہیز مانگنے والے بھکاری نہیں ہوئے ۔تم نے بھی تو شادی میں گاڑی نہ ملنے کی رنجش میں تحفے میں دیئے گئے جوتے اور تشریفی جوڑے کو یہ کہہ کر میری بدائ کے ساتھ واپس کر دیا تھا کہ یہ برانڈڈ نہیں ہے اور اپنے ممی پاپا سے کہہ دینا کہ یہ سامان اپنے پاس رکھیں ان کے فیوچر میں کام آئے گا ۔کتنی اچھی انگلش کا استعمال کیا تھا نا تم نے
"فیوچر میں کام آئے گا ”
یاد ہے یہ جملہ ۔کیا شادی سے پہلے بھی کبھی انگلش بولا تھا تم نے ؟ اور اب جب تمہارے کار کے مطالبے کو پورا کرکے پاپا نے گاڑی دے دی ہے تو تمہیں اپنا فیوچر برائٹ نظر آنے لگا ہے اور مزے لینے کی بات کرہے ہو ۔ذرا سوچو جن لڑکیوں کے والدین کے پاس دس یا پندرہ لا کھ کی گاڑی سات ہزار کا موچی کا برانڈڈ جوتا اور شادی کے دن دولہا بن کر آنے کیلئے چالیس ہزار کا جوڑا دینے کی طاقت نہی ہے کیا وہ اپنی بچیوں کو قتل کردیں ؟ ۔اور بیشک تم جیسے لوگوں کی وجہ سے ہی آج عائشائیں ماں کے پیٹ میں ہی قتل کردی جاتی ہیں یا خودکشی کرنے پر مجبور ہیں اور اکثر گھروں میں بچیاں پیدا ہوتے ہی ماتم اور سوگ کا ماحول ہوجاتا ہے۔ بتاؤ کیا اسی دن کیلئے ایک باپ اپنی بیٹی کو پچیس سال تک پال پوش کر بڑا کرتا ہے ؟؟؟؟
بتاؤ کیا تمہارے والدین نے تمہاری بہنوں کو بھی برانڈڈ جوتا اور برانڈڈ گاڑی دی ہے ؟
بتاؤ تمہاری اور بھی تو بہنیں ہیں کیا تم انہیں بیس لاکھ کی گاڑی دینے کی طاقت رکھتے ہو ؟
اس میں غلطی صرف تمہاری نہیں ان والدین کی بھی ہے جو اپنی بیٹیوں کو ایسے بے غیرت لڑکوں کے حوالے کردیتے ہیں ۔ذرا سوچو شادی کوئی لانگ ڈرائیو اور تفریح کا سامان نہیں ہے شادی اس لیے ہوتی ہے تاکہ دو خاندانوں کے درمیان رشتے مضبوط ہوں اور دو بچوں کے پاکیزہ بندھن سے ایک اچھی نسل پروان چڑھے ۔اگر باپ کے خون میں ہی غیرت اور خودداری نہ ہو تو کیا ان سے پیدا ہونے والی نسل بہادر اور خوددار ہوگی ؟؟؟
کیا ایسی نسل سے ایک صحت مند معاشرے کی تشکیل ہوسکتی ہے ؟۔
کیا ہم ایسی اولاد سے یہ امید کرسکتے ہیں کہ وہ فیوچر میں اپنے بوڑھے ماں باپ کی بھی کفالت کر پائیں گے؟ ۔
کیا یہ نسل اپنے بوڑھے والدین کو بے ضرر سمجھ کر بوڑھوں کے آشرم میں نہیں ڈھکیل دے گی ؟
شاذیہ کو آج موقع ملا تھا اور وہ مسکرا مسکرا کر آفتاب کو شال میں لفظوں کے برانڈڈ جوتے لپیٹ کر مار رہی تھی اور آفتاب سر جھکائے شاذیہ کی بات خاموشی سے سن رہا تھا کیونکہ اس کے پاس اس کا کوئی جواب بھی تو نہیں تھا !
لیکن اس نے بہت ہی شرمندگی سے اپنی غلطی کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ شاذیہ مجھے معاف کردو میں اپنی ماں اور بہنوں کے ورغلانے میں گمراہ ہو گیا تھا ۔ضرورت ہے بچیوں کو اسلامی تعلیمات سے آراستہ کرنے کی تاکہ وہ ساس اور نند کی شکل میں جس معاشرے کی تباہی اور گندگی کا سبب بن رہی ہیں فیوچر میں ایسا نہ ہو ۔اف یہ فیوچر کا جنون جس نے نکاح جیسے مقدس عمل کو کاروبار اور چالیس ہزار کے لباس میں ملبوس شادی کے خوبصورت دولھے کو بھی بھکاری بنا دیا ہے !!!!
Comments are closed.