بنت حوا کے حقوق دنیاوی و آفاقی قانون کی نظر میں

 

ازقلم: سحر نصیر (سیالکوٹ)

دنیاوی عیش و عشرت میں مگن لوگ 8/ مارچ کو یوم خواتین بڑی آب وتاب سے بین الاقوامی سطح پر مناتے ہیں۔ اس دن دنیا بھر سے خواتین اپنے حقوق لینے کے لیے گھروں سے باہر نکلتی ہیں، خواتین کی پہلی عالمی کانفرنس میکسیکو میں 1975ء میں منعقد ہوئی، اس کانفرنس کے بعد دنیا بھر میں کئی کانفرنس کا انعقاد عمل میں آیا۔اس کانفرنس کے بعد دنیا بھر سے خواتین نے متحد ہو کر اپنے حقوق کی آوازیں بلند کیں۔ پھر سنہ 1977ء میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے یہ بل پاس کیا کہ خواتین 8 مارچ کو بین الاقوامی سطح پر ہر سال اپنے حقوق کی آواز بلند کریں گی۔دسمبر 1979ء میں حقوق نسواں کے لیے ایک عالمی معاہدہ تیار کیا گیا جس کا عنوان "کنونشن فار اکیڈمی نیشن آف ڈسکریمی نیشن اگینسٹ ویمن” رکھا گیا۔ اس معاہدہ میں تیس دفعات شامل تھیں، جس میں سے سولہ دفعات خواتین کے حقوق کے لیے تھیں۔
قبل از اسلام مختلف تہذیبوں اور معاشروں کا جائزہ لینے سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ہر مقام پر عورت کے ساتھ ظالمانہ سلوک کیا جاتا تھا، وہ معاشرتی اور سماجی احترام سے محروم تھی، اسے تمام برائیوں کی آماجگاہ اور قابل نفرت خیال کیا جاتا تھا۔ یونانی و رومی اور ایرانی قبل از اسلام جہالت کی تہذیبوں کا مطالعہ کرنے سے واضح ہوتا ہے کہ عورت کو ثانوی حیثیت سے بھی کم تر درجہ حاصل تھا۔ اس کی عزت و احترام اور حیثیت کا تعین اسلام کے علاوہ کہیں اور نظر نہیں آتا۔ دین اسلام نے عورت کو مخصوص نظریات و خیالات کے دائرے سے نکل کر عورت کو مرد کے برابر کا درجہ دیا ہے۔ اسلام کے علاوہ باقی تمام تہذیبوں نے خصوصاً مغربی تہذیب عورت کی آزادی عظمت اور معاشرے میں اس کو مناسب مقام و منصب دلوانے کا سہرا اپنے سر پر سجانے کی دعویدار ہے۔ حالانکہ انکی تہذیبوں نے ہمیشہ عورت کے حقوق کو پامال کیا ہے۔ اسی طرح بہت سی اور تہذیبوں نے بھی عورت کے حقوق کے لیے کئی قوانین وضع کیے، مگر اسلام کے علاوہ کوئی اور مذہب اور کلچر عورت کو اس کے حقوق نہ دلوا سکا۔
یونانی فلسفے میں مرد نے عورت کو صرف اپنی نفسیاتی تسکین اور مسرت کا ذریعہ سمجھا۔ عام یونانی معاشرے کے خیال کے مطابق عورت مرد سے زیادہ بدکردار، حاسد، معیوب اور بد گفتار ہوتی ہے۔
دوسری طرف رومیوں کا عقیدہ تھا کہ "عورت کے لیے کوئی روح نہیں بلکہ وہ عذاب کی صورتوں میں سے ایک صورت ہے۔ عورت شادی کے بعد شوہر کی زرخرید غلام ہو جاتی ہے۔ وہ کسی عہدے پر فائز نہیں ہو سکتی گویا کہ اسے تمام معاشرہ میں بنیادی حقوق تک نہیں دیے جاتے تھے”۔فارسی معاشرے میں "باپ کا بیٹی سے اور بھائی کا بہن سے شادی کرنا کوئی غیر مناسب بات نہ سمجھی جاتی تھی”۔اللہ اکبر اسلام نے ان رشتوں کو قابل احترام کہا ہے۔ دنیا میں واحد اسلام ایسا مذہب ہے جو عورتوں کو مکمل تحفظ دیتا ہے۔
