عورتوں کے عالمی دن کی تاریخ
کنزالخیر(سمبڑیال)
سو سال پہلے 1900 میں پہلی بار اس کا نظریہ سامنے آیا۔ ایک جرمن سوشل ڈیموکریٹک پارٹی نے عورتوں کے مسائل پر بات کرنے کے لیے ایک کانفرس منعقد کی۔ 1907 میں کلارا زیٹکن جو کہ جرمن مارکسسٹ تھا نے ایک بین الاقوامی کانفرس منعقد کروائی جس میں بہت سی عورتیں اکٹھی ہوئی تھیں۔ اس کانفرنس میں عورتوں کے حقوق کا مطالبہ کیا گیا۔ امریکہ میں عورتوں کی قومی کمیٹی اور سوشلسٹ پارٹی نے پہلے یوم خواتین کا اعلان کیا تھا۔ 28 فروری 1909 میں نیو یارک کی سڑکوں پر اچھی تنخواہ اور مناسب کام کے لیے احتجاج کیا گیا۔ 1910 میں دوسری بین الاقوامی کانفرس جس میں کام کرنے والی خواتین اور پوری دنیا سے 100 نمائندوں نے شرکت کی۔ کلارا زیٹکن نے بین الاقوامی ویمن ڈے کا نظریہ پیش کیا تھا۔ برابری کے حقوق کے لیے یہ دن ہر سال تمام ممالک میں منظم طور پر منایا جاتا ہے۔ انھی کانفرس کی وجہ سے خواتین کو انقلابی نظریات کی طرف دھکیلا۔ انھوں نے کام کے لیے آٹھ گھنٹے دینا، ماں بننے والی عورت بچہ پیدا ہونے سے آٹھ ہفتے پہلے کام کرنا چھوڑ دینا، مادرہوڈ انشورنس کا مطالبہ کیا۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد ٹروٹسکی نے لکھا کہ” 8 مارچ بین الاقوامی عورتوں کے دن اور ملاقاتیں اور کاموں کا پیش نظارا بن گیا تھا۔ ہم نے یہ کبھی نہیں تھا سوچا کہ ویمن ڈے کا افتتاح انقلاب لے آئے گا۔” تب سے اب تک یہ دن عورتوں کے حقوق کے حوالے سے منایا جاتا ہے۔ 1922میں زیٹکن کی مدد سے اس دن باضابطہ چھٹی کا اعلان ہوا تھا۔
Comments are closed.