کچھ تو خیال کیا جائے؟
سلسلہ: میں تجھ کو بتادوں کا اس غم کی دوا کیا ہےـ
عاقب انجمؔ عافی
ہمارے ہاں مسائل کی بھرمار ہے، اور ان کے حل بھی تجویز کیے جاتے ہیں، لیکن ایسے حل کا کیا کیجیے جس سے اسی پرانی بری روش کو ثبات ملتا ہوـ کچھ نہیں، مسائل ویسے کے ویسے رہنے ہیں، ہمارے سامنے رودادِ عالم پڑی ہےـ ضرورت ہے کہ ہم اپنی گذشتہ عظمتِ رفتہ کا مطالعہ کریں، معاصر مسائل کو جانیں، گذشتہ تجویز کردہ لائحہ عمل کو پرکھیں اور پھر کسی نتیجے پر پہنچیں.
ہماری بدقسمی ہے کہ ہم ذی ہوش نہیں ہیں، ہم میں ثابت قدمی نہیں ہےـ ہم میں جمود ہےـ سید سلیمان ندوی اسی بات کا رونا روتے ہوئے لکھتے ہیں کہ:
یورپ کے حکمائے تاریخ کہتے ہیں کہ مسلمانوں کی ترقی و تنزل کا ایک ہی سبب ہے، یعنی غیر قوموں کے ساتھ نسبی میل جول، ہم بھی کہتے ہیں کہ مسلمانوں کی ترقی اور تنزل دونوں کا ایک ہی سبب ہے، اور وہ ہے ان کا فوری اور وقتی جوش! وہ سیلاب کے مانند پہاڑ کو اپنی جگہ سے ہلاسکتے ہیں، لیکن کوہکن کی طرح ایک ایک پتھر جدا کرکے راستہ صاف نہیں کرسکتے، وہ بجلی کی مثل ایک آن میں خرمن کو جلا کر خاک سیاہ کرسکتے ہیں، لیکن چیونٹی کی طرح ایک ایک دانہ نہیں ڈھو سکتے، وہ ایک مسجد کی مدافعت میں اپنا خون پانی کی طرح بہاسکتے ہیں لیکن ایک منہدم مسجد کو دوبارہ بنانے کے لئے مسلسل کوشش جاری نہیں رکھ سکتے، یہ ان سے ممکن تھا کہ محمد علی اور ابو الکلام کے دائیں بائیں گرکر جان دے دیتے، لیکن یہ ان کے بس کی بات نہیں تھی کہ وہ مسلسل آئینی جدوجہد سے ان اسیران اسلام کو چھڑا لائیں.
شیخ الھند مولانا محمود حسن دیوبندی نے جامعہ ملیہ اسلامیہ کے قیام کے وقت ملتِ اسلامیہ ہندیہ کے مرض کی نشاندہی کرتے ہوئے اس کا حل یہ تجویز کیا کہ،
"ضرورت ہے ایک قائم و دائم جوش کی، نہایت صابرانہ ثبات قدم کی، دلیرانہ مگر عاقلانہ طریق عمل کی، اپنے نفس پر پورا قابو پانے کی. غرض ایک پختہ کار بلند خیال اور ذی ہوش بننے کی”ـ
ہم اس قدر غیروں کی روش سے متاثر ہوچکے ہیں کہ ہم اپنوں کو نفرت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، جہنم کے سرٹیفکیٹ کہاں اور "مسلمانوں کا ایک واحد جسم ہونا کہاں”؛ ہم میں اپنی غلطیاں ماننے اور پھر ان کی اصلاح کرنے کی صلاحیت ختم ہوچکی ہےـ ہم سجھتے ہیں کہ اگر ہمیں یقینی طور پر اپنے مسائل کا حل چاہیے تو ہمیں باضابطہ مسلمان بننا پڑے گا، اور وہ ایک ہی صورت ممکن ہے کہ ہم ذی ہوش محمدی بنیں اور اپنے نفس پر مکمل قابو پانے کے ساتھ ساتھ بلند خیال بنیں. آسان الفاظ میں یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہمیں اپنی کجروی ختم کرکے، ایک دوسرے کی اہمیت کو ماننا ہوگا، یعنی توحید باری اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بنیاد بنا کر ایک وحدت قائم کرنی ہوگی. قرآن پاک میں اسی جانب اشارہ ہے:
"اور جو لوگ کافر ہیں (وہ بھی) ایک دوسرے کے رفیق ہیں تو (مومنو) اگر تم یہ (کام) نہ کروگے تو ملک میں فتنہ برپا ہوجائے گا اور بڑا فساد مچے گا”ـ [سورہ انفال،73]
اسی تعلیمِ خداوندی کی محکم بنیاد اور یک رنگی پر ایک لائحہ عمل تشکیل دیا جائے، جس میں کوئی یہ کہنے کا حق دار نہ ہوگا کہ "تم اسکول کے مسٹر جاہل اور میں مدرسے کا ملا عالم”؛ بلکہ بات یہ ہوگی کہ ہمیں ایک فقہ کا ماہر مفتی بھی ضروری ہے اور طب و ریاضی اور دیگر علوم کے ماہرین بھی ضروری ہے، ہاں، سب کی بنیاد دین پر ہوـ دین کا جامہ پہنا دیا جائےـ خدائے وحدہ لاشریک کی توحید کا جامہ پہنا دیا جائے اور ہر چیز کو دین کے تابع کردیا جائے، اور فقط یہ خیال رہے کہ ہم نے آخرت میں سوال کا جواب دینا ہے کہ ہم نے اپنے وقت کو کس طرح دین کی سربلندی کے لئے استعمال کیاـ یعنی ہم قرآنی تعلیمات کے مطابق سب سے پہلے ایک دوسرے کے رفیق بنیں اور ایک دوسرے کی اہمیت کو قبول کریں.
___
نوٹ: مضمون نگار جامعہ ملیہ اسلامیہ میں زیر تعلیم ہے اور سوانحی محقق ہےـ ان سے ٹویٹر پر @AnjumAaqib کے ذریعہ رابطہ کیا جاسکتا ہےـ ان کے مضامین "میں تجھ کو بتادوں گا اس غم کی دوا کیا ہے” کے تحت آتے ہیں..
Comments are closed.