ہندو معاشرہ دنیا کے قدیم ترین معاشروں میں سے ہے۔ اس نے بھی عورت کے ساتھ ظلم کو روا رکھا۔ ویدوں کے احکام کے مطابق عورت مذہبی کتب کو چھو نہیں سکتی، شوہر کے وفات پا جانے پر عورت کو زندہ رہنے کا کوئی حق نہیں، اسے بھی شوہر کے ساتھ زندہ جلا دیا جاتا تھا۔ "اگر کوئی کسی متبرک بت کو چھو لے تو اس سے بت کی الوہیت و تقدس تباہ ہو جاتی ہے لہذا اس کو پھینک دینا چاہیے، عورت کو محکومیت و غلامی کا درجہ دیا گیا تھا۔ماں، بیٹی، بہن اور بیوی میں کوئی فرق نہ تھا، بلکہ اس حرکت کو وہ نجات کا ذریعہ تصور کرتے تھے”۔ حبکہ آفاقی مذہب؛ اسلام نے ماں کے قدموں تلے جنت، بہن سے پیار و شفقت کرنے، بیٹی کو رحمت اور بیوی کو دل کا سکون کہا ہے۔ سورت النساء میں اللہ تعالیٰ نے عورتوں کے حقوق کی وضاحت کر دی ہے۔اسلام میں بیوہ عورت کو بالکل عام لڑکی کی طرح زندگی بسر کرنے کی اجازت ہے۔ عدت کے بعد بیوہ عورت دوسری شادی کر سکتی ہے۔سورة البقرة میں ارشاد ہے:
"عورتوں کے لیے بھی معروف طریقے پر ویسے ہی حقوق ہیں جیسے مردوں کے حقوق ان پر ہیں”.
عورت کو زندہ رہنے کا پورا پورا حق دیا گیا ہے۔ میں آج کے انسان سے سوال کرتی ہوں کیوں بیوہ عورت کو زندہ رہنے کا حق نہیں؟؟ اس کا شوہر مر گیا اس میں اس بیچاری کا کیا قصور ہے؟
اک طویل زمانہ ایسا رہا ہے کہ عورت کے متعلق یہ نظریہ قائم تھا کہ وہ انسان نہیں ہے، بلکہ مال و متاع کی طرح ایک شے ہے اور اگر کبھی انسان سمجھ بھی جاتا تو ایک خادم اور باندی سے زیادہ اس کی حیثیت نہ تھی، نہ اس کے پاس علم حاصل کرنے کا موقع تھا اور نہ جماعتی زندگی میں اس کی کوئی حیثیت تھی۔
اس کے برعکس دیکھیے کہ ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے:
"علم حاصل کرنا مسلمان مرد اور عورت پر یکساں فرض ہے”۔
وہ قانونی ملکیت سے قطعی محروم تھی۔عورت بس کھانا پکانے، کپڑے پہننے اور بچوں کی پرورش کے علاوہ وہ دین و دنیا کے تمام امور سے ناآشنا اور جاھل رہتی اور رکھی جاتی تھی! اس طرح فطرت اور قانون الہی دونوں کے خلاف کی زندگی بولتے ہوئے حیوان یا چوپائے کی طرح تھی۔
قرآن پاک میں ارشاد ہے:
"بےشک ہم نے تمہیں ایک نفس سے پیدا کیا”۔
آج اتنے جدید دور میں بھی عورت کو تمام حقوق حاصل نہیں ہیں۔کہیں نہ کہیں عورت کو آج بھی دبایا جا رہا ہے جس کی ہمارا مذہب اسلام بالکل بھی اجازت نہیں دیتا۔مردوں کی برابری آج بھی عورت کو حاصل نہیں ہوئی ہے، اب ہمارے اس زمانے میں عورت نے اپنے حقوق کے متعلق طویل مسافت طے کر لی ہے اور امریکہ کی عورت تمام دنیا کی عورتوں سے زیادہ شاہراہ ترقی پر گامزن ہے اور ان کی رفتارِ ترقی دنیا کی تمام عورتوں کی ترقی سے زیادہ تیز ہے۔ اس لئے کہ مدارس کے علاوہ یونیورسٹیوں تک میں ان کی اکثریت ہے اور انہیں ہر قسم کی سہولتیں حاصل ہیں اور نکاح اور عقد کے معاملات میں بھی ان کے حقوق مردوں کے مساوی ہیں اور شوہر کے انتخاب میں اسی طرح آزاد ہے جس طرح مرد بیوی کے انتخاب میں آزاد ہے۔ لیکن ہم مسلمان آج بھی اپنی بیٹی بہن کا رشتہ کرتے وقت ایک بار یہ بات نہیں سوچتے کہ زندگی اس نے گزارنی ہے جس کو اس رشتے کی خبر بھی نہیں ہے۔ خدارا ایسا نہ کریں ایک بار بس ایک بار اس بے بس لڑکی سے اس کی رضا مندی پوچھ لیں آپ کی عزت نفس وہی رہے گی کوئی کمی نہیں آئے گی اس میں خدارا کچھ وقت کے لیے اپنی انا کو بھول جائیں اور اپنی بہن بیٹی کو یہ حق ضرور دیں جو اللہ سبحان و تعالیٰ نے دیا ہے۔
عورت کی سب سے بڑی کامیابی جون 1917ء سے برطانیہ کے دارالعلوم میں عورت کو حق انتخاب سے بہرہ مند ہونے کا موقع حاصل ہو گیا ہے۔ اسلام نے عورت کے متعلق بھی اعتدال کی راہ اختیار کی ہے۔ قرآن میں عورت بھی مرد کی طرح قابل احترام ہے۔ عزت و احترام کے اعتبار سے مرد اور عورت کی شخصیت میں قرآن نے کبھی اور کہیں فرق نہیں کیا دونوں کو قابل عزت قرار دیا ہے۔ دونوں عمارت تمدن کے معمار ہیں۔ اسلام نے عورت کو جو عزت ومرتبہ دیا ہے وہ کسی اور مذہب نے نہ دیا ہے اور نہ ہی دے سکتا ہے۔
بقول اقبال
وجودِ زن سے ہے تصویرِ کائنات میں رنگ
اسی کے ساز سے ہے زندگی کا سوزِ دروں
مکالمات افلاطون نہ لکھ سکی لیکن
اسی کے شعلے سے ٹوٹا شرار افلاطون
سورت الاحزاب میں بیان کیا گیا ہے کہ "جتنے اوصاف کسی مرد میں ہو سکتے ہیں ہیں اتنے ہی مسلمان خاتون میں بھی ہوسکتے ہیں دینی، اخلاقی اور روحانی ترقی اور اعلی مدارج تک پہنچنے کے لئے جو مواقع مردوں کو میسر ہیں وہ خواتین کے لیے بھی ہیں”۔
اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے:
"جو شخص بھی نیک عمل کرے گا،خواہ وہ مرد ہو یا عورت بشرطیکہ وہ مومن ہو اسے ہم دنیا میں پاکیزہ زندگی بسر کرائیں گے اور آخرت میں ایسے لوگوں کو ان کا اجر ان کے بہترین اعمال کے مطابق بخشیں گے”۔
عورت پر ظلم آج بھی کیا جاتا ہے اس میں کہیں نہ کہیں غلطی عورت کی اپنی ہے۔ آج کل کی لڑکیاں دی ہوئی آزادی کا غلط استعمال کرتی ہیں، اپنے باپ بھائی کی عزت کی پروا کیے بغیر حرام تعلقات قائم کرتی ہیں۔ جس بے حیائی کی ہمارا پیارا مذہب اسلام ہرگز اجازت نہیں دیتا۔اگر لڑکیاں حرام تعلق قائم کرنے سے پہلے ایک بار اپنے بھائی کے چہرے اور اپنے باپ کے بوڑھے وجود کا سوچ لیں تو میں کامل یقین سے یہ بات کہہ سکتی ہوں کہ کبھی کوئی لڑکی اس بے حیائی کی طرف متوجہ نہیں ہو سکتی۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:عورتوں کا تم پر حق ہے کہ تم معروف طریقے سے ان کو کھلاؤ، پلاؤ اور کپڑے پہناؤ۔
اسلام نے چودہ سو سال قبل عورت کا بھی وراثت میں حصہ مقرر کر کے یہ بتا دیا تھا کہ اس کی نگاہ میں اصل قیمت انسان کی انسانیت کی ہے۔ یہ عورتوں پر اللہ کا احسان عظیم ہے۔ میری اللہ سے دعا ہے کہ اللہ جی ہمارے معاشرے کے مردوں اور عورتوں دونوں کو حق و باطل میں فرق و تمیز کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ہر بیٹی کی عزت کو اپنے حفظ و امان میں رکھے۔(آمین ثم آمین)

Comments are closed.