بزرگ خادمِ دین وملت الحاج منشی عبدالغفور راعینی بھی سفرِآخرت پر ۔

 

بہ قلم : مفتی محمدساجدکُھجناوری

مدیرماہ نامہ صدائے حق گنگوہ

 

آج 8/مارچ 2021 صبح کے سوا چھ بجے ایک ایسی دلنواز شخصیت کے داغِ مفارقت کا غم سہنا پڑا ہے جو ستر سال سے طالبانِ دین کی مخلصانہ خدمت نہایت خاموشی سے انجام دے رہی تھی ، یہ نوے سالہ بزرگ الحاج منشی عبدالغفور راعینی تھے جن کا ورقِ حیات پلٹتے ہی آپ کی روشن خدمات کا گوشوارہ مدرسہ انوارالقران نعمت پور ، اس کے وابستگان ، طلبہ واساتذہ اور متعلقین سوگ میں ڈوبے ہیں اور بزبانِ حال کہ رہے ہیں:

 

چمن کے ذرہ ذرہ کو پلایا ہے لہو تم نے

گلوں کی بات کیا، خاروں کو بھی تشنہ نہیں چھوڑا

 

الحاج عبدالغفور راعینی منشی جی کی عرفیت سے نیک نام تھے، لیکن آپ کی شخصیت دانشِ وآگہی کا حسین مجموعہ تھی ، اپنی وضع قطع ، حلیم طبیعت ، صبروشکروالی زندگی اور مؤمنانہ فراست کی منہ بولتی تصویر تھے ، اسی لئے مدرسہ انوارالقرآن کی اپنی سترسالہ وابستگی کے دوران پیش آئے سردوگرم حالات خندہ پیشانی سے جھیلتے رہے ، ان کی زندگی میں پھول بھی تھے اور کانٹے بھی، مگر وہ خود اس شعر کا مصداق تھے کہ

 

مصائب سے الجھ کر مسکرانا میری فطرت ہے

مجھے ناکامیوں پر اشک برسانا نہیں آتا

 

ہردم اپنے رب سے لو لگائے رکھتے ،زبان شکرالہی سے تر رہتی تھی ، مرشدی حضرت مولاناحکیم سیدمکرم حسین سنسارپوری مدظلہ کے خمخانۂ معرفت سے جام پی پی کرخلافت یاب بھی ہوئے ۔

 

منشی عبدالغفور نے یکم اپریل انیس سو پینتیس (1935) میں احمدحسن کے یہاں قصبہ مظفرآباد محلہ مظفری ضلع سہارن پور یوپی میں آنکھیں کھولیں ، مظفرآباد ، رائے پور اور سنسارپور کے مدرسوں میں ابتدائی تعلیم اور حفظ کی تکمیل کرکے سرکاری نصاب کے مطابق پانچویں کا نصاب اعلی نمبرات سے پورا کیا ، اپریل 1955 میں جونیر ہائی اسکول مظفرآباد سے انتہائی نمبرات سے پاس کیا ، اسی طرح جامعہ اردو علی گڑھ کے ادیب کامل وماہر بھی پاس کئے ، 1962 میں ضلع کے مدارس عربیہ کے اساتذہ کی ٹریننگ اور پھر تقسیم اسناد میں آپ کو معتمد مدرس کے خطاب سے سرفراز کیا تھا ، اور ایک سو پچاس مدرسین میں آپ پانچویں نمبر پر منتخب ہوئے تھے ۔

 

الحاج منشی عبدالغفور دینی ماحول کے پروردہ تھے، اس لئے آپ نے عملی زندگی کیلئے مدرسہ تحریک سے وابستگی کو ترجیح دی اور آج سے ستر سال پہلے وہ علاقہ کے مدرسہ انوارالقرآن میں ریاضی کی تدریس کیلئے مامور کئے گئے ، مزید سعادت کی بات دیکھئے کہ حفظ کی تدریس کا موقعہ بھی ہاتھ لگ گیا ، جس سے آپ کا تعلیمی فیض کئی جہات سے متعدی ہوا ، یہی وجہ ہے کہ حضرت مولانامحمدطاہرمظاہری شیخ الحدیث مدرسہ فیض ہدایت رحیمی رائے پور اور حضرت مولانااطہرحسین جمال پوری جیسے اہل علم وفضل آپ کے حلقۂ تلامذہ میں شہرت کا بہترین حوالہ ہیں ۔

 

آپ کی ستھری زندگی ، کام کے تئیں انتہائی جفاکشی اور بے لوث خدمت کو دیکھ کر مشیرانِ مدرسہ نے تقریبا تین دہائی پیش تر مدرسہ کی نظامت بھی سابق مہتمم کی وفات کے بعد آپ کے حوالہ فرمادی تھی، جسے مرحوم والاصفات نے حسن تدبیر سے چارچاند لگائے اور تعلیمات و تعمیرات کی نئی کہکشائیں آباد کیں ۔

 

ہمارے بزرگ منشی عبدالغفور اپنے جلو میں کمالات کا ایک جہان سجائے بیٹھے تھے ، انھیں لکھنے پڑھنے والے احباب سے لوجہ اللہ محبت تھی ، خود بھی قلم وکتاب کے عاشق تھے ، انہیں غالب، فیض احمدفیض، علامہ اقبال ، احمدفراز اور جگر مرادآبادی جیسے شعرا کا کلام خوب یاد تھا ، ملاقات ہوتی تو اہل دل بزرگوں کے واقعات ، ملفوظات اور شعرا کا کلام سنا کر ایک سماں باندھ دیتے ۔ ابھی پندرہ روز بھی نہیں گزرے جب آپ سے ملاقات ہوئی تھی ، اپنے چہرے بشرے سے بالکل کھلے ہوئے تھے ، میں نے آپ ہی کی زبان سے بہت پہلے سنا ذیل کا یہ شعر گنگنایا

 

اللہ تو سب کی سنتا ہے، جرأت ہے شکیل اپنی اپنی

حالی نے زباں سے اُف بھی نہ کی، اقبال شکایت کربیٹھے

 

بس پھر کیا تھا ، پھڑک گئے اور کئی اچھے شعر ہماری سماعتوں کی نذر کئے ۔

 

منشی جی کتب ورسائل کے بڑے دل دادہ تھے ، ان کے حجرۂ خاص میں ملک بھر کے کئی اچھے ماہنامے اور میگزین مطالعہ کی میز پر سجے رہتے تھے ، ماہ نامہ صدائے حق گنگوہ کا کوئی مضمون انھیں اچھا لگتا تو فون پر اس کا اظہار فرماتے۔

انہوں نے کئی موضوعات پر مختصر مضامین بھی لکھے ہیں جن میں "بچوں کو مارسے نہیں پیار سے پڑھائیں” اسی طرح "قومی جھنڈا اور ملکی ترانہ” وغیرہ نے خاصا نام کمایا۔

 

منشی جی کی قلمی خدمات کا سب سے نمایاں کام مولوی محمداسماعیل میرٹھی کی متداول کتاب کی تسہیل وتشریح ہے ، خانصاحب نے اردوزبان کی جو سیریز لکھی ہے ،پانچویں کتاب کی فرہنگ ہمارے ممدوح منشی جی نے شرحِ نایاب کے نام سے بہت خوب لکھی ہے، جسے شمس الرحمن فاروقی جیسے نقادوں نے اہل اردو کا بیش قیمت سرمایہ بتایا ہے ۔یہ آزاد شرح منشی جی کے چون سالہ تعلیمی تجربات کا شاہ کار ہے، علاقہ کے معروف عالم دین مولانامسعودعزیزی ندوی نے 2007 میں اس کی اشاعت کا اہتمام کیا تھا ۔

 

الحاج منشی عبدالغفور اپنی خدمات کا صلہ پانے کی خاطر اللہ کے جوار میں پہنچ گئے ہیں ، مگر آپ کا سینچا ہوا چمن انوارالقرآن نعمت پور، صلبی اولاد واحفاد اور روحانی متعلقین آپ کے حسنات کو بڑھاتے رہیں گے ،پسماندگان میں حضرت مولاناریاض احمدمظاہری ،قاری محمدعارف قاسمی اور مفتی زبیراحمدرشیدی سمیت تین بیٹیاں ہیں ، اللہ مرحوم کی مغفرت فرمائے اورلواحقین کوصبروسکون دے آمین۔

Comments are closed.