کسان آندولن سو دنوں بعد!!

 

 

محمد صابر حسین ندوی

Mshusainnadwi@gmail.com

7987972043

 

آزاد بھارت میں جتنے بھی آندولن ہوئے وہ کبھی بھی سو دن سے اوپر نہیں گئے، مگر کسان آندولن سو دن مکمل ہونے کے بعد بھی پورے زور و شور کے ساتھ گامزن ہے، گودی میڈیا اور پروپیگنڈہ کے دوران اگرچہ اسے منسوخ، کمزور اور لاغر بتایا جاتا ہے؛ لیکن صحیح بات یہی ہے کہ غازی پور بارڈر، ٹیکری اور دیگر دہلی سرحدوں کے علاوہ مہاپنچایتوں کے ذریعے یہ آندولن لگاتار اپنی وسعت بڑھاتا جارہا ہے، لوگوں کا ہجوم ان کے ارد گرد جمع ہورہا ہے، مذاہب اور ذات پات کی بندشیں توڑ کر اور صوبائی امتیاز ختم کر کے ابھی ان کے ساتھ جڑ رہے ہیں، اتر پردیش میں باقاعدہ ہندو مسلم اتحاد کی مثال بھی دیکھنے کو ملی تھی، مظر نگر دنگوں کے بعد پہلی مرتبہ وہاں ہندو مسلمان متحد ہو کر جے شری اور اللہ اکبر کے نعرے ایک ساتھ لگائے گئے تھے، مگر سوال یہ ہے کہ کوئی آندولن کب تک چل سکتا ہے، اتنے دنوں کے بعد بھی سرکار کے کانوں پر جوں تک نہ رینگی، وہ مسلسل پانچ ریاستوں (بنگال، آسام، تمل ناڈو، کیرلا، پوڈیچری) کے انتخابات میں مصروف ہے، شاید بی جے پی یہ باور کرچکی ہے اور سبھی کو باور کروانا چاہتی ہے کہ سیاسی پاور کے سامنے کسی کی کوئی اہمیت نہیں ہے، بات غلط بھی نہیں ہے، اگر پانچ ریاستوں میں رواں حکومت فتح پاتی ہے تو لازماً یہ آندولن مزید کمزوری اور سیاسی آر پار کی جانب بڑھ جائے گا، اس میں کوئی شبہ نہیں کہ پنجاب، ہریانہ اور اتر پردیش کے کسان لگ بھگ اس پوزیشن میں ہیں کہ اگر سو دن سے زیادہ بھی آندولن چلے تو اسے برداشت کر سکتے ہیں، کھانے پینے کا بندوبست ہوسکتا ہے، سردی اب جاچکی ہے، لو چلنے لگی ہے، آنے والے دنوں میں دھوپ کی تمازت اور سورج کی گرمی اپنے عروج پر ہوگی لیکن احتجاج کرنے والوں کیلئے سب کچھ انتظام کیا جائے گا، کیونکہ سبھی جانتے ہیں بالخصوص ملک کا ہر کسان جانتا ہے کہ یہ آندولن ہی اس کیلئے سب کچھ ہے، یہ ان کی بقا اور حیات کا مسئلہ ہے، اگر ان تین زرعی قوانین پر خموشی برت لی اور اپنے اپنے گھروں کو لوٹ گئے تو کسان اپنا سب کچھ کھو دیں گے، ویسے بھی کسانوں کی حالت بدتر ہے، صرف کیرلا کو چھوڑ کر ملک کے کسانوں کی ماہانہ آمدنی چھ ہزار سے زیادہ نہیں ہے، وہ سب کسمپرسی کے لیے عالم میں ہیں، چنانچہ اگر سو دن بھی ہوگئے تو دو سو اور تین سو دن بھی ہو سکتے ہیں، اگر بی جے پی چناؤ میں کامیاب ہوتی جاتی ہے تب بھی آندولن چلے گا، اور ممکن ہے کہ یہ پوری کمیونٹی اور کسان جماعت خود ایک سیاسی جماعت بن جائے یا پھر ملک بھر کی سیاست پر اثر انداز ہو اور یہ لازمی بن جائے کہ ملک کا ہر سیاست دان کسانوں کے مدعی کو سامنے رکھے، اپنے انتخابی مہم میں اسے پیش کرے، ووٹوں کے وقت لوگوں کو کسانوں کی یاد دلائے؛ یہی وجہ ہے کہ کسان آندولن پنچایت کی سطح پر چلا گیا ہے، راکیش ٹکیت اور ان کے ہمنوا مہاپنچایتوں کے ذریعہ گاؤں کے مکھیا، ایم ایل اے اور دیگر چھوٹے موٹے نیتاؤں کو ٹارگٹ کر رہے ہیں، ظاہر ہے کہ سیاست کی اصل مضبوطی انہیں سے ہوتی ہے، یہ سب بنیاد اور جڑ ہیں، بی جے پی کو فتح دلانے میں ان کا بڑا کردار بھی ہے اگر اس ووٹ بینک کو کاٹ دیا جائے تو بی جے ہی ایک مضبوط بازو سے دور ہوجائے گی.

اس وقت کسان آندولن ہر نہج پر متحرک ہے، وہ گاندھی وادی اور بھگت سنگھ سے لیکر راشٹر وادی جذبات کو بھی ساتھ ساتھ لئے چل رہی ہے، سوچنے کی بات ہے کہ یہ تمام دھارے اگر ایک جگہ جمع ہوجائیں تو پھر کسان آندولن ملک کیلئے اہم کردار ادا کر سکتا ہے، دراصل سیاست میں راشٹر واد اور ترنگے کو شامل کرنے والی جماعت بی جے پی ہے، جس نے ملک بھر میں ہندوؤں کو ایک رنگ میں رنگنے کی دعوت دی، انہیں ایک خیالی دشمن سونپا اور بھگوا رومال لٹکا کر جَے شری رام کے نعرے لگانے پر آمادہ کیا، مگر یہ پہلا موقع ہے کہ کسانوں نے اسی راشٹر واد اور حب الوطنی کے جذبے کو اپنا مہرا بنا لیا ہے، ان کے آندولن کی جگہوں پر ترنگے لہراتے ہوئے نظر آتے ہیں، ساتھ انتظامیہ مضبوط ترین معلوم ہوتی ہے، ٢٦/ جنوری ٢٠٢١ کے ہنگامے کے بعد احتجاجی مقامات پر سی سی ٹی وی کیمرے نصب کردیئے گئے ہیں، جہاں سے مکمل کنٹرول رکھا جارہا ہے، اسی طرح وہ اب صوبہ صوبہ میں جانے کی بات کر رہے ہیں، بلکہ وہ پانچ ریاستوں میں ہونے والے انتخابات کے اندر ان کی چناوی ریلیز میں حصہ لینے کی بھی بات کہہ رہے ہیں، راکیش ٹکیت نے اپنے انٹرویوز کے اندر یہ بات کہی ہے کہ وہ بنگال اور پھر آسام بھی جائیں گے، لطف کی بات یہ ہے کہ وہ ریلیوں میں یہ نہیں کہیں گے کہ کس کو ووٹ دیں؛ بلکہ وہ یہ کہیں گے کہ بی جے پی کو ووٹ نہ دیں، وہاں کے کسانوں سے ملیں گے، لوگوں سے بات کریں گے اور انہیں زرعی قوانین کے نقصانات اور مقاصد بتائیں گے، ساتھ ہی یہ بھی وعدہ کیا ہے کہ جب گیہوں کی فصل نکلے گی تو اسے لے کر لاکھوں ٹریکٹر کے ساتھ کسان دہلی کی طرف بڑھیں گے، اگر انہیں MSP پر خریدار نہ ملے تو پھر ایوان کے سامنے ٹریکٹر لگادیے جائیں گے اور یہ مطالبہ کیا جائے گا کہ نمائندگان ان کے گیہوں فروخت کروائیں؛ کیوں کہ انہوں نے ہی قانون بنایا ہے کہ کسان کہیں بھی اپنی فصل بیچ سکتے ہیں، سچ جانئے! اگر ایسا ہوتا ہے کہ تو یہ ایک دلچسپ موقع ہوگا، ہندوستان کی تاریخ کا سنہرا لمحہ ہوگا جہاں عوام سیاست دانوں کی ناک میں دَم کردیں گے، یہ صورتحال ظاہر سی بات ہے کہ بی جے پی پر بھاری پڑ سکتی ہے، پھر اگلے سال پنجاب اور اتر پردیش کی بھی باری ہے، جہاں سے کسانوں کا مضبوط لگاؤ ہے، اور خود مرکزی حکومت کا انحصار ان پر ہوتا ہے، اگر یہ آندولن بڑھتا گیا تو ایک تاریخی حقیقت سامنے آئے گی کہ لوگوں نے اپنی ضرورت، حق اور تاناشاہی کے خلاف کیسے تاناشاہ کا سر کچلا ہے اور اسے سیاسی محاذ پر ننگا کیا ہے، بات یہی ہے کہ بی جے پی اب فضیحت کا کونسا راستہ منتخب کرتی ہے، اگر اسے لگتا ہے کہ وہ کسی نہ کسی طرح چناؤ جیت کر کامیاب رہے گی اور اسے کسی سے لینا دینا نہیں ہے تو پھر عوام ووٹ دیکر ان کی پگڑی اچھالے گی یا پھر وہ خود زرعی قوانین واپس لے کر اپنی عزت اور انانیت کا گھونٹ پئیں گے.!

 

Comments are closed